BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


اُردو مزاح اُمید سے ہے!


اکیسویں صدی میں اُردو مزاح کا تذکرہ آتے ہی ذہن میں مزاحیہ مشاعرے اور کامیڈی شو گھوم جاتے ہیں، پھر ان کے بارے میں سوچتے سوچتے دماغ بھی گھوم جاتا ہے۔ مزاح تو ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ اکثر بد مذاقوں کو مذاق بن جانے کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ جب کہ یہاں تو یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مزاح اور مذاق میں ’ح ، ق‘ جتنا نہیں، کوہ قاف جتنا فاصلہ ہوتا ہے۔ مزاح کی بابت ہمارا کامل ایمان ہے کہ یہ خدا کی دین ہے اور اس دین کا احوال موسیٰ سے نہیں قاری اور
منگل 23 فروری 2021ء

ماں بولی سے قومی زبان تک!

اتوار 21 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ جن چیزوں کا تعلق ماں سے ہوتا ہے، وہ جیتی جاگتی مجسم دعا، جنت کی ہوا، اصلی والی ماں ہو، دھرتی ماتا ہو یا ماں بولی! کیا ان پہ بھی سمجھوتا ہو سکتا ہے؟ دل، دماغ ، ہوش، حواس بلکہ پانچوں حواسوں، جملہ قیاسوں سے ایک ہی مشترکہ اور پکی پِیڈی آواز آتی ہے …نہیں ں ں ں ، ویسے تو ماں اور ماں بولی کا کوئی ایک دن نہیں ہوتا بلکہ ہر دن ہوتا ہے لیکن پھر بھی غنیمت ہیں وہ لوگ، جنھوں نے سال میں کم از کم ایک دن تو
مزید پڑھیے


غالبؔ اور مغلوب حضرات

منگل 16 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پندرہ فروری 2021 اُردو ادب کے ’حیوانِ ظریف‘ نجم الدولہ، استادِ شہِ ہند، جناب میرزا اسداللہ خاں غالب کی 152 ویں برسی ہے… اس وقت میرزا کا تحریر کردہ ایک ایسا معروف قصیدہ میرے سامنے دھرا ہے، جسے پڑھتے ہوئے دھیان کی سواری، شعری اوصاف سے زیادہ غالب کے مالی حالات کے ہم رکاب ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کسی کو خاطر میں نہ لانے والے حتیٰ کہ اپنے درد تک کو منت کشِ دوا نہ کرنے والے، اس تاجدارِ غزل کو مبالغے کے اس انداز میں پاؤں کیوں پکڑنا پڑے؟ سوچ رہا ہوں کہ اپنے
مزید پڑھیے


ویلنٹائن ڈے بمقابلہ ’’محبوب آپ کے قدموں میں‘‘

اتوار 14 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم اسے اپنی خوش قسمتی کے علاوہ بھلا اور کیا نام دے سکتے ہیں کہ اس وقت ملک کے کچھ متعدد مقبول و معروف اخبارات و رسائل ہمارے سامنے رکھے ہیں۔ ہم ان میں دی گئی سنہری پیشکشوں اور اپنے نوجوانوں کو میسر سہولیات پر زارو قطار مسکرا بلکہ باغ باغ ہوئے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا، جسے ظاہر ہے جہالت اور بے خبری کا زمانہ ہی کہا جا سکتا ہے، جب لوگوں کو اپنی حاجت روائی کے لیے سَنتوں، سادھوؤں کی تلاش میں جنگل بیلے چھاننا پڑتے تھے۔ معمولی معمولی امراض کے ازالے کے لیے ساٹھ ساٹھ ستر
مزید پڑھیے


جدید اقبالیات سے شدید اقبالیات تک !

منگل 09 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جب سے برادرم ڈاکٹر معین نظامی نے شاعرِ مشرق سے روا رکھے جانے والے عجیب و غریب رویوں سے متعلق کسی قادر الکلام شاعر کو اظہارِ خیال کی دعوت دی ہے۔ ہمارے لنگوٹیے دوست لالہ بسمل کو کسی کل چَین نہیں پڑ رہا۔ لالہ کی قادر الکلامی سے متعلق تو ہمیں زیادہ علم نہیں لیکن ان کی نادرالکلامی کا ایک عالم گواہ ہے۔ کبھی کبھی وہ اپنے باپ دادا کے انوکھے ، نرالے کلام سے بھی احباب کو مستفید کرتے رہتے ہیں، ان کے اس عمل کو حکیم جی نے ’فادر الکلامی‘ کا نام دے رکھا ہے۔ لالہ فرماتے ہیں
مزید پڑھیے



کیا کیا نہ کیا ہم نے تیرے لاک ڈاؤن میں!

اتوار 07 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کورونا زدہ زندگی کا اژدہا اب ایک سال کی گہما گہمی ڈکارنے کو ہے۔ اس اوکھے اور انوکھے عرصے میں جو نقصان ہوئے، ان میں بعض کی تو تلافی بھی ممکن نہیں لیکن اپنی ذات کی حد تک بتاتا ہوں کہ زندگی کے کئی پسندیدہ مشاغل میںباقاعدگی آ گئی۔ مطالعہ، قیلولہ، ٹیبل ٹینس، کالم نگاری اور ارطغرل غازی… نماز الحمدللہ پہلے سے ہی ذات، اوقات اوراہم ترین مصروفیات کا حصہ ہے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اس وقت زندگی میں آسودگی یا فراخی کا جو احساس ہے، اس میں کافی حد تک آخری مصروفیت کی باقاعدگی کی برکت کودخل ہے۔مطالعے
مزید پڑھیے


مزاح کی مملکت

منگل 02 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
گزشتہ دنوں ایک دوست کی وساطت سے جناب سہیل احمد (عزیزی) کا فون آیا ۔ کہنے لگے: مَیں نے سنا ہے آپ نے مزاح میں پی ایچ۔ڈی کر رکھی ہے، مجھے ذرا مزاح کی تعریف تو کر کے دکھائیں! عرض کیا: ’مزاح بہت اچھی چیز ہے، دُکھی دلوں کے لیے ایک طرح کا ٹانک ہے، من کی افسردہ کلیاں کھلانے کا تیر بہدف نسخہ ہے، زبانوں اور رویوں سے لگے زخموں کے لیے مرہم ہے۔معاشرے کا حُسن ہے، دنیا کی ہر زبان کے ادب کی آبرو ہے۔ یہ جہاں، جسے ہمارے فلسفی قسم کے لوگ دارالمحن یعنی دکھوں کا گھر
مزید پڑھیے


جنوری بیگم

اتوار 31 جنوری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
چند روز قبل خواب میں ایک انوکھا منظر دیکھا کہ ایک بڑی سی حویلی کے صدر دروازے کے اوپر ایک جمبو سائز مالٹے کی شکل اوڑھے مسٹر آفتاب کہ جس کا صبح اُڑنے سے پیشتر بھی رنگ زرد ہی تھا، اب تو وہ بالکل زردے کا تھال لگ رہا تھا۔ صدر دوازہ کہ جس کی بیرونی تختی پہ مسٹر’ بیس مار خاں‘ کا نام اور گھر کے نمبر کے طور پر ۳۶۵ کا ہندسہ واضح طور پر پڑھا جا سکتا تھا، دھیرے دھیرے بند ہو رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ یہ اداس کر دینے والا منظر مزید دھندلاتا
مزید پڑھیے


ماضی چشیدہ لوگ

منگل 26 جنوری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے ہاں ماضی سے وابستہ یا ناسٹلجک لوگوں کے لیے ’ماضی گزیدہ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، جو کچھ مناسب نہیں لگتی ، اصل میں یہ تو ماضی چشیدہ لوگ ہوتے ہیں، جنھوں نے ایک تہذیب کو اپنے دلوں، دماغوں، حافظوں بلکہ پلکوں پہ بٹھا رکھا ہوتا ہے اور یہ ماضی تو بقول ڈاکٹر خورشید رضوی ہماری زندگی میں سیمنٹ کا کام کرتا ہے۔ آج ہماری ناکامی اور نئی نسل سے ہماری جُڑت میں اسی سیمنٹ کی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً ہر گھر میں دو بالکل مختلف بلکہ بعض جگہوں پہ متضاد نسلیں ایک ہی
مزید پڑھیے


گِری پڑی شاعری

پیر 25 جنوری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اس میں کوئی شک نہیں کہ شعر، شعور کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بغیر ضرورت، فرمائش، موقع کے سنایا ہوا شعر شعور کی قلعی بھی کھول دیتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ شعر اور حُسن جب تک چونکائے ناں، لوگ نوٹس ہی نہیں لیتے… اور اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ شاعر جب تک سنائے نہ اس کے مرتبے کی خبر نہیں ہوتی۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات مشاعرے میں تھرتھلی مچا دینے والا شعر کاغذ پہ آ کے ککھ دا نہیں رہتا … کبھی کبھی
مزید پڑھیے