BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


اکبر الٰہ آبادی کی سوویں برسی (2)


آج ہمارے ٹی وی چینلوں پہ نظر کر لیجیے جہاں مطمئن بیوپاری ہر طرف ’مخولیاتی آلودگی‘ پھیلائے ہوئے ہیں۔ منھ پھٹ اداکارایک دوسرے کی ماں بہن کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں کہ اُردو مزاح کی ماں بہن ایک ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح ’شوہر، بیوی اور بکرے‘ تک محدود مزاحیہ مشاعروں کے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد شاعروں کو آج تک مسکراہٹ اور ’مسخراہٹ‘ کا فرق ہی معلوم نہیں ہو سکا لیکن اگر ہم اکبر کی شاعری پر نظر کریں تو اپنے دور کی سیاسی چال بازیوں کا جو نقشہ اکبر کی شاعری میں نظر آتا ہے، اس کے ڈانڈے
منگل 14  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

اکبر الٰہ آبادی کی سوویں برسی

اتوار 12  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
دنیا میںکوئی سخت سے سخت قانون، کڑے سے کڑا اخلاقی ضابطہ مزاح اور مذاق میں کہی ہوئی بات پہ حد جاری نہیں کرتا بلکہ کسی بھی آئین میں لطائف اور ظرائف کا سنجیدہ نوٹس ہی نہیں لیا جاتا کیونکہ مزاح تو سماج کی گری پڑی جزئیات کو پلکوں سے اٹھا کے ہونٹوں پہ سجانے کا عمل ہے۔ تاریخ اٹھا کے دیکھ لیجیے کہ قیصر و کسریٰ کا کِبر ہو یا کسی بھی ملک میں آمریت کا پھیلایا ہوا جبر، ہر جگہ دلقک، مسخرے اور مجنون کی بات کا برا نہیں مانا جاتا بلکہ باذوق قسم کے بادشاہ تو تفننِ طبع
مزید پڑھیے


اورینٹل کا جو ذکر کیا …3

منگل 07  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
حضرت! تمھاری اس علم نگری سے وابستہ و پیوستہ تیرہ مردوں کے ساتھ تین مزید خواتین کا ذکر کیے بغیرمجھ سے رہا نہیں جا رہا۔ اس طرح ان کو ’تیرہ میں نہ تین میں‘ والا شکوہ بھی نہیں رہے گا۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ خواتین کے تذکرے کے بغیر دنیا بھر کا ادب اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔ مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ ان حوا زادیوں کے لیے سیدھا سیدھا ’خواتین‘ کا لفظ زیادہ موزوں تھا، یہ خواتین کی بدعت جانے کس دور میں رائج ہوئی؟ ان تینوں میں ایک تو منٹو میاں
مزید پڑھیے


مشتاق احمد یوسفی کے سَو سال

اتوار 05  ستمبر 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو ادب کا تابندہ و درخشندہ ستارہ، اُردو نثر کا روشن استعارہ، اُردو مزاح کا مہِ تاباں، جو راجھستان کے ایک رانگھڑ گھرانے میں چار ستمبر ۱۹۲۱ء کو ملنگ خاں کے صاحب زادے عبدالکریم خاں یوسفی کے ہاں ست ماہے بچے کے طور پر طلوع ہوا۔ جس نے تعلیمی امتحانوں اور عملی میدانوں میں انگشت بدنداں قسم کی کامرانیاں سمیٹیں لیکن ناموری کا اصل چاند حرف و حکمت کے آسمان پہ چمکا۔ یوسفی، پیشے کے اعتبار سے بینکر تھے، طویل عرصہ یو بی ایل کے صدر رہے لیکن پچپن سالوں میں ایل بی یو (Literary Bank Unlimited) میں پانچ اکاؤنٹ(چراغ
مزید پڑھیے


اورینٹل کا جو ذکر کیا……(2)

منگل 31  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پھر اس ادارے میں تمھارے وہ ناز پرور، ناز بردار حبیبِ لبیب شعیبِ شاہد بھی تو ہیں، جو لفظوں اور استعاروں کے مزاج کو میاں ذوق کی طرح خوب سمجھتے ہیں، شنید ہے، اُنھوں نے بھی یہاں کیمتعدد شوخ چشموں، جاہ حشموں کی مانند اپنے لیے جورو کا انتخاب اسی کلیۂ عروسی سے کیا تھا۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ محترمہ ’’اگر کوئی شعیب آئے میسر‘‘ کی خواہش کے ساتھ کس عزم کا عَلم لے کر ان کے کھونٹے سے بندھی ہوں گی۔ ہمیں تمھیں تو اس گناہِ بالذت کی توفیق نہیں ہوئی، ہم بھلا اس میوۂ بہشتی کی
مزید پڑھیے



کہا ہم کابل جائیں گے!

اتوار 29  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
چند سال قبل کسی حسبِ عادت قسم کے دوست نے وٹس ایپ پر ایک اجنبی شاعر کی مترنم وڈیو ارسا ل کی۔ ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے کہ کسی مروت کے مارے دوست کو کہیں سے بھی کوئی پوسٹ موصول ہوتی ہے تو وہ اُسے خود ڈھنگ سے دیکھے نہ دیکھے لیکن جذبۂ خیر سگالی کے تحت اگلے دوست تک پہنچانے کو وہ عین اپنا فرضِ منصبی جانتا ہے۔ ایسے میں کم ہی کلپس ایسے ہوتے ہیں جنھیں اگلا دوست بھی اول تا آخر سننے یا دیکھنے کا تکلف کرتا ہو۔ اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ
مزید پڑھیے


اورینٹل کا جو ذکر کیا …

منگل 24  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سنو!صاحب زادہ معین نظامی! اب تو تم اتنے بڑے صاحب ہو گئے ہو کہ جی چاہتا ہے تمھیں صاحب زادہ کی بجائے ’صاحب زیادہ‘ کہوں۔ میاں یہ بات ذہن میں رکھنا کہ یہ فقیرِ باتصویر تمھیں اس وقت سے جانتا ہے جب چونتیس سال قبل تم اس کلیہ شرقیہ میں ایک پرنس کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے۔ اس کے بعد بہت سا پانی اور پاپی پُلوں، انڈر پاسوں، اوور ہیڈ برجوں کے اوپر، نیچے، حتیٰ کہ دائیں، بائیں سے بے دھڑک گزرتے رہے۔ اب آ کے سنا ہے کہ تم اسی ادارے کے پرنسپل بن گئے ہو؟ میاں! میرے لیے
مزید پڑھیے


عمران خاں حکومت کے تین برس

اتوار 22  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کل شام ہم نے یونہی بیٹھے بٹھائے غور کیا کہ آج کل فی زمانہ کون کون سے فیشن عروج پر ہیں؟ بہت سوچنے پر بھی ہمیں تین سال پہلے کی تو کوئی بات یاد نہ آئی البتہ یہ ضرور پتہ چل گیا کہ ان دنوں موجودہ وزیرِ اعظم کی ذات، کردار اور اعمال میں سے خامیاں، کوتاہیاں اور نالائقیاں تلاش کرنا میڈیا اور سوشل میڈیا کا من پسند شیوہ ہے۔ اس بات پر تو ہمیں باقاعدہ شرم محسوس ہوئی کہ آخر ہم بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم نے ابھی تک اس دوڑ میں بڑھ چڑھ کر شمولیت
مزید پڑھیے


بچوں کی ممی سے فرعون کی ممی تک!

منگل 17  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اپنی اس سُستی کو ہم سرِ مجلس تسلیم کرتے ہیںکہ آج تک ہم نے دنیا بھر کے حسین مقامات اور جمیل مسمات کو بالعموم سفرنامے اور سفرنامہ نگار ہی کی شریر و متجسس آنکھ سے دیکھ رکھا تھا لیکن جہاں تک سر زمینِ مصر کا تعلق ہے، یہ پہلے تو محض قرآن میں مذکور حُسنِ یوسف اور حُزنِ موسیٰ کے حوالے سے ہمارے حافظے میں ترازو تھی۔ اس طلسماتی دھرتی کا تھوڑا بہت تعارف اُردو کے پہلے سفرنامہ نگار یوسف خاں کمبل پوش نے فراہم کیا۔ بعض قابلِ التفات پہلو پروفیسر ابراہیم محمد ابراہیم ، جو ماضی میں ہمارے پنجاب
مزید پڑھیے


بَل کسر کا پر اثر مزاح نگار

اتوار 15  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو، پرائمری سکول ہی سے میرا پسندیدہ مضمون رہا ہے۔ پانچویں جماعت میں اُردو کی لازمی کتاب کے ساتھ دلچسپ قصے کہانیوں اور لطائف پر مبنی ’اُردو کی اضافی کتاب‘ نے اس شوق کو اور بھی مہمیز کیا۔ ساتویں آٹھویں کی اُردو کتاب میں ’قدرِ ایاز‘ کے عنوان سے ایک مضمون شامل تھا،جس میں ایک شاندار بنگلے کے رہائشی بچے سلیم کو اُس کا والد اپنے بچپن کے دیہاتی دوست’چھوٹے چودھری‘ کی کہانی سناتا ہے، جو گاؤں کے ایک سادہ سے گھر میںپالتو جانوروں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اس کے پاس پہننے کو ڈھنگ کے کپڑے ہوتے ہیں، نہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں