BN

آصف محمود

متحدہ مجلس لطائف؟

هفته 23 جون 2018ء
متحدہ مجلس عمل؟ یہ ایک سیاسی اتحاد ہے یالطائف کا کوئی مجموعہ؟ فرض کریں یہ سارے بزرگ مل کر بیٹھے ہیں اوراسلامی انقلاب لانے کے لیے مسلسل غور و فکر فرما رہے ہیں۔سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے ہیں تا کہ اجتماعی بصیرت سے ایک لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہماری کارکردگی کیا رہی اور اگلے پانچ سالوں کے لیے ہمارا ایجنڈا کیا ہے۔ چشم تصور سے دیکھیے اس نشست کے بانکپن کا عالم کیا ہو گا۔ سب سے پہلے قبلہ سراج الحق اٹھیں گے ۔ وہ جناب امیر العظیم سے کہیں گے
مزید پڑھیے


کارکن کی اوقات کیا ہے؟

جمعه 22 جون 2018ء
ہم اپنے اپنے سیاسی آقائوں کی خوشامداور چاپلوسی جیسی گونا گوں مصروفیات سے چند لمحے نکال سکیں تو ایک سوال ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے اس سیاسی بندو بست میں ایک عام سیاسی کارکن کی اوقات اور حیثیت کیا ہے؟کیا ایک کارکن کا کام یہی ہے کہ کسی ایک کے حصے کا بے وقوف بن کر کسی دوسرے کے حصے کے بے وقوف سے الجھتا رہے ؟سیاست دولت مند طبقے کے محل کی کنیز بن چکی ہے اور کارکن کی حیثیت کسی فکری مزارع سے زیادہ نہیں۔کارکن اپنے اپنے آقا کی خاطر ایک دوسرے سے الجھتا
مزید پڑھیے


عمران خان کو رہا کرو

منگل 19 جون 2018ء

عمران خان کا المیہ یہ نہیں کہ وہ کرپٹ یا بد دیانت ہیں۔ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ہیرو ہیں۔ جب تک اس عارضے سے نجات کی کوئی صورت نہیں نکلتی ، ان کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ہیرو کا پہلا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عام آدمی سے دور رہتا ہے۔ سیاست دان عام آدمی سے راہ و رسم رکھتا ہے۔ دکھاوے کا سہی ، مگر اس کا عام آدمی سے ایک تعلق اور رشتہ کسی نہ کسی شکل میں بر قرار رہتا ہے۔ ہیرو مگر اس تکلف سے بے نیاز رہتا ہے۔ہیرو لوگوں کی
مزید پڑھیے


رویت ہلال ۔۔۔۔ چند سوالات

هفته 16 جون 2018ء

رویت ہلال کا مسئلہ ہر سال پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔اب لازم ہے کہ بطور قوم ہم چند سوالات پر ٹھنڈے دل سے غور کرلیں۔ 1۔مسجد قاسم خان والوں کو صرف عید الفطر کا چاند ہی پہلے کیوں نظر آتا ہے۔محرم سے ذی الحج تک کسی اور چاند پر کبھی اختلاف کیوں نہیں پیدا ہوا؟یہ اس معاملے کا انتہائی اہم پہلو ہے۔کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا صرف عید کے چاند پر فوکس کرتا ہے اور یہی چاند وہاں پہلے نظر آ جاتا ہے؟کیا اس میں شہرت کے حصول کی کوئی تمنا
مزید پڑھیے


قاری اور قرآن

جمعه 15 جون 2018ء
یہ ستائیس رمضان کی مبارک صبح تھی۔ میری بڑی بیٹی عروہ نے اٹھتے ہی بتایا کہ آج اس کا قرآن کریم مکمل ہو جائے گا۔میں خوشی ، حیرت اور مسرت سے اس ننھے وجود کو دیکھتا ہی رہ گیا۔یہ محض ایک خبر نہ تھی۔ اس میں سورہ رحمن کی تفسیر چھپی تھی: اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے۔ علی ، عائشہ اور عروہ تینوں تجوید کے ساتھ اللہ کا کلام پڑھ رہے ہیں۔ میری کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ میرے بچے انگریزی انگریزوں کے لہجے میں بولیں۔ بس اتنا ہے کہ
مزید پڑھیے


الیکشن کمیشن کہاں ہے؟

بدھ 13 جون 2018ء
فرض کریں میرے حلقے سے تین مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار حصہ لے رہے ہوں اور ان کا کردار ایسا ہو کہ میں ان میں سے کسی ایک کو بھی ووٹ دینا پسند نہ کروں۔اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا ریاست نے مجھے کوئی آپشن دے رکھا ہے یا میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیںکہ یا توان تین نابغوں میں سے کسی ایک کو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ بنا لوں یا پھر بے بسی سے اس سارے معاملے سے لاتعلق ہو کر گھر بیٹھ کر کڑھتا رہوں ؟ الیکشن کمیشن نے2013 ء کے انتخابات
مزید پڑھیے


دس کروڑ یہ گدھے۔۔۔۔۔

هفته 09 جون 2018ء

کبھی آپ نے غور فرمایا کہ ہمارے مسائل کیا ہیں اور ہم بحث کن چیزوں پر کر رہے ہیں؟کیا اب کسی آئن سٹائن کا انتظار ہے جو آ کر بتائے کہ ہمارا انجام کیا ہو گا؟ کل شام سرگودھا پہنچا۔ ہر چیز بدل چکی۔ گاڑی چلتی رہی اور دل ڈھلتے سورج کی طرح ڈوبتا رہا۔ذر خیز زمینیں برباد ہو رہی ہیں۔جہاں لہلہاتے کھیت اور قطار اندر قطار کینو کے با غات ہوا کرتے تھے وہاں یاروں نے ہائوسنگ سوسائٹیاںبنا ڈالیں۔ جب جب یہاں آتا ہوں کچھ نئے باغات کو اجڑا دیکھتا ہوں اور کچھ مزید کھیت برباد ہو چکے ہوتے
مزید پڑھیے


کاغذات نامزدگی …سب مایا ہے

منگل 05 جون 2018ء
کاغذات نامزدگی میں کی گئی تبدیلیاں اس وقت زیر بحث ہیں۔کیا ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ کاغذات نامزدگی میں یہ خوفناک تبدیلیاں کیسے واقع ہوئیںاورکیاہمیں معلوم ہے قانون سازی کے نام پر کی گئی اس واردات میں کون کون ملوث ہے؟ کیا اس واردات میں صرف مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ملوث ہیں یا یہ قوم کے ساتھ کی گئی ایک اجتماعی واردات تھی جس میں حکمرانوں کی تجربہ کاری کے ساتھ ساتھ صالحین کا زہد و تقوی اور نونہالان انقلاب کا جنون بھی مکمل طور پر شریک تھے؟ کھڑے کھڑے یہ قانون سازی نہیں ہوئی۔ یہ ترمیمی مسودہ
مزید پڑھیے


کیا ہم بنجر ہونے جا رہے ہیں؟

جمعرات 31 مئی 2018ء
بھارت نے تو ہمارے ساتھ جو کرنا تھا کر چکا ، کیا ہمیں احساس ہے کہ اب افغانستان ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہا ہے ؟ کیا ہم نے طے کر لیا ہے کہ اپنے کھیت کھلیان اور باغات تباہ کروانے کے بعد ہم سب نے پیاس سے مر جانا ہے۔ کیا ہم اجتماعی خود کشی کا آخری فیصلہ کر چکے ہیں؟ پہلی بار یہ خبر 2010 ء کے موسم گرما میں سامنے آئی کہ افغانستان دریائے کابل پر ایک یا دو نہیں ، پورے بارہ ڈیم بنانے جا رہا ہے اور اسے اس کام میں بھارت کی معاونت حاصل
مزید پڑھیے


آفرین ہے اس تجربہ کاری پر

بدھ 30 مئی 2018ء
خبر ہے کہ عابد شیر علی نے فیصل آباد میں ایک پولیس اہلکار کو تھپڑ جڑ دیا۔سوا ل یہ ہے کہ یہاں پولیس اہلکار کی جگہ رینجرز یا فوج کا کوئی جوان کھڑا ہوتا تو عابد شیر علی تو کیا ، ان کے والد بزرگوار جناب چودھری شیر علی صاحب کو بھی جرات ہوتی کہ اسے تھپڑ مارتے؟ تھپڑ تو رہا ایک طرف کیا ان میں اتنی ہمت بھی ہوتی کہ اسے گھور کر بھی دیکھ سکتے؟ چند منظور نظر بیوروکریٹس پر نیب نے ہاتھ ڈالا تو تخت لاہور سے قصابوں کی بارات جیسا شور اٹھا کہ یہ تو افسران
مزید پڑھیے