BN

احمد اعجاز


انتخابات میں دھاندلی کا قصہ


حالیہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کودوبڑی پارٹیوں نے دھاندلی زَدہ قراردے کر مسترد کردیا۔انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ آج کا نہیں ۔ملک میں عام انتخابات کی تاریخ پر نظردوڑائی جائے تو یہ مسئلہ سرفہرست رہا ہے۔مثال کے طورپر اُنیس سوستر کے انتخابات میں یہ مسئلہ د وصورتوں میں سامنے آیا۔نمبر ایک،مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے علاوہ دوسری جماعتیں انتخابی مہم ہی نہ چلا سکیں اور پولنگ ڈے پر دوسری جماعتوں کو ووٹ نہ پڑنے دیا گیا۔کئی مقامات پر ہنگامہ آرائی بھی ہوئی ۔نمبر دو،مغربی پاکستان میں دائیں نقطہ نظر کی جماعتوں کو یحییٰ خان کی جانب
جمعرات 19 نومبر 2020ء

بندگلی میں دَم کیسے گھٹتا ہے؟

جمعرات 05 نومبر 2020ء
احمد اعجاز
ماہِ مئی میں انتخابات ہوتے ہیں ،پی ایم ایل این برسرِ اقتدار آتی ہے ،مگر جلد ہی دھاندلی کا شُور اُٹھتا ہے اور دوہزار چودہ میں دوپارٹیاں، پی ٹی آئی اور پی اے ٹی، اسلام آباد کی اُور یلغار کرتی ہیں،ایک برس قبل منتخب حکومت اِ ن دونوں جماعتوں کے نزدیک جعلی ٹھہرتی ہے۔سولہ دسمبر دوہزار چودہ کو اے پی ایس کا سانحہ رُونما ہوتا ہے تو پی ٹی آئی کا دھرنا اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔اگست سے دسمبر تک کا ساراعرصہ نعرے ،تقریروں،گالم گلوچ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ، ایک طرف طاہرالقادری اور عمران خان تقریریں کرتے
مزید پڑھیے


حکومت کا مسئلہ کیا ہے!

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
احمد اعجاز
اس وقت گیارہ سیاسی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم ، حکومت کو ایک امتحان میں ڈال چکا ہے۔پی ڈی ایم کا احتجاج اور جلسے جلوس ،ماضی کے سیاسی اتحادوں کے احتجاج اور جلسے جلوسوں سے مختلف ہیں،جبکہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات ختم کرنے اور بات چیت کرنے کے بجائے ،اُن کو اپنا اور قوم کا دُشمن تصور کرچکی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ حکومت ایسا کیوں کررہی ہے؟ اس ضمن میں کہا جاسکتا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا مزاج ہی ایسا ہے،وہ لڑنا جانتے ہیں،’’مذاکرات کی میز‘‘ اُن کے لیے نہیں ہے،علاوہ ازیںوزیرِ اعظم عمران خان کے
مزید پڑھیے


اپوزیشن اتحاد سے حکومت کو کتنا خطرہ؟

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
احمد اعجاز
اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اتحادکو ،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کا نام دیا اور یہ اتحاد’’جمہوریت کو خطرہ ہے‘‘کے نام پر قائم ہوا۔پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے گوجرانوالہ میں کل جلسہ ہوگا۔گوجرانوالہ ،مسلم لیگ ن کا شہر سمجھا جاتا ہے۔اس شہر کا انتخاب بھی اس لیے کیا گیا کہ جلسے میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی شمولیت کی بِنا پر کامیاب قراردیا جاسکے۔جلسے جلوسوں کے پہلے مرحلے میں پی ڈی ایم لوگوں کی بڑی تعداد کو ہی اپنی تحریک کی کامیابی پر اکتفا کرے گی،اس کے علاوہ پہلے مرحلے کے جلسے جلوسوں کا منتہااور کچھ نہیں۔پی
مزید پڑھیے


مسئلے کی جڑ یں

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
احمد اعجاز
گذشتہ دِنوں وفاق المدارس کے سابق سربراہ مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے اور مہتمم جامعہ فاروقیہ مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیور قاتلانہ حملے میں شہید کردیے گئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا عادل کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کی اور کہا کہ بھارت پاکستان میں علماء کو قتل کرا کر شیعہ سنی فرقہ وارانہ تنازع پیدا کرانا چاہتا ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان کا کہا دُرست ہوگا،ہم یہاں ایک اور پہلو سے اس طرح کے اندوہناک واقعات کی تفہیم کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر نوع کی قتل و غارت گری اور فرقہ وارانہ قتل
مزید پڑھیے



’’بیانیہ‘‘کا کھیل

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
احمد اعجاز
سیاسی جماعتوں کے پاس سلوگن تو ہیں بیانیہ نہیں۔جس کو سیاسی جماعتیں بیانیہ کہتی ہیں ،وہ سلوگن ہیںاور سلوگن بدلتے رہتے ہیں،جیسے سلوگن نوازشریف کے پاس ہیں۔مئی2013ء کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے 2017ء کے ماہِ مارچ میں دواہم تقاریر کی تھیں ۔پہلی تقریر اُنہوں نے11 مارچ جامعہ نعیمیہ لاہورمیں کی تھی ۔جس میں مذہبی علما ء پر زور دیتے ہوئے کہا تھا ’’ وہ قوم کے سامنے دین کا اصل بیانیہ رکھیں ،علماء تعاون کریں گے تو اُن عناصر کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے گا،جو شرپسند ہیں‘‘اُنہوں نے واضح اور دوٹوک مؤقف
مزید پڑھیے


طاقت ور طبقات کے مفادات میں پھنسا عام آدمی

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
احمد اعجاز
فرد اور ریاست کے مابین رشتہ ،طاقت ور طبقات کی جانب سے پیداکردہ نان ایشوز کی وجہ سے مزید کمزور ہوتا چلا جارہا ہے۔اگرچہ فرد اور ریاست کے مابین تعلق کی بنیاد کو دیکھا جائے تو یہ ہمیشہ کمزور ہی رہا ہے۔تمام تر قباحتوں کے باوجود یہ تعلق مضبوط ہو سکتا تھا اگر ریاست فرد کی ضروریات کی ذمہ داری بہ خوبی نبھاتی۔ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ داخلی خارجی محاذ پر فرد کی تمام مادی ضروریات کا خیال رکھے۔سیاست دان ،مولوی ،جاگیردار،گدی نشین ،بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ…پاکستان کی تاریخ یہی طبقے ترتیب دیتے چلے آئے ہیں ،
مزید پڑھیے


عمران خان کو ،کون لایاتھا؟

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
احمد اعجاز
مجھے اپنے ادارے روزنامہ 92نیوز میں 2018ء کا الیکشن مکمل طورپر کوَر کرنے کا موقع ملا۔یکم جولائی سے چوبیس جولائی تک کم و بیش چھتیس اضلاع کے این اے سطح کے حلقوں کا جائزہ لیا گیا۔چوبیس جولائی کو باسٹھ حلقوںکا مختصر جائزہ دوصفحات میں پرنٹ ہوا،اس میں جیت ہار کے جو اندازے باندھے گئے،اُن میں لگ بھگ چھیالیس حلقوں کے اندازے ٹھیک بیٹھے۔ مولانافضل الرحمن کے دونوں حلقوں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ مولانا کی پوزیشن کمزور ہے اور یہ دونوں حلقے اُن کے ہاتھ سے نکل جائیں گے،الیکشن نتائج کے بعد ایسا ہی ہوا۔مَیں نے یکم جولائی
مزید پڑھیے


سرِعامِ پھانسی علاج نہیں

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
احمد اعجاز
موٹروے زیادتی کیس کے تناظر میں ہر سُوایک ہی آواز سنائی دیتی ہے کہ مجرموں کو چوک میں لٹکایاجائے،یعنی سرعامِ پھانسی دی جائے۔حتیٰ کہ وزیرِ اعظم عمران خان بھی مجرموں کو چوک میں اُلٹا لٹکا دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے متعدد رہنمائوں کا خیال بھی یہی ہے ۔البتہ پاکستان پیپلزپارٹی اس خیال سے متفق نہیں ’’مجرموں کو سرِعام پھانسی دی جائے‘‘کا مطالبہ کرنے والے جُرم سے نفرت کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔واقعی!یہ سب لوگ جُرم سے نفرت کرنے والے ہوتے ہیں؟یہ جائزہ بہت سہولت کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔یہاں کسی کی نیت
مزید پڑھیے


حساسیت کا ادراک نہ ہوا

بدھ 16  ستمبر 2020ء
احمد اعجاز
ملک میں گزشتہ دنوں کے دوران کم از کم دو ایسے واقعات پیش آئے ،جنہوں نے سماجی سطح پر خوف کی فضا کو جنم دیا ۔پہلا واقعہ کراچی میں پیش آیا جس میں پولیس کے مطابق ایک پانچ برس کی بچی کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ،اس کے بعد اُس معصوم کو قتل کر دیا گیا۔دوسرا واقعہ لاہور میں موٹروے کے قریب ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا۔ مَیں یہاں دوویڈیوز کو حوالہ بنا کر بات آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں۔پہلی ویڈیو سائیکلسٹ ثمرخان کی ہے۔وہ اپنے ساتھ پیش آئے ایک ناخوشگوار واقعہ کا ذکر کرتی ہے۔اُس کے مطابق’’مَیں اسلام
مزید پڑھیے