BN

اشرف شریف


مولانا سے وعدہ کس نے کیا


مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں مارچ تک حکومت ختم ہونے کا وعدہ کیا گیا ۔کس نے وعدہ کیا، کب کیا اور کس بنا پر کیا مولانا ابھی اپنی پٹاری سے یہ سانپ نہیں نکالیں گے کیونکہ وہ پہلے مجمع اکٹھا کرنا چاہتے ہیں ،وہ دراصل کہہ رہے ہیں کہ لکڑی کا بڈاوا بات کرے گا، اور مٹی کا ڈھیلا برفی بن جائے گا۔۔ اس بیان کو مولانا کی شناخت کے دائرے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کی شناخت یہ ہے کہ وہ ایک مذہبی سیاستدان ہیں۔مذہب کا معیار یہ ہے کہ فتنہ پیدا نہ کرو۔ مذہب
پیر 17  اگست 2020ء

نیا آئی پی پیز معاہدہ :کچھ مطلب تو اخذ کیجئے مہربان

اتوار 16  اگست 2020ء
اشرف شریف
عمران خان نے طے کیا ہے کہ وٹے مارنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھا جائے۔ حیرت تھی کہ حکومت نے مریم نواز اور ان کے فتنہ بریگیڈ کو چھوٹ کیوں دی‘ یوم آزادی کے موقع پر دیکھا کہ مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے پرچم کشائی کی ایک تقریب میں اپنے کارکنوں سے ملک کی خدمت کا حلف لیا۔خدمت میں یہ کام بھی شامل ہے کہ عمران خان کی حکومت نے اپنی نااہلی سے قومی اداروں کا جو ستیا ناس کیا ہے مسلم لیگی حکومت آنے پر یہ خرابیاں دور کی جائیں گی۔ حلف
مزید پڑھیے


جب پنجاب جل رہا تھا

هفته 15  اگست 2020ء
اشرف شریف
کل ہم نے 73واں یوم آزادی منایا۔سوچا ہم اس ماحول اور زمانے کا ایک دورہ کر لیں جب پاکستان بن رہا تھا اور پنجاب یونینسٹوں کے کنٹرول سے نکل کر مسلم لیگ کا حامی ہو رہا تھا۔زاہد چودھری اور حسن جعفر زیدی کی تصنیف سے مدد لی۔ جنوری 1947ء میںخضر حیات ٹوانہ کی حکومت نے حکم دیا کہ سارے مذہبی فرقوں کی مسلح تنظیموں پر پابندی عاید کر دی جائے۔ پولیس نے اسی روز لاہور کے رائل پارک میں مسلم لیگ نیشنل گارڈز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ مسلم لیگ کے رہنما افتخار الدین موقع پر پہنچے تو
مزید پڑھیے


زندہ درخت اور قبائلی ذہن

جمعرات 13  اگست 2020ء
اشرف شریف
وہ زمانہ دور نہیں جب آپ کسی درخت سے امرود توڑنے لگیں اور درخت پھل سے لدی شاخ اس وجہ سے آپ کی پہنچ سے دور کر دے کہ آپ نے کچھ مدت پہلے درخت کو بُرا بھلا کہا تھا۔ کے پی کے میں ضلع خیبر کے وہ ناسمجھ نوجوان جنہوں نے چیل کے جوان ہوتے پودوںکو اکھاڑ پھینکا ان کے لئے تو عین ممکن ہے جنگل دشمن کا علاقہ بن جائے۔ پاکستان میں پہلی بار درختوں سے محبت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شجر شناسی ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کی کوکھ سے نئے علوم اور
مزید پڑھیے


بیروت بدیلِ باغِ جناں

پیر 10  اگست 2020ء
اشرف شریف
امین ابو یحییٰ لبنان کے میڈیا کا جانا پہچانا چہرہ ہے۔ چند سال قبل ان سے فیس بک پر رابطہ ہوا جو اب تک برقرار ہے۔ وہ العربیہ اور سی این بی سی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ آج کل ایشیا ٹی وی میں شو کرتے ہیں اور متعدد دوسرے ٹی وی چینلز پر مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر بطور تجزیہ کار نمودار ہوتے ہیں۔ کئی بار لبنان کے معاملات پر ان سے مختصر سی گفتگو ہو جاتی ہے۔ میں نے انہیں لبنان کا لینڈ سکیپ دکھانے کی فرمائش کی تو انہوں نے کچھ زیتون کے باغات‘ گندم
مزید پڑھیے



حکومتیں ،جمہوریت اور کشمیر

هفته 08  اگست 2020ء
اشرف شریف
ہمارے ہاں سیاستدانوں نے ملکی سالمیت کے متعلق غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر کے حساسیت پیدا کر دی ہے۔کشمیر پربجا طور پر سیاسی قیادت کی کارکردگی فوجی آمروں سے بہتر رہی لیکن یہ بھی پیش نظر رہے کہ عوام نے ان سانپوں کو بار بار دودھ پلایا جو جمہوریت کو ڈس لیتے ہیں، ایسے خاندان نظام کو مسحکم نہیں ہونے دیتے یوں آپ چاہیں تو اس عدم استحکام کو تنازع کشمیر کے حل میں تاخیر سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں۔۔ خاص طور پر انیس سو نوے کے عشرے
مزید پڑھیے


کشمیر: ہر یاول اور خون کی تصویر

بدھ 05  اگست 2020ء
اشرف شریف
کشمیر اور راگ پہاڑی جدا نہیں‘کشمیر اور گھنے درختوں کی ہریاول میں بہتی سورج کی روشنی‘سیب ‘ انار‘خوبانی‘ناشپاتی اور گلاب کے باغات۔کشمیر اور ابدی سکون آور خاموشی۔ دوسری تصویر۔ کشمیر اور تاریخ۔ کشمیر اور لاشیں۔ کشمیر اور بے بسی۔ معلوم نہیں کشمیریوں کو 5اگست سے رہائی کب ملے۔ تجزیہ آخر میں کیوں ؟پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے‘ پاکستان اور کشمیریوں نے بہت وقت ضائع کیا۔ سب سے بہترین موقع وہ تھا جب امریکہ سوویت یونین کے خلاف جہاد میں ہم سے مدد لے رہا تھا۔ کشمیر پر زیادہ تر نقطہ ہائے نظر کشمیر کے باشندوں کے ذریعے سامنے آتا رہا
مزید پڑھیے


مولانا کی سیاست

منگل 04  اگست 2020ء
اشرف شریف
کتاب اللہ کے طالب علم اور ہیں مفاداتی سیاست کے بستہ بردار اور۔سارا معاشرہ ان کی وجہ سے عقاید اور سیاسی نظریات میں ابہام کا شکار ہے۔ ہارون الرشید صاحب سے عید کے روز بات ہوئی۔ امید کی روشنی میں رہنے والے سینئر کالم نگار مایوس دکھائی دیے۔ کہنے لگے کون سی نعمت ہے جو پاکستان میں دستیاب نہیں مگر مذہبی سیاستدانوں نے فریب کیا۔ ہمیشہ لوگوں کی سادہ لوحی اور خلوص کا سودا کر کے۔اپنی جیب بھری۔ بولے چند برس پہلے لاہور میں کچھ روز قیام کے لئے سرکاری ریسٹ ہائوس سے رابطہ کیا۔ بتایا گیا دو کمرے خالی
مزید پڑھیے


آئے معاون‘گئے معاون

هفته 01  اگست 2020ء
اشرف شریف
ریاست اس طرح ردعمل ظاہر نہیں کیا کرتی۔ لوگوں کو لانا اور پھر یوں فارغ کردینا۔ وزیراعظم کی ترجیحات کیا تھیں۔ وہ تو حکومت سنبھالنے سے پہلے ہی جانتے تھے انہیں کیا کرنا ہے۔ بلاامتیاز احتساب‘ نوجوانوں کے لیے روزگار و فعال کردار ادا کرنے کے مواقع‘ سرکاری اداروں کو جدید آئی ٹی نظام سے مزین کرنا اور پاکستان کو ڈیجیٹل مارکیٹ بنانا‘ پورے ملک سے رنگ رنگ کے نصاب ختم کر کے یکساں نصاب کا نفاذ‘ بے گھروں کے لیے سستے گھروں کی تعمیر‘ ہسپتالوں کا قیام اور نئی بیماریوں کے لیے جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کا حصول اور نئے
مزید پڑھیے


کیا عمران وفاقی نظام کو سمجھتے ہیں؟

بدھ 29 جولائی 2020ء
اشرف شریف
حکومت کرنا کتنا مشکل ہے اب کوئی عمران خان سے پوچھے۔ یقینا ان پر وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ کھلے گا۔ ان کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں زیادہ تر بدعنوانی پر بیانات جاری ہوئے‘ ریاستی اداروں میں بدانتظامی اور مخصوص سیاسی خاندانوں کی ریاستی خزانے پر ملکیت پر عمران خان مسلسل گرجتے برستے رہے۔ عام لوگ شاید ان سے یہی سننا چاہتے تھے لیکن کچھ تعلیم یافتہ حلقے چاہتے تھے کہ عمران خان کی وفاقی پارلیمانی نظام کی آئینی جیت پر گفتگو سنیں‘ مرکز اور صوبوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں خیالات جان سکیں۔ اکیلے عمران خان
مزید پڑھیے