BN

احمد اعجاز


مذہبی سیاست اور ملک کی بقا


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہبی علماء کی سیاست اور اِس سیاست کے سماجی و ثقافتی اثرات کو اس انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔مغل بادشاہت کے دَور سے انگریزسرکار کے اقتدار تک ،وہاں سے تقسیمِ ہند اور تخلیقِ پاکستان کے بعد ضیاء الحق کے اقتدار تک اور ضیاء کے دَور سے نائین الیون اور مابعد نائین الیون کے زمانہ تک۔مگرمذہبی سیاست نوآبادیاتی دور سے اہمیت اختیار کرگئی تھی،علماء کو سیاسی جماعتوں کا حصہ بنایا جانے لگاتھاتاکہ مذہبی سوچ رکھنے والے عوام کی مدد حاصل کی جائے۔جو مسلم عوام تھے ،اُن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلم لیگ او
منگل 02 نومبر 2021ء مزید پڑھیے

شیخ رشید صاحب کو سلام!

جمعرات 28 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
شیخ رشید بھی وزیرِ داخلہ ہیں۔یہاں ’’بھی‘‘ پر غور کی ضرورت ہے۔حالانکہ یہاں ایسی ہی کئی ’’شخصیات‘‘بڑے بڑے عہدوں اور وزارتوں پر براجمان رہی ہیں۔اس وقت بھی عثمان بزدار جیسی ’’شخصیت‘‘پنجاب کی سب سے بڑی مسند پر جلوہ افروز ہے۔لیکن اس کے باوجود میرے تئیں شیخ رشید وزیرِ داخلہ ہیں،جملہ اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا،جب تک بیچ میں ’’بھی‘‘نہ ڈالا جائے۔یہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ایک ایسی جماعت جو پاکستان بھر میں صرف ایک حلقہ تک محدود ہے ۔ایک سیٹ کی بنیاد پر یہ ملک کے وزیرِ داخلہ ہیں۔ دوہزار اَٹھارہ کے انتخابات کے بعد ،اِنھوں نے ایک
مزید پڑھیے


ملبے میں دَبی ہوئی زندگی

پیر 25 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
ہم صبح دَم رزق کی تلاش میں گھرسے باہر جوں ہی قدم دھرتے ہیں مسائل کی چیونٹیاں بدن سے چمٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔گلی میں موجود گاڑی کے آگے پیچھے اس فاصلے پر گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں کہ گاڑی آگے جاسکتی ہے نہ ہی پیچھے۔دونوں گاڑیوں کے مالکان کے گھروں کے دورازے بجا بجا جب تھک جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی ایک آنکھیں ملتا،باہر نکلتا ہے ،ناگوار ی سے صورتِ حال پر نظر ڈال کر اندر سے چابی لینے جاتا ہے تو واش روم سے ہو کر آتا ہے ،پھر گاڑی کو سٹارٹ کرنے میں ایک مخصوص وقت لگاتا
مزید پڑھیے


سیاسی نظام کی بڑی خرابی

پیر 18 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
ملک کا سیاسی نظام 1970ء میں ہونے والے عام انتخابات سے شروع ہوتا ہے ،مگر اس میں تسلسل 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات سے شروع ہو کر 1997ء تک رہتا ہے۔ بعد ازاں 2002ء میں آمریت کے سائے میں الیکشن ہوتے ہیں ،تو یہ تسلسل ایک بارپھر شروع ہوتا ہے اور 2018ء تک پہنچ کراگلے انتخابات پر محیط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔انتخابات کی اس تاریخ میں تین موڑ ایسے آتے ہیں جو سیاسی نظام کو مکمل طوپر غیر مفیدبنا کررکھ دیتے ہیں۔انتخابی تاریخ میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ،سیاسی نظام میں شخصی تصور کومضبوط کرکے ،ووٹر کے شعوری
مزید پڑھیے


حکومت بوکھلاہٹ کا شکار کیوں نہیں؟

جمعرات 14 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
ہر وہ شخص جو ملکی سیاسی صورتِ حال پر نظر رکھتا ہے ،حکومتی بوکھلاہٹ کو محسوس نہیں کر پارہا ،حالانکہ حکومت کے لیے یہ وقت گھبرانے اور بوکھلاہٹ میں مبتلا ہونے کا ہے۔سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت بوکھلاہٹ میں کیوںگھِری ہوئی نہیں دکھائی دیتی؟ ذرا توقف کریں!ہم دوہزار تیرہ میں منتخب ہونے والی حکومت پی ایم ایل این کی پانامہ پیپرز سے پہلے کی بوکھلاہٹ پر ایک اجمالی نظر ڈالنے کی کوشش کے ذریعے موجودہ حکومت بوکھلاہٹ زَدہ کیوں نہیں ،پرغور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مئی دوہزار تیرہ میں منتخب ہو کر سامنے آنے والی حکومت کا خیال تھا کہ
مزید پڑھیے



حکومت کے لیے اہم سال

پیر 11 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اپنے اقتدار کے اُس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ،جہاں تنقید کی خاردار جھاڑیاں ہیں۔کسی بھی حکومت کے لیے اقتدار کاتین برس کا عرصہ ،اُس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔مگر اقتدار کا چوتھا برس ،گذشتہ تین برس کی کارکردگی کو یکسر نیا پیراہن اُوڑھا سکتا ہے۔تاہم ماضی کی حکومتوں کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ اُن کے اقتدار کا چوتھا برس یا تو آیا نہیں اگر آیا تو حکومتیں بحرانوں میں گھِری رہیں۔دوہزار آٹھ سے دوہزار اَٹھارہ تک دوسیاسی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن برسرِ اقتدار
مزید پڑھیے


کنواں ہی قبر بن جاتا ہے

هفته 09 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
ہم روزانہ کی بنیاد پر کنواں کھودنے کی اپنے تئیں بھرپورسعی کرتے ہیں ،شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے ،ہماری کمر خمیدہ ہوجاتی ہے ،بازوئوں میں سکت دَم توڑ جاتی ہے ،ہاتھوں میں چھالے پڑجاتے ہیں ،مگر پانی نیچے اور بہت ہی نیچے رہتاہے ،ہم باقی ماندہ سعی اگلے دِن پر چھوڑ کر گھروں کی اُور چل دیتے ہیں ،گھروں میں قدم پڑتا ہے توبیویوں کے چہرے اُتر جاتے ہیں ،مائوں کی آنکھیں بے بسی کے خیموں کا رُوپ دھار لیتی ہیں،ہم گھر کے کسی کونے کھدرے میں رات کی آغوش میں جاتے ہیں، خوابوں میں بھی کنواں کھودنا شروع کردیتے
مزید پڑھیے


ایک اُجڑے دیار کا دانشور

منگل 05 اکتوبر 2021ء
احمد اعجاز
گزشتہ رو ز ایک روزنامہ میں سینئر صحافی کا کالم ڈاکٹر خیال امروہوی کے حوالہ سے نظر سے گزرا تو ڈاکٹر خیال امروہوی کے ساتھ گزرا وقت یادآگیا،یہ نہیں کہ اِن کی یاد کبھی محو ہوئی ہو،تاہم مذکورہ کالم کی خواندگی نے تیز ہوا کے جھونکے کی مانند یادوں کا دروازہ کھول دیا۔ڈاکٹر خیال امروہوی لیہ کے جس محلے میں رہائش پذیر تھے،وہ لیہ کا غریب ترین محلہ تھا۔یہ درحقیقت ذوالفقارعلی بھٹو کی ’’پانچ مرلہ سکیم ‘‘والا محلہ تھا۔جس دَور میں خیال صاحب نے یہاں سکونت اختیار کی ،ریت کے ٹیلے اور سرکنڈوں کے جھنڈ وں کے ماسوا کچھ نہ
مزید پڑھیے


افلاطون سے جان ڈیوی اور ہم

جمعرات 30  ستمبر 2021ء
احمد اعجاز
افلاطون کے تعلیمی فلسفے میں نصاب اور طریقہ تدریس بہت اہم تصور کیے جاتے ہیں ۔افلاطون کا تعلیمی فلسفہ سولہویں صدی تک آتا ہے ۔ افلاطون حکمرانوں اور اربابِ اختیار کی تعلیم کا طرفدار تھا۔وہ ریاستی اُمور چلانے والوںکو باشعور اور پڑھا لکھا دیکھنا چاہتا تھا۔اُس کے نزدیک پروفیشنل تعلیم کی اہمیت تھی۔افلاطون تعلیمی نصاب کے حوالے سے مختلف مراحل کا قائل تھا،یعنی ہرمرحلہ دوسرے مرحلے سے مختلف ہو۔یوںاُس نے تعلیم کو مختلف مراحل میںتقسیم کیا اور ہر مرحلے یعنی سٹیج کے لیے نصاب کومخصوص کیا۔نصاب سازی کے ضمن میں اُس کانظریہ ،یہ تھاکہ وہ ہر مرحلہ پر ذہنی اور
مزید پڑھیے


وزیرِ اعظم سے انٹرویو

پیر 27  ستمبر 2021ء
احمد اعجاز
عمران خان صاحب جب سے وزیرِ اعظم بنے ہیں ،اِن کی تقاریر،انٹرویوز اور ٹیلی ویژن پر براہِ راست عوام کے سوالات کے جوابات ہی زیرِ بحث رہتے ہیںکہ وزیرِ اعظم کے چاہنے والے تقریروں اور انٹرویوز کو سراہتے نہیں تھکتے ۔ ہم یہاں دوہزاراَٹھارہ کے بعد لمحہ ٔ موجود تک وزیرِ اعظم کے اُن انٹرویوز کے حوالے سے بات کرتے ہیں ،جو میڈیا کے اینکرز کو یہ مختلف اوقات میں دیتے رہے ہیں۔اِن میں سے زیادہ تر سوالات موجودہ سماجی و سیاسی صورتِ حال سے مطابقت تک نہیں رکھتے تھے اور ایسا بھی نہیں تھا کہ اِن میں سے چند ایک
مزید پڑھیے








اہم خبریں