BN

وفاقی کابینہ: براڈشیٹ معاملہ پر کمیٹی قائم؛ جبری گمشدگیوں کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی ہدایت

بدھ 13 جنوری 2021ء





اسلام آباد(سپیشل رپورٹر؍ 92 نیوز رپورٹ)وفاقی کابینہ نے گمشدہ افراد کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان گمشدگیوں کے خاتمے کے لئے قوانین بنانے کی ہدایت کی جبکہ صوبہ سندھ میں ضمنی انتخابات کے حلقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر پاکستان رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی، براڈشیٹ معاملہ پر کمیٹی بنادی گئی۔کابینہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارہ کو مزید با اختیار،خود مختاراور شفاف بنانے کے لئے قانونی ترامیم کی اصولی منظوری دی۔وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق کابینہ اجلاس میں اسامہ ستی واقعہ پر وزیر اعظم نے سخت خفگی کا اظہار کیا اور زور دے کر کہا اگر اسامہ واقعہ پر قائم کی گئی کمیٹی پر ورثا مطمئن نہ ہوں تو ان کی مرضی کے مطابق کمیٹی بنائی جائے ،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسامہ ستی قتل کے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔اعلامیہ کے مطابق کابینہ کو تیل کی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے لئے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا،کابینہ کو بتایا گیا کہ غیر قانونی اور سمگل شدہ تیل کی فروخت سے حکومت کو 180ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ،انسداد سمگلنگ کے لئے اس وقت تک ملک بھر میں 192پٹرول پمپ سیل کر دئیے گئے ہیں۔کابینہ اجلاس میں مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کے 100سے زیادہ ادارے بند یا دوسرے اداروں کے ساتھ ضم کر دیئے گئے ،18ویں ترمیم میں بعض نقائص ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے ،یہ بات بھی ہوئی کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی ملازمین کا حجم کم ہونے کی بجائے بڑھ گیا ۔کابینہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارہ کو مزید با اختیار،خود مختاراور شفاف بنانے کے لئے قانونی ترامیم کی اصولی منظوری دی۔کابینہ نے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020ء کے تحت ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کی شرائط منظور کیں۔اعلامیہ کے مطابق کابینہ نے ایف آئی اے کمرشل بنک سرکل لاہور کو پولیس سٹیشن کا درجہ دینے ، قومی طب کونسل میں ممبران کے انتخابات اور ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری دی۔معاون خصوصی برائے صحت نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں سرنج کے دوباہ استعمال کے خاتمے کے لئے قانون لایا جا رہا ہے ۔کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کے زیر انتظام پبلک سیکٹر کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹر زپر Ex-Officio سرکاریڈائریکٹر ز کی تبدیلی کی منظوری دی۔کابینہ نے نوشہرہ میں وزارت ریلوے کی جانب سے تعمیرات کا معاملہ کمیٹی کے سپرد کر نے کا فیصلہ کیا جس میں وزیر قانون،وزیر تعلیم،وزیر دفاع اور وزیر ریلوے شامل ہونگے ۔وفاقی کابینہ نے پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرزتشکیل دینے کی منظوری دی۔کابینہ نے گمشدہ افراد کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان گمشدگیوں کے خاتمے کے لئے قوانین بنانے کی ہدایت کی۔کابینہ نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے تعلیم کے فروغ کے لئے معارف فاؤنڈیشن ترکی اور وفاقی وزارت تعلیم کے مابین مفاہمتی یاداشت دستخط کرنے کی اجازت دی۔کابینہ نے صوبہ سندھ میں ضمنی انتخابات کے حلقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر پاکستان رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا براڈ شیٹ سکینڈل پر بھی کابینہ میں بات چیت ہوئی،براڈ شیٹ سکینڈل سر د خانے میں چلا گیا تھا۔ شبلی فرازنے کہاکہ براڈ شیٹ سکینڈل پر ایک کمیٹی بنادی گئی، وفاقی کمیٹی دو چار روز میں اپنی فائنڈنگز دے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا وزیر اعظم نے فوڈز پر اگلے پندرہ روز میں قانون کے بارے میں پالیسی بنانے کی ہدایت کی،پالیسی میں وہ تمام نکات کو دیکھا جائے گا کہ اچانک قیمتیں کیوں بڑھیں۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا پی ڈی ایم ہمارے لئے تو کیا پورے ملک کے لئے قصہ پارینہ بن چکی ، کابینہ اجلاس میں پی ڈی ایم پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا ملکی اداروں کو مذاق بنانے والوں سے متعلق مزید انکشافات سامنے لائیں گے ۔انہوں نے مزید کہاکہ پنشن کی ادائیگیاں حکومت کے لئے اہم چیلنج بن رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کو ٹیکس اور ڈیوٹی سے استثنیٰ کی منظوری دے دی گئی۔عمران خان نے کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کر تے ہوئے کہا خطرہ ابھی ٹلا نہیں، ماسک کی پابندی ہر صورت یقینی بنائی جائے ۔آن لائن کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے ملک گیر بریک ڈائون کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے ابتدائی رپورٹ کابینہ میں پیش کر دی، اس دوران وزیر اعظم اور وزراء نے عمر ایوب سے سخت سوالات کئے ۔ براڈشیٹ معاملے پر وزیر اعظم نے کہا حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے ،وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کو اس حوالے سے ٹاسک سونپ دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ کو سانحہ مچھ اور کوئٹہ دورے پر اعتماد میں لیا۔ اجلاس کے دوران بولنے پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر شیریں مزاری کو چپ کرادیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا شیریں مزاری! آپ ہربات پر بول پڑتی ہیں۔وزیر اعظم نے وزرا کو کارکردگی پر توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ وزرا حکومتی بیانیہ کو ہر فورم پر اجاگر کریں۔ اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہاکہ عوام کیلئے ذاتی اور سستی رہائش کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے ملاقات کی ۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا سیل کے مطابق وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے وزیرِ اعظم کو ہاؤسنگ منسٹری کے تحت جاری متفرق منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا،وزیرِ اعظم کے تفویض کردہ اہداف کے مطابق وفاقی حکومت کے ملازمین کیلئے جاری منصوبوں پر پیش رفت کو وزیرِ اعظم نے سراہا۔ وزیرِ اعظم نے کہاکہ عوام کیلئے ذاتی اور سستی رہائش کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔معلوم ہواہے کہ وزیراعظم کے زیر صدارت پٹرول بحران پر مبنی وزراء کی کمیٹی کا بھی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پٹرول بحران کمیشن رپورٹ پر کمیٹی نے وزیراعظم کو بریفنگ دی۔وزراء نے کمیشن رپورٹ ،اداروں اور افسران کے بیانات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی آج اپنی سفارشات وزیراعظم کو ارسال کر دے گی جبکہ امکان ہے کہ وزیراعظم کل پٹرول بحران کمیشن رپورٹ پر اپنا فیصلہ سنا دیں گے ۔ وزیراعظم نے وزرا سے ملاقات بھی کی جس میں ملکی سیاسی و سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے وزراکوحکومتی پالیسیوں کے مطابق سرگرمیاں انجام دینے کی ہدایت کی اور کہا حکومتی پالیسیاں عوامی مفادمیں ہیں، عملدرآمدکیاجائے ،وزراحکومتی فیصلوں کی مکمل اونرشپ لیں۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں

آج کے کالم