BN

آصف محمود


سلطنت عثمانیہ سے اسرائیل تک


گیارہ ستمبر 1917 کو،جب سلطنت عثمانیہ کی فوجیں پسپا ہوئیں تو جنرل ایلن بی ایک فاتح کی حیثیت سے یروشلم میںداخل ہوا ۔ عرب دنیا نے اس لڑائی میں جس برطانیہ کا ساتھ دیا اسی برطانیہ نے بعد میں اعلان بالفور کے ذریعے فلسطین میں اسرائیل بنا ڈالا۔آج عرب دنیااس اسرائیل کے آگے بے بس ہے۔ کچھ اسے تسلیم کر چکے ہیں اور کچھ کی بابت خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی کر لیں گے۔عربوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف اس بغاوت کو ’’ الثورہ العربیہ الکبرہ‘‘ عظیم عرب بغاوت کا نام دیا ۔ اس عظیم
هفته 28 نومبر 2020ء

آج ایک کام کیجیے

جمعرات 26 نومبر 2020ء
آصف محمود
ایک کام کیجیے۔ آپ اپنی سوچ اور صلاحیت کے مطابق ایک فہرست بنائیے کہ پاکستان کو درپیش دس بڑے مسائل یہ ہیں۔ اس کے بعد آپ گھر کے کسی پرسکون گوشے میں بیٹھ جائیے اور سوچیے کہ کیا کبھی یہ مسائل پارلیمان میں زیر بحث آئے ؟ کیا کبھی کابینہ نے ان پر سنجیدگی سے غور فرمایا؟ کیا کبھی پاکستان کی فکری اشرافیہ نے ان پر بات کی ؟ کیا کبھی کسی ٹاک شو میں ان پر سنجیدہ مکالمہ ہو سکا ؟ حتی کہ کیا ہم نے اپنی نجی محفلوں میں کبھی ان پر بات کرنے کی زحمت کی؟ نمونے کے
مزید پڑھیے


اورکنول جھیل بحال ہو گئی۔۔۔۔۔

منگل 24 نومبر 2020ء
آصف محمود
کنول جھیل بحال ہو گئی۔۔۔۔۔صبح دم خبر پڑھی تو سیدھا یہاں آن پہنچا۔جاڑے کا موسم اب کی بار جلد ہی آ گیا ہے۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور سردی کی لہر وجود میں اتر رہی تھی لیکن صبح کی پھوار اور یادوں کی رم جھم ہاتھ تھام کر جھیل کنارے لے آئیں۔ سی ڈی اے نے ویرانہ آباد نہیں کیا ، ہم آوارہ گردوں کے دل کی دنیا آباد کی ہے۔سی ڈی اے : بہت شکریہ! مجھے یاد آیا کہ دو سال قبل میں پندرہ سال کے وقفے کے بعد اس جھیل کو تلاش کرتا یہاں پہنچا تھا تو
مزید پڑھیے


اس قوم کو کوئی تعزیت کے آداب سکھائے

هفته 21 نومبر 2020ء
آصف محمود
زوال کی یہ انتہاء ہے کہ گدھوں کی طرح یہاں لوگ کفن نوچنے آ جاتے ہیں۔ِ سوچ رہا ہوں کوئی ہے جو اس قوم کو تعزیت کے آداب سکھا سکے؟ خادم حسین رضوی اپنے اللہ کے حضور پہنچ چکے ۔ یہ وقت وداع ہے۔ اس لمحے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ لازم ہے کہ زبان سے خیر نہ نکل سکے تو زبان تھام لی جائے۔ ہر موقع زہر تھوکنے کا نہیں ہوتا۔ ہر وقت ترکش خالی نہیں کیے جاتے۔ کبھی وجود کو تھام بھی لیا جاتا ہے۔یہ بات ہماری بنیادی قدروں میں سے ہے کہ جانے والے کی خوبیوں کو یاد
مزید پڑھیے


دھوکے کھا کر میں بھی کچھ چالاک ہوا

جمعرات 19 نومبر 2020ء
آصف محمود
گلگت بلتستان انتخابات میں اہم سوال یہ نہیں کہ کون جیتا۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے طے کر رکھا ہے ہم نے انتخابات اسی طرح ’’آزادانہ اور منصفانہ ‘‘ انداز سے کرانے ہیں یا ہم انتخابی اصلاحات کا بھاری پتھر بھی اٹھا پائیں گے۔ مرحوم ضیاء الحق صاحب ، جب ریفرنڈم میں تاریخی کامیابی حاصل کر چکے تو ایک محفل میں انہوں نے شرکاء سے گواہی طلب فرمائی کہ کیا یہ انتخاب آزادانہ اور منصفانہ تھا۔عبد القادر حسن بھی موجود تھے۔ ضیاء الحق صاحب نے ان سے براہ راست مخاطب ہو کر یہی سوال پوچھا تو عبد القادر
مزید پڑھیے



حارث رئوف ! جیتے رہو

منگل 17 نومبر 2020ء
آصف محمود
حارث نے شاہد آٖفریدی کو آئوٹ کیا ، اس کا تعلق کرکٹ سے ہے لیکن آئوٹ کرنے کے بعد حارث نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اُس کا تعلق حفظ مراتب اور تہذیب نفس سے ہے۔کرکٹ تو ہر طرف زیر بحث ہے سوال یہ ہے کیا حفظ مراتب کے باب میں ہم حارث سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟تحریک انصاف کے وابستگان تو معیشت کے مسائل بھی کرکٹ کی زبان میں سلجھا رہے ہوتے ہیں، کیا وہ غور کریں گے کامیابی کے ساتھ تہذیب نفس کی دولت بھی میسر آ جائے تو آدمی کیسے سرخرو ہو جاتا ہے؟ وکٹیں تو سب ہی
مزید پڑھیے


باچا خان ۔۔۔۔’’آپ بیتی‘‘ کی روشنی میں

هفته 14 نومبر 2020ء
آصف محمود
برصغیر کے مزاج میں انتہا پسندی اور غلو ہے۔یہاںہجو اور قصیدے کے بیچ کچھ تلاش کرنا آسان کام نہیں رہا۔یہی معاملہ باچا خان مرحوم کے ساتھ ہوا،جو انہیں چاہتے ہیں وہ عظمت کا ہمالہ تراشے بیٹھے ہیں اور ان میں کسی غلطی کا احتمال تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور جو انہیں پسند نہیں کرتے وہ ان کی خوبیوں کے اعتراف سے بھی قاصر ہیں۔نفرت اور عقیدت سے ہٹ کر،آئیے آج،باچا خان کی’’ آپ بیتی‘‘ کی روشنی میں باچا خان کو تلاش کرتے ہیں۔ ’’آپ بیتی‘‘ کو ہند پاکٹ بکس نے 1969 میں دلی سے شائع کیا ۔250 صفحات پر مشتمل
مزید پڑھیے


ہمارا فہم ِ اقبال

منگل 10 نومبر 2020ء
آصف محمود
یوم اقبال تو ہم منا چکے ، سوال یہ ہے ہم اقبالؒ کی فکر سے کتنے آگاہ ہیں؟ کیا ہمیں اقبال ؒ اور اس کی فکر سے کوئی راہ و رسم ہے یا ہم برائے وزن بیت اقبال ؒ کا نام لیے جا رہے ہیں؟ اقبال کے فکری کام کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں : نثر اور شاعری۔تو پہلا سوال یہ ہوا کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اقبال کی نثر کو پڑھ رکھا ہے؟معیشت اور مذہب سے لے کر تربیت تک اقبال کی نثر دعوت فکر دے رہی ہے۔کیا ہمیں کچھ
مزید پڑھیے


امریکہ کی ’’ٹرومنائٹ ڈیپ سٹیٹ‘‘؟

هفته 07 نومبر 2020ء
آصف محمود
امریکہ کے صدارتی انتخابات سے مجھے مائیکل گلینن کی کتاب ’’ نیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈبل گورنمنٹ‘‘ یاد آ گئی۔معلوم نہیں ہیلری کلنٹن کو یہ کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا یا نہیں لیکن سٹریٹیجک سٹڈیز کی لائبریری میں بیٹھ کر پڑھی گئی کتاب کے مندرجات پڑھ کر آدمی کو بڑی تفصیل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ امریکہ کتنی ’’ ڈیپ سٹیٹ ‘‘ ہے۔ آغاز ہی میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ یہ کتاب کسی امریکہ مخالف جذباتی سے صحافی نے نہیں لکھی ۔اس کا مصنف ٹفٹ یونیورسٹی کے فلیچر سکول آف لاء اینڈ ڈپلومیسی کا پروفیسر ہے ، امریکی
مزید پڑھیے


سعود ۔۔۔ ساحر تھا

جمعرات 05 نومبر 2020ء
آصف محمود
خدا ان کی قبر منور کرے ، سعود ساحر بھی چل دیے۔ جس نسل کا صحافت سے تعارف الیکٹرانک میڈیا کی چکا چوند سے ہوا ان کی بات الگ ہے لیکن قلم سے جنہیں واسطہ رہا وہ خوب جانتے ہیں یہ کون دلاور تھا جو قبیلے سے اٹھ گیا۔ سعود ساحر کو جن لوگوں نے پڑھ رکھا ہے انہیں معلوم ہے وہ واقعی ساحر تھا۔ایک وقت تھا جو سعود ساحر کا وقت تھا۔میرے جیسے طالب علم وفور شوق میں ان کی تحریر پڑھا کرتے۔ جب وہ برہم ہوتے ان کی تحریر کا حسن بڑھ جاتا۔وہ جتنے برہم ہوتے تحریر اتنی ہی دل بستہ
مزید پڑھیے