BN

اوریا مقبول جان


’’دوغلے‘‘


ژاں پال سارتر کو گذشتہ صدی کا سب سے بڑا فلسفی اور ناول نگار خیال کیا جاتا ہے۔ یہ ان چند لوگوں میں سے ایک تھا جسے متنازعہ ترین نوبل انعام ملا تو اس نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ باغی ایسا کہ اس کے ملک فرانس کے الجزائر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف جب وہاں کے عوام نے علمِ بغاوت بلند کیا تو سارتر الجزائر کے لوگوں کے حق میں اور اپنے ہی ملک کے خلاف وہاں جا کر لڑنے لگا۔ مقبول اتنا کہ جب الجزائر کے عوام کے حق میں وہاں جا کر لڑنے پر فرانس
جمعرات 09 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

انکار کے سوا اور کوئی راستہ نہیں

اتوار 05 دسمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی معیشت کو قرضوں کی جکڑ بندیوں سے نکلنے کے صرف تین راستے ہیں: پہلا یہ کہ عالمی مالیاتی قوتوں کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا جائے اور جو کچھ اس ملک میں صنعت و زراعت یا معدنیات کی صورت موجود ہے، اسے ان کے حوالے بھی کیا جائے اور عوام کا خون نچوڑ کر قرضے بھی ادا کئے جائیں۔ ان عالمی مالیاتی قوتوں کا نمائندہ، آئی ایم ایف اس وقت پاکستان کو یہی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جس ملک نے بھی یہ راستہ اختیار کیا، وہ زندگی
مزید پڑھیے


قرض کی پیتے تھے مے …

هفته 04 دسمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کے خلاف عالمی سودی معیشت کی علمبردار قوتیں اپنی سازشوں کی تکمیل کے آخری مرحلے کو جلد پورا ہوتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ یہ مرحلہ بہت خوفناک ہے، ہر جاننے والا اس کے تصور سے بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسی دُکان بن چکا ہے، جس کے کیش کائونٹر پر تالا لگایا جا چکا ہے۔ اب اس میں کیش ڈالا تو جا سکتا ہے لیکن نکالا نہیں جا سکتا۔ دُنیا کے ہر ملک کا ایک سینٹرل بینک ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان کا بھی ایک سینٹرل بینک ہے جسے سٹیٹ
مزید پڑھیے


یہودیوں کی ترقی: مذہب کی مرہونِ منت ……(2)

جمعه 03 دسمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
دو ہزار سال یہودیوں نے عیسائی یورپ کے انتہائی جبر کے تحت اذیت ناک زندگی گزاری تھی۔ ان کے علاقے اور محلے علیحدہ تھے، جہاں کسی بھی قسم کی شہری سہولیات مثلاً پانی، بجلی، سیوریج، سکول اور ہسپتال وغیرہ میّسر نہیں ہوتے تھے۔ ان تعفّن زدہ اور بدبو دار علاقوں کو ’’گھیٹو‘‘ (Ghetto) کہا جاتا تھا۔ یہودیوں کو مخصوص لباس پہننے پر مجبور کیا جاتا اور شہر میں آنے کے لئے وہ اپنے گلے میں ایک تختی لٹکاتے جس پر لکھا ہوتا ’’میں یہودی ہوں‘‘۔ لیکن یہودیوں کی اس بدترین زندگی کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بحیثیت
مزید پڑھیے


یہودیوں کی ترقی: مذہب کی مرہونِ منت

جمعرات 02 دسمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ سنتے ہوئے کان پک گئے ہیں کہ دیکھو یہودیوں نے دُنیا کے ہر علم اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے، وہ دُنیا کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں، دُنیا کی سپر پاور امریکہ آج ان کی مٹھی میں ہے۔ طعنہ زن زیادہ تر سیکولر، لبرل اور اسلام دُشمن افراد ہی ہوتے ہیں، جو مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ایک فہرست ہر کسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے جسے لہرا کر وہ کہتے ہیں کہ دیکھو اب تک تقریباً نو سو افراد کو مختلف شعبہ
مزید پڑھیے



دو آبے کا بدّو،بستی میں اجنبی،لشکر میں تنہا

اتوار 28 نومبر 2021ء
اوریا مقبول جان
کتاب کا نام تو’’ہارن کھیڈ فقیرا‘‘ ہے جو گجرات اور میر پور کے سرحدی شہر ’’کھڑی شریف‘‘ کے صوفی شاعر میاں محمد بخشؒ کی مقبول تصنیف ’’سیف الملوک‘‘ کے اس شعر سے لیا گیا ہے۔ جتن جتن ہر کوئی کھیڈے، ہارن کھیڈ فقیرا جتن دا مُل کوڈی پیندا،ہارن دا مُل ہیرا ’’جیتنے کیلئے بازی تو ہر کوئی لگاتا ہے، اے فقیر (دُنیا سے بے نیاز) تو ہارنے کیلئے بازی کھیل۔ کیونکہ راہِ سلوک میں جیتنے کا انعام تو صرف ایک کوڑی ہے لیکن ہارنے کا انعام ہیرا ہے‘‘۔ یعنی عظیم شخص وہ ہے جو دوسروں کو کامیاب دیکھنے کیلئے خود ہارتا ہے۔ یوں
مزید پڑھیے


پاکستانی اینگلو انڈین

هفته 27 نومبر 2021ء
اوریا مقبول جان
سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ اس کی اکثر تحریروں کی طرح تخلیقِ پاکستان کے ماحول کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ منٹو جیسے لاتعداد ادیب، شاعر، دانشور اور سیاستدان اپنے اندرونی بغض کی وجہ سے اسے بٹوارہ کہتے تھے۔ منٹو کے اس افسانے میں لاہور کے پاگل خانے کی فضاہے جس میں ہندو اور مسلمان پاگلوں کا بھی آپس میں تبادلہ ہو رہا ہوتا ہے۔ پاگل خانے کے لاتعداد کرداروں میں کچھ ایسے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے جنہیں برصغر پاک و ہند کی تقسیم کا نہیں بلکہ انگریزوں کے چلے جانے کا دُکھ ہوتا ہے۔ منٹو
مزید پڑھیے


پاکستان بیچنے والے

جمعه 26 نومبر 2021ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ ساٹھ سالوں میں پاکستان کے ایوانِ اقتدار پر قابض حکمرانوں نے اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کو قرض کی ایک ایسی دلدل میں پھنسایا ہے کہ شاید اگلی ایک صدی بھی اس قرض کو چکاتے ہوئے گزر جائے، مگر قرض ادا نہ ہو سکے۔ یہ حکمران جن کی ذاتی جائیدادوں میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا اور جن کی مالی سلطنت کی وسعت دُنیا کے کئی براعظموں تک پھیل گئی، مگر انہوں نے اس مملکتِ خداداد پاکستان کو ایسا جکڑا ہے کہ آنے والا کوئی بھی حکمران خواہ کتنا ہی مخلص اور معاشی معاملات میں ماہر ہی کیوں
مزید پڑھیے


پاکستان بیچنے والے

جمعرات 25 نومبر 2021ء
اوریا مقبول جان
کیا کوئی آج اس سانحے کے انتہائی معمولی آغاز پر یقین کرے گا کہ 8 دسمبر 1958ء کو جب پاکستان نے پہلی دفعہ آئی ایم ایف کے دروازے پر بھیک مانگی تھی تو اس کے کشکول میں صرف پچیس ہزار ڈالر ڈالے گئے تھے۔ یہ پچیس ہزار ڈالر "Stand by" یعنی ’’حاضر باش‘‘ مقصد کیلئے دیئے گئے۔ یہ ڈالر نمائشی طور پر خزانے میں ڈالے جاتے ہیں، جنہیں آپ دیکھ تو سکتے ہیں لیکن خرچ نہیں کر سکتے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ عالمی منڈی سے کوئی خریدوفروخت کرتے ہیں یا کسی بیرون ملک کے بینک
مزید پڑھیے


خلعت پہن کے بھی نہ رذالت کی بُو گئی

اتوار 21 نومبر 2021ء
اوریا مقبول جان
تاریخ کا پہلا سبق ہے کہ اس نے کبھی بزدل انسانوں اور بزدل اقوام کو یاد نہیں رکھا۔ بزدلوں کو نہ انہیں اپنے وقت میں عزت و تکریم میسر ہوئی اور نہ ہی آنے والے دنوں میں کسی نے ان کو اچھے ناموں سے یاد کیا۔ بزدل شخص اپنے اردگرد سونے چاندی کے پہاڑ بھی بلند کر لے، پھر بھی جگہ جگہ اپنی عافیت، خیریت اور زندگی کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ تاریخ ایسی اقوام کے تذکرے سے بھری ہوئی ہے جو معاشی طور پر مستحکم اور خوشحال تھیں مگر چند افراد کے گروہ، جو سروں میں بے خوفی
مزید پڑھیے








اہم خبریں