BN

اشرف شریف


یہ تھا اصل ڈیگومیرا ڈونا


صرف ایک کھلاڑی ہوتا تو ڈیگو میراڈونا پوپ سے وہ نہ کہتا جو کہنے کے بعد ایک دنیا میراڈونا کی نظریاتی شخصیت کی پرستار ہو گئی،خود پوپ بھی ۔ ڈیگو میرا ڈونا نے زندگی بھر دو ہی محبتیں پالیں‘ فٹ بال اور سوشلزم۔ شہرہ آفاق پیلے نے بے ساختہ کہا کہ ہم دونوں آسمانوں پر ایک دن ایک ساتھ فٹ بال ضرور کھیلیں گے۔1986ء میں ارجنٹائن کو ورلڈ کپ میں فتح دلانے والے میراڈونا کا جنازہ ایوان صدر میں رکھا گیا اور دس لاکھ سے زاید پرستاروں نے آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔اس کی خواہش تھی کہ قبر والدین کے
پیر 30 نومبر 2020ء

کیا کہیں سیاست ہو رہی ہے؟

هفته 28 نومبر 2020ء
اشرف شریف
سید انشا اللہ خاں ایک باکمال شاعر‘ بذلہ سنج اور رونق بزم شخصیت تھے۔یہ شعر انہی کا ہے۔ کہانی جو سنائی ایک ہیر رانجھا کی تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا ادبی محاسن اپنی جگہ سننے والوں کو ایسے قصے اور چٹکلے سناتے کہ محفل میں سب کی لو ان کے سامنے مدھم پڑ جاتی۔ ایک بار نواب کو ان کی ایک بات بری لگی اس نے سید انشا کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ہر روز ایک نیا چٹکلہ یا دلچسپ واقعہ سنایا کریں گے۔ دوسرے ماہ کے وسط تک حالت یہ ہو گئی کہ دوستوں اور ملنے والوں سے
مزید پڑھیے


محبت فاتح عالم

بدھ 25 نومبر 2020ء
اشرف شریف
ستر برس کی ثمینہ احمد اور منظر صہبائی سے پہلے ایک سو برس کے یاور عباس اور نور ظہیر بتا چکے ہیں کہ محبت وجود کی نہیں روح کی ضرورت ہے۔ یہ مشہور لوگ ہیں۔ اخبار میں ایسی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ ستر سال کی اماں برکتے نے 75 سال کے بابا رحمت کے ساتھ شادی کرلی۔ سفید بالوں‘ اکھڑے ہوئے دانتوں اور عام سے لباس میں چارپائی پر یہ جوڑا اپنے پوتوں پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے گھیرے میں بیٹھا تصویر بنوارہا ہوتا ہے۔ پس منظر میں کچے پکے مکان کی دیوار یا کوئی پیڑ جھانک
مزید پڑھیے


نوجوانوں کی جاگو تحریک

پیر 23 نومبر 2020ء
اشرف شریف
سینئر سیاستدان اور دانشور قیوم نظامی نے نوجوانی میں سماج بدلنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا۔ بھٹو صاحب کے ساتھ جب گورنر ہائوس میں پہلی ملاقات ہوئی تو نظامی صاحب پیپلز پارٹی لاہور کے عہدیدار تھے۔ مجھے ان کی یہ بات اچھی لگی کہ انہوں نے دیگر سیاستدانوں کی طرح ایسی ملاقات کو اپنی کتابـ، جو دیکھا جو سنا ، میںبڑھا چڑھا کر بیان نہیں کیا۔ وہ طویل عرصہ اس جماعت کا حصہ رہے‘ مرکزی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے‘ وزیر مملکت کے مساوی عہدہ پایا ، نگران وزیر رہے۔ نظامی صاحب نے فاروق لغاری کی
مزید پڑھیے


قاضی جاوید رخصت ہوئے

هفته 21 نومبر 2020ء
اشرف شریف
بلند آہنگ اور نرم لہجے کا امتزاج عموماً کم ہی ہوتا ہے۔ قاضی جاوید میں یہ نادر امتزاج موجود تھا۔ پہلی ملاقات لگ بھگ انیس برس قبل ہوئی۔ اطہر ندیم صاحب کے دوستوں میں شامل تھے۔ حنیف رامے ‘ طارق عزیز‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ حسین نقی‘ حمید اختر جیسے بزرگوں سے تعلق بھی اطہر ندیم صاحب کے توسط سے ہوا۔ قاضی صاحب فلسفہ کے آدمی تھے۔ فلسفہ پڑھاتے رہے۔ ایسا پڑھایا کہ طلباء ان کے شاگرد بن گئے۔ کئی شاگردی سے بڑھ کر مرید۔ قاضی صاحب نے برٹرنڈرسل اور سارتر جیسے فلسفیوں کو اردو سمجھنے والوں کے لئے آسان بنایا۔
مزید پڑھیے



گلگت بلتستان میں جمہوری تبدیلی کے پس پردہ طاقت

بدھ 18 نومبر 2020ء
اشرف شریف
گلگت بلتستان کے شفاف پانیوں میں پی ڈی ایم کی تحریک‘ مولانا کی بھاگ دوڑ اور ن لیگ کا بیانیہ بہہ گیا۔ہارنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا، شکست قبول کرنا مشکل ہے ،آسان ہوتا تو ٹرمپ قبول کر لیتے ۔ ہار قبول کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ، جو نظام جمہوری نہیں ہوتا ، جہاں سیاسی جماعتیں جمہوری انداز سے نہیں سوچتیں وہاں کسی حق کا استعمال بھی متنازع ہو جاتا ہے ۔انتخابات میں ہر بار دھاندلی کا شور اس کی مثال ہے۔ وفاقی انتظام میں طویل عرصہ رہنے والے علاقوں کے لیے ہماری سیاسی
مزید پڑھیے


تبدیلی کی خواہش

هفته 14 نومبر 2020ء
اشرف شریف
آج کل کئی طرح کی آن لائن سروسز ہمیں مل رہی ہیں۔ آپ آن لائن ٹیکسی منگوا سکتے ہیں۔ آن لائن شاپنگ کر سکتے ہیں‘ آن لائن سروس کے ذریعے کھانا منگوا سکتے ہیں‘ کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کا آرڈر پورا کرنے کے لئے جس انسان کو متعین کیا جا رہا ہے وہ محض ایک ڈرائیور یا ڈلیوری بوائے نہیں‘ ایک انسان ہے۔ گزشتہ دنوںہمارے دوست کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا‘ اسی کی زبانی سنیں۔ دفتر سے دیر گئے گھر پہنچا‘ کھانا تیار تھا لیکن دل کچھ اور کھانے کو چاہتا تھا۔ فون اٹھایا اور ایک فوڈ کمپنی
مزید پڑھیے


اعلان لاتعلقی کی آہٹ

بدھ 11 نومبر 2020ء
اشرف شریف
بیلنس آف پاور ایک تھیوری ہے۔ طاقت کا ترازو سیدھا کرنا۔ مخالف کے پاس الٰہ دین کا چراغ آ جائے تو اس کے برابر طاقت حاصل کرنے کے لیے بوتل کا جن آزاد کرنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ نے کبھی سیاسی تحریک چلائی نہ اسے اس کی تربیت ہے۔ اب بھی اسے سیاسی ا تالیق جو پڑھا رہے ہیں وہ سیاست نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم بنا کر حکومت کے خلاف اپوزیشن نے طاقت کا جو توازن قائم کرنے کی کوشش کی اس کا سارا فائدہ سیاسی موسمیات سے واقف اور تربیت یافتہ پیپلزپارٹی کو ہورہا ہے۔
مزید پڑھیے


اچھے کی امید کیسے رکھیں؟

هفته 07 نومبر 2020ء
اشرف شریف
پاکستان کے پائوں دلدل میں دھنسے ہیں‘ آگے بڑھنے کے لئے جونہی زور لگاتے ہیں‘ دلدل اور نیچے کھینچ لیتی ہے۔ آپ جانتے ہیں اس دلدل کے اندر کون سا کیچڑ ہے جو ہمیں پاتال میں لے جا رہا ہے۔ ناسمجھی‘ اپنے مستقبل سے لاتعلقی اور عقل سے دشمنی۔ ایک پروگرام نشر ہوا‘ وفاقی وزیر فیصل واوڈا وزیر اعظم عمران خان کو خدائی اوتار بتا رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ خدا کے بعد عمران خان ہے جو ملک کو بچا سکتا ہے‘ فیصل واوڈا نے کچھ اور الفاظ کہے تھے جنہیں نقل نہیں کیا جا سکتا‘ افسوس اور مذمت کی
مزید پڑھیے


ازجامی بے چارا رسانید سلامے

بدھ 04 نومبر 2020ء
اشرف شریف
بچے گھر کے تبدیل معمولات پر سوال کریں تو ان کا جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے‘ گھر کی تربیت اسی کو کہتے ہیں۔ عید میلاد النبیؐ پر مناہل نے فرمائش کی کہ یوٹیوب پر کوئی نعت لگائوں۔ امی مرحومہ ام حبیبہ کی پڑھی گئی نعتیں اسی شوق سے ہلکی ہلکی آواز میں پڑھا کرتیں۔ اتنی مدھم آواز کہ جسے ان کی گود میں لیٹا بچہ ہی بس سن سکتا۔ کئی بار ہم نے ان کی زبان سے یہ نعتیں لوری کی صورت میں سنیں۔ میں نے سب سے پہلے ام حبیبہ کی آواز میں مولانا جامی کی لکھی نعت
مزید پڑھیے