BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


مکڑے، مکھیاں اور اقبال


بڑے شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کے افکار و نظریات زمانی و مکانی حدود سے ماورا ہوتے ہیں۔ ہر زمانے میں اس کے اشعار سے مفہوم و معانی کی نئی نئی پرتیں اور جہتیں نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اُردو میں یہ مقام حضرتِ علّامہ اقبال ( کل جن کا ۱۴۳ واں یومِ ولادت ہے)کو حاصل ہے کہ ہم زندگی کے کسی بھی موضوع و مسئلے پہ بات کرنے لگیں، بات کرنے والے کا تعلق چاہے کسی بھی شعبے سے ہو، علّامہ کے کسی شعر، مصرعے یا نظم کا سہارا لیے یا حوالہ دیے بغیر تحریر و
اتوار 08 نومبر 2020ء مزید پڑھیے

ہوسِ اقتدار اور مِکس اچار

منگل 03 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہماری اب تو باقاعدہ کوشش ہوتی ہے کہ سارا وقت اس چوں چوں کا مربہ قسم کی اپوزیشن پہ نہ ضائع کیا جائے، جس کے اندر پہلے ہی بہت سے لطیفے، حریفے، ظریفے اور کثیفے جنم لے چکے ہیں، جس میں کہیں کوئی مولانا نون لیگ کے خرچے سے بنے پلیٹ فارم پہ ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگوا رہے ہیں۔ کہیں نواز شریف کی جمبو سائز تصویر کے نیچے پاکستان پیپلز پارٹی لکھا ہے۔کہیں اس اکٹھ کے سرغنہ کسی دوسرے کے حصے کی تقریر اٹھا کے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہیں آلو ٹماٹر درجنوں کے حساب سے
مزید پڑھیے


ہمارے مسائل کا واحد حل

اتوار 01 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
میرزا غالب ہمارے بڑے ہی متلون مزاج اور منفرد اطوار شاعر تھے، کسی چیز کو خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے۔ان کی شاعری کا مطالعہ کریں تو کہیں وہ ’اورنگِ سلیماں‘ کو اک کھیل قرار دیتے نظر آتے ہیں اور کہیں ’اعجازِ مسیحا‘ کو ایک معمولی بات ثابت کرنے پر بضد ہیں۔ کبھی دنیا کو ’بازیچۂ اطفال ‘ سمجھتے ہیں، تو کہیں خضر وسکندر کو طرح طرح کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر نہ وہ فرہاد کی نیک نامی کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ طور کے واقعے سے دل برداشتہ ہو کر خدا سے ملاقات کے ارادے سے
مزید پڑھیے


ماہِ ولادت با سعادت اور ہم

منگل 27 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہماری زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب ایک دن بطور ایک لااُبالی طالب علم پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے فارسی کی کلاس پڑھ رہے تھے اور اگلے روز سیالکوٹ کے فیڈرل کالج میں ذمہ دار استادبنے کھڑے تھے۔ نوکری ملنے کے بعد لوگوں کی زندگی میں یقینا خوبصورت اتفاقات رونما ہوتے ہیں ہمارے حصے کے اتفاقات میںایک مولوی صاحب نمایاں تھے۔ اجنبی شہر میں کنوارے اساتذہ نے جو مشترکہ مکان کرائے پر حاصل کیا، اس میں مولانا اسلم قریشی میرے ہم کمرہ ٹھہرے، جو اسلامیات کے استاد تھے۔ ایک مخلص دوست ہونے کے ساتھ ساتھ شعر
مزید پڑھیے


کچھ بھُولے بِسرے ادیب

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
گزشتہ برس ماہنامہ ’قومی زبان‘ میں میرا مضمون ’ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی ایک محقق، ایک خاکہ نگار‘ چھپا تو اس کے چند روز بعد ڈاک میں ایک پیکٹ موصول ہوا، جو ایک خوبصورت کتاب اور ایک بے دھڑک خط پر مشتمل تھا۔ کتاب، سید انیس شاہ جیلانی کے خاکوں کی دو کتابوں’آدمی غنیمت ہے‘ اور ’آدمی آدمی انتر‘ کا مرکب تھی، جسے جناب راشد اشرف نے محبت سے مرتب کیا ، اور خط انیس شاہ جیلانی کے صاحبزادے سید ابو الفضل شاہ کا۔انداز ملاحظہ ہو: ’’آپ کا مضمون خاکہ نگاری کے حوالے سے دلچسپ ہے، لیکن اس میں ایک کمی رہ
مزید پڑھیے



چلو چلیے انارکلی !

منگل 13 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
انارکلی سے میرا پہلا اور رومانوی قسم کا تعارُف اس وقت ہوا جب شادی بیاہوں پہ لڑکیاں بالیاں لہک لہک اور کسی حد تک بہک بہک کے گایا کرتیں: ؎ ساڈے بُوہے اگے کار کھَلی چاننیاں راتاں ، چلو چلیے انارکلی ہمارے ذہنوں میں اس لفظ کے ساتھ ہی کسی پرستان یا خیالی دنیا کا تصور انگڑائیاں لینے لگتا۔ انارکلی سے دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب ہمارے شدید قسم کے بچپن میں پاکستان ٹیلیوژن پہ دھوم دھڑکے کے ساتھ امتیاز علی تاج کے ڈرامے ’’انارکلی‘‘ پہ مبنی فلم مغل اعظم دکھائے جانے کا اعلان ہوا ۔ دیکھتے ہی
مزید پڑھیے


ٹینیور’ ڈی‘ ٹریک ایجوکیشن سسٹم

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
محکمہ تعلیم کے دیرینہ، پیچیدہ، لا ینحل اور گھمبیر مسائل پہ بات کرنے سے پہلے آئیے لمحۂ موجود کے مقبول اور معروف مزاح گو شاعر جناب ڈاکٹر عزیز فیصل، جو خود بھی وفاقی دارالحکومت میں محکمہ تعلیم ہی کے ایک ادارے کے سربراہ ہیں،کی یہ انوکھی اور چلبلی غزل ملاحظہ کیجیے: اُس کا محبوب ہَیک ہو گیا ہے دل پہ اُس کے اٹیک ہو گیا ہے پاؤڈروں ، سُرخیوں سے وہ مُکھڑا رفتہ رفتہ بلیک ہو گیا ہے گیٹ پر اُس کے سانپ بیٹھا تھا قیس کوچے سے بَیک ہو گیا ہے اب وہ بیوی سے بھی نہیں ڈرتا اب وہ اتنا کریک ہو گیا
مزید پڑھیے


ذخیرہ اندوزوں کی قسمیں

منگل 06 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
آج سے انیس بیس سال قبل کی بات ہے کہ ہمارے اس وقت کے ایڈیٹوریل انچارج جناب اطہر ندیم نے ایک جنرل اور ان کی باقیات کے پروردہ ایک بظاہر پڑھے لکھے صحافی گھرانے کی بابت بتایا کہ جب ان کے پاس خدا اور ضیا کا دیا کافی پیسہ آ گیا تو انھیں کاروبار کرنے کی سوجھی۔ کسی بھیدی نے ان کی جمع اور طمع شدہ پونجی دیکھ کے مشورہ دیا کہ اس وقت چلغوزے کی فصل تیار ہے، آپ یوں کریں کہ مارکیٹ میں موجود کل چلغوزہ اٹھا لیں، چند دنوں بعد ڈبل قیمت پہ بیچ دیں، چلغوزہ کھانے
مزید پڑھیے


دواستاد،دوکتابیں

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
خاندانِ شریفیہ تو خیر بعد کی بات ہے، اس لاہور کو کبھی شرفا کی نگری بھی کہا جاتا تھا۔ آج کل تو کہتے ہیں کہ اس شہر میں ایک سالم شریف ڈھونڈنا بھی کارِ دارد ہے، جب مَیں اپنے گاؤں سے ایم اے اُردو کرنے پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج آیا تو میری خوش قسمتی دیکھیے کہ مجھے ایک نہیں دو دو شریف ایک ساتھ مل گئے، وہ بھی دونوں مولوی۔ ان میں ایک تو اپنے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی تھے، جن کے خاکے ’’بھلا مانس پروفیسر‘‘ میں راقم نے عرض کیا تھا کہ ان کا گھر بچوں اور کتابوں سے
مزید پڑھیے


لُوٹ، جھوٹ اور بُوٹ

منگل 29  ستمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اپنے اپنے منافقانہ مفادات کی بُکل میں منعقد ہونے والی اے پی سی کے غبارے سے اتنی جلدی ہوا نکل جائے گی، کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ خواجہ حیدر علی آتش کا کسی ایسے ہی موقع کے لیے کہا گیا،یہ شعر آج بھی کتنا حسبِ حال ہے کہ: بہت شور پہلو میں سنتے تھے دل کا جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا ہمارے ایک دوست تو اس دھوم دھڑکے والی اے پی سی کو پہلے دن سے ’’اے کی سی؟؟‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے، مختلف نام نہاد
مزید پڑھیے








اہم خبریں