اوریا مقبول جان

نوازشریف کا ہدف۔آئی ایس آئی کیوں؟(آخری قسط)

پیر 21 مئی 2018ء

دنیا کی ہر انٹیلی جنس ایجنسی کی طرح آئی ایس آئی کے خدوخال اور کام کرنے کا طریقہ کار بھی ویسا ہی ہے۔ اس لئے گزشتہ کئی سالوں سے آئی ایس آئی پر لکھے جانے والے مواد میں اس کے کام کرنے کے انداز، مختلف جاسوسی کرنے کے ہتھکنڈے یا جنگ کو دشمن ملک تک روکنے کے عملی طریقوں پر گفتگو نہیں کی گئی، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کو جو ہدف دیا گیا تھا، کیا اس نے اپنا ہدف حاصل کیا یا نہیں۔ اب تک لکھے جانے والے مواد اور اخبارات و رسائل میں موجود
مزید پڑھیے


نوازشریف کا ہدف۔آئی ایس آئی کیوں؟…(1)

جمعه 18 مئی 2018ء
آج سے 22 سال قبل ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن کے شہر میں موجود ٹیکساس یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک پالیسی میں ایک ایسی بریفننگ میں شریک ہوا جو وہاں کے انسانی حقوق پر کام کرنے والے پروفیسروں اور ریسرچ سکالرز نے دی تھی۔ یہ بریفننگ سزائے موت کے خلاف تھی اور اس دوران ایک قیدی کی فون پر گفتگو بھی براہ راست سنائی گئی تھی جو وہاں جیل کے ڈیتھ سیل میں موت کا انتظار کر رہا تھا۔ چونکہ پورا وفد پاکستان کے افراد پر مشتمل تھا تو ایسے میں پاکستان میں جمہوریت، فوج، آئی ایس آئی وغیرہ کا ذکر
مزید پڑھیے


میاں محمد نواز شریف : ایک نفسیاتی مطالعہ

بدھ 16 مئی 2018ء
علم نفسیات کا کوئی عالم ہو، نفسیاتی معالج یا پھر جسے اپنے علم نفسیات کی بنیاد پر لوگوں کی شخصیات کا مطالعہ کرنے کا شوق ہو، تو ایسا کوئی بھی شخص اگر گذشتہ چند ماہ سے میاں محمد نواز شریف کے چہرے کا غور سے مطالعہ کرتا رہا ہو تو وہ ایک انجانے خوف میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہ چہرہ، اس کے تاثرات اور میاں محمد نواز شریف کا رویہ، آنے والے دنوں میں ان کے مزاج کی چغلی کھا رہا ہے۔ ایسی حالت اگر ایک عام شخص کی ہوتی تو شاید آدمی اس قدر خوفزدہ نہ ہوتا، اسے اتنی
مزید پڑھیے


ظلم و دہشت اور دو مختلف روئیے

پیر 14 مئی 2018ء
گیارہ ستمبر کا واقعہ اور اس کے بعد گزرنے والے ماہ و سال اور ان سالوں میں ہونے والے واقعات یوں لگتا ہے امریکی عوام اور مسلم امہ دونوں کے اجتماعی لاشعور کا حصہ بن چکے ہیں۔ اجتماعی لاشعور کا تصور اپنے زمانے کے مشہور نفسیات دان کارل ینگ (Carl yung ) نے دیا تھا۔ یہ شخص علم نفسیات کی بنیاد رکھنے والے تین نفسیات دانوں فرائیڈ اور ایڈلر کا تیسرا ساتھی تھا۔ باقی دو تو یہ کہتے ہیں کہ انسانی زندگی کی کچھ دبی ہوئی خواہشات یا ایسے تلخ تجربے جنہیں وہ بھول جانا یا چھپانا چاہتا ہے انسانی
مزید پڑھیے


اداروں کا زوال۔ آغاز سے انجام تک

جمعه 11 مئی 2018ء

یہ صرف ایک وزیر اعلٰی کا نوحہ نہیں، پاکستان کے ہر سرکاری دفتر کا المیہ ہے، اس المیے سے کسی دفتر کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔ سستی، کاہلی، نکما پن، نااہلی، بددیانتی اور بدترین کرپشن یہ علامتیں ہیں جن سے پاکستان کا اعلیٰ سے اعلیٰ اور ادنیٰ سے ادنیٰ سرکاری محکمہ پہچانا جاتا ہے۔ وزیر اعلی سندھ، سید امداد شاہ سے جب صحافی مظہر عباس نے سوال کیا کہ آپ کو حکومتی اداروں کی خراب کارکردگی کی کیا وجہ نظر آتی ہے تو انہوں نے جواب دیا، نااہلی (incompetence)۔ یہ نااہلی آج پیدا نہیں ہوئی، اسے اپنی اس ذلت تک
مزید پڑھیے


آگ سے کھیلنا بند کرو

بدھ 09 مئی 2018ء

پاکستان کے میڈیا میں کچھ قوتیں، لکھاری، اینکر پرسن اور پس پردہ پروڈیوسر حضرات، مشرف دور میں پل کر جوان ہونے والی این جی اوز اور سول سوسائٹی، قیام پاکستان کے روز ازل سے اس کی تخلیق کے دشمن اور اس کے نظریہ کے مخالف، میاں محمد نواز شریف اور ان کی نون لیگ کو صرف ایک ہی روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے اپنے گزشتہ پچیس سالہ ماضی میں جو اسلام اور نظریہ پاکستان کا راگ الاپتے رہے ہیں، اس سے دور ہو جائیں بلکہ اپنا ایک ایسا چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کریں کہ
مزید پڑھیے


خداحافظ امریکہ

پیر 07 مئی 2018ء

آج سے تقریبا 38 سال قبل دسمبر 1979 میں جب سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو جس خطے پر دنیا بھر کی نظریں جم گئیں وہ پاکستان تھا اور یہ نظریں آج تک ہٹی نہیں۔ لیاقت علی خان کی وزارت عظمی کے زمانے سے امریکی محبت میں گرفتار پاکستانی سیاسی اشرافیہ جس میں سیاستدان، بیوروکریٹ اور افواج شامل تھیں ایک دم چونک اٹھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو سرد جنگ شروع ہوئی تھی یہ اس کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اگلا نشانہ ہم ہیں۔
مزید پڑھیے


مرنے والوں کا احترام کرو

جمعه 04 مئی 2018ء

گزشتہ دو سالوں سے ایک اذیت اور کرب ہے جس سے میں گزر رہا ہوں، ایک ماتم ہے جو میں بہت زور و شور سے کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اس ماتم میں ہر وہ شخص شریک ہو جسے اسلام یا کسی بھی مذہب سے تھوڑی سی بھی محبت ہو، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے ذرا سا بھی پیار ہو یا اس دنیا پر بسنے والے سات ارب انسانوں کی روایات عزیز ہوں۔ پوری دنیا میں عمومی طور پر ایک رویہ ہر معاشرے اور ثقافت میں موجود ہے کہ وہ اپنے مرنے
مزید پڑھیے


ٹیکنالوجی کے خدایان یزداں و اہرمن کے پجاری

اتوار 29 اپریل 2018ء

ٹیکنالوجی کے بت کے پرستار، ہر نئی ایجاد کے موجد کو پیغمبر کا مقام دینے والے، شانزے لیزے، آکسفورڈ سٹریٹ اور ٹائمز اسکوائر نیویارک کا سفر عمرے اور حج جیسی عقیدت سے کرنے والے اور وہاں کے طواف کی کیفیتوں کو ایک ادائے عاشقانہ اور فریفتگی سے بیان کرنے والے، ادیب، دانشور، سیاستدان، استاد، تاجر، تجزیہ نگار اور ہر شعبہ زندگی کے متاثرین، بلا کے لوگ ہیں۔ گزشتہ دو سو سال سے شاید ہی کسی نے اللہ تعالی کی حاکمیت، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی، گوتم بدھ کی انسان پرستی
مزید پڑھیے


پیشہ ورانہ خطرات سے جسمانی خود مختاری اور ’’می ٹو‘‘ تک

هفته 28 اپریل 2018ء

جدید لائف سٹائل کا کمال یہ ہے کہ اس نے بلاامتیاز مذہب، اخلاق اور اقدار ہر اس شعبے، پیشے اور کام کاج کو عزت دی ہے جس سے سرمایہ کمایا سکتا ہے یا اس سے لائف سٹائل کی آسانیاں خریدی جاسکتی ہیں۔ کیونکہ سرمایہ ایک بنیادی قدر اور منزل مقصود تھی تو اس کو کمانے کے راستے میں جو دکھ، تکلیفیں اور پریشانیاں بھی آئیں وہ قابل تکریم ہوگئیں۔ ان دکھوں، تکلیفوں، پریشانیوں اور مصیبتوں کو جدید اصطلاح میں "Occupational hazards"(پیشے سے منسلک خطرات) کہا جاتا ہے۔ مثلا کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے افراد عموما سینے کے امراض
مزید پڑھیے