BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


بچوں کی ممی سے فرعون کی ممی تک!


اپنی اس سُستی کو ہم سرِ مجلس تسلیم کرتے ہیںکہ آج تک ہم نے دنیا بھر کے حسین مقامات اور جمیل مسمات کو بالعموم سفرنامے اور سفرنامہ نگار ہی کی شریر و متجسس آنکھ سے دیکھ رکھا تھا لیکن جہاں تک سر زمینِ مصر کا تعلق ہے، یہ پہلے تو محض قرآن میں مذکور حُسنِ یوسف اور حُزنِ موسیٰ کے حوالے سے ہمارے حافظے میں ترازو تھی۔ اس طلسماتی دھرتی کا تھوڑا بہت تعارف اُردو کے پہلے سفرنامہ نگار یوسف خاں کمبل پوش نے فراہم کیا۔ بعض قابلِ التفات پہلو پروفیسر ابراہیم محمد ابراہیم ، جو ماضی میں ہمارے پنجاب
منگل 17  اگست 2021ء مزید پڑھیے

بَل کسر کا پر اثر مزاح نگار

اتوار 15  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو، پرائمری سکول ہی سے میرا پسندیدہ مضمون رہا ہے۔ پانچویں جماعت میں اُردو کی لازمی کتاب کے ساتھ دلچسپ قصے کہانیوں اور لطائف پر مبنی ’اُردو کی اضافی کتاب‘ نے اس شوق کو اور بھی مہمیز کیا۔ ساتویں آٹھویں کی اُردو کتاب میں ’قدرِ ایاز‘ کے عنوان سے ایک مضمون شامل تھا،جس میں ایک شاندار بنگلے کے رہائشی بچے سلیم کو اُس کا والد اپنے بچپن کے دیہاتی دوست’چھوٹے چودھری‘ کی کہانی سناتا ہے، جو گاؤں کے ایک سادہ سے گھر میںپالتو جانوروں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اس کے پاس پہننے کو ڈھنگ کے کپڑے ہوتے ہیں، نہ
مزید پڑھیے


طفیل احمد جمالی: ایک بُھولا بِسرا ظریف

منگل 10  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
2003ء میں پنجاب یونیورسٹی نے میری تمام تر غیر سنجیدگیوں کے باوجود مجھے پی ایچ۔ڈی کی نہایت سنجیدہ ڈگری عطا کر دی۔2004ء میں میرا سات سو صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ ’’اُردو نثر میں طنز و مزاح‘‘ کے عنوان ، استادِ محترم پروفیسر عبدالجبار شاکر کی محبت اور کتاب سرائے کے تعاون سے کتابی صورت اختیار کر گیا۔ کتاب چھپتے ہی مَیں نے ’جل تُو جلال تُو‘ پڑھتے ہوئے ایک کاپی کراچی میں مشفق خواجہ کو بھی روانہ کر دی۔ واقفانِ حال اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کو کتاب بھجوانا ’آ بَیل مجھے مار‘ کے مترادف ہوا کرتا تھا۔
مزید پڑھیے


انڈیا کا ظاہری و باطنی حسن

اتوار 08  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بھارت کو اس وقت کئی چھوٹی بڑی بیماریوں کا سامنا ہے: ۱۔ کوویڈ 19 ۲۔ سمندری طوفان ۳۔ سفید پھپھوندی ۴۔ بلیک فنگس ۵۔ ڈیلٹا ۶۔ اور ان سب سے بڑھ کے قبیح فطرت نریندر مُودی مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ انھیں یہودیوں جیسا مکار مخالف روزِ اول ہی سے میسر آ گیا۔ اسی طرح پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ اُسے ہندو جیسی مکروہ مخلوق کی دشمنی بھی ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ورثے میں مل گئی۔ دیگر مسلمانوں کی نسبت ہمارا مسئلہ مزید گھمبیر اس طرح ہوا کہ ہمیں اپنے محدود وسائل کے باوجود ان دونوں شاطروںکا بیک وقت سامنا ہے۔
مزید پڑھیے


خُطبۂ شرارت

منگل 03  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شیخوپورہ کے بارے میں تو مَیں پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں کہ یہاں وِرکوں کی ایسی بھرمار ہے کہ کسی دُکان کے اوپر وَرکشاپ بھی لکھا ہو تو لگتا ہے، وِرک شاپ لکھا ہے۔ حکیم جی اکثر مجھے یاد دلاتے رہتے ہیں کہ شیخوپورہ سے میری محبت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ انگریزی میں She سے شروع ہوتا ہے لیکن دوستو! شیخوپورہ کی فاطمہ جناح لائبریری، جہاں یہ تقریب برپا ہے، سے مجھے ہمیشہ خدا واسطے کا عشق رہا ہے۔ اپنے پی ایچ۔ ڈی کے زمانے سے لے کے آج تک یہ میرے دل
مزید پڑھیے



باپ کے ’نقصِ قدم‘ پر

پیر 02  اگست 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
باپ کی وراثت سے مناسب حصہ پانا عین فطری اور اسلامی ہے لیکن باپ کے بِرتے پر کسی اہم ترین حکومتی عہدے یا قومی قسم کی کلیدی ذمہ داری کو بغیر اہلیت، بنا میرٹ محض ’’میرا اَبّا‘‘ کی بنیاد پر اُچک لینا، کسی بھی معاشرے یا کسی بھی زمانے میں اچھا عمل یا کارِ دانش مندی نہیں گردانا گیا۔ پھر جن معاشروں میں ایک مالی، چوکیدار، کلرک یا پرائمری سکول ٹیچر بھرتی ہونے کے لیے بھی کسی نہ کسی مہارت یا استعداد کو ضروری قرار دیا گیا ہو وہاں کسی اہم عہدے یا بھاری معاشرتی ذمہ داری کے تقاضوں پہ
مزید پڑھیے


عنایتیں کیا کیا!

منگل 27 جولائی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سر پر سنجیدہ جناح مارکہ ٹوپی، بدن پہ جچتی ہوئی دیدہ زیب شیروانی،لمبی شرعی داڑھی سے سجا ہوا نہایت مطمئن چہرہ، شرم و حیا کو مَس کرتی عینک،چہرے پہ تھوک کے حساب سے برستی شرافت… کوئی ان کو پہلی نظر میں دیکھ کے کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ بابا ہنس بھی سکتا ہے اور سچ بات بھی یہی ہے کہ مشاعرہ پڑھتے ہوئے بھی شاید ہی کبھی انھیں ہنستے ہوئے دیکھا گیا ہو… یہ کام انھوں نے اپنے قارئین پہ چھوڑ رکھا تھا، قارئین پر اعتماد جو تھا۔حیدرآباد جیسے مضافاتی شہر میں بیٹھ کے قومی سطح کے مشاعروں میں
مزید پڑھیے


اور طرح کی شاعرہ

پیر 26 جولائی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
آج سے چونتیس برس قبل یونیوسٹی میں داخلہ لینا مجھ جیسے دیہاتی کی زندگی کا سب سے انوکھا اور کارآمد تجربہ تھا۔ شیخوپورہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے اُٹھ کے پنجاب کے دل لاہور میں حیرانی بن کے دھڑکنے لگ جانا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ پھر اورینٹل کالج تو لاہور کا بھی جگر تھا۔ گزشتہ دنوں اسی اورینٹل میں امجد صاحب کے لیے منعقدہ تقریب میں راقم نے اپنے مضمون میں انھیں مشورہ دیا کہ وہ اورینٹل میں داخلہ لینے والے ہر اُستاد اور طالب علم سے اپنی نظموں کی رائلٹی وصول کیا کریں کیونکہ یہاںکے جذباتی معاملات میں
مزید پڑھیے


تھا براہیم ؑ پِدر ، اور پِسر آزر ہیں!

منگل 20 جولائی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
حکیم الامت، دانائے راز، حضرت علّامہ نے ہندوستانی مسلمانوں کی قرآن و سُنّت سے ہٹی اور خواہشات و ظاہرات سے اَٹی دینی، اخلاقی، سماجی اور تہذیبی صورتِ حال دیکھ کے سو سال پہلے ہی فرما دیا تھا : بُت شکن اُٹھ گئے ، باقی جو رہے بُت گر ہیں تھا براہیمؑ پدر ، اور پسر آزر ہیں دین کے بارے میں ہندوستان بھر کا سب سے بڑا المیہ یہی رہا ہے کہ یہاں اس کا بڑا حصہ عجم کے راستے پہنچا، جہاں کا کلچر ایک طرف قصہ گوئی اور مبالغہ آمیزی کی طرف مائل تھا اور دوسری جانب عربوں سے دشمنی یا مزاج
مزید پڑھیے


ہماری گنتی، کس گنتی میں؟

اتوار 18 جولائی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اپنے بتیس سالہ تدریسی تجربے کی بنا پر سچ کہتا ہوں کہ اُردو کو مشکل اور نئی نسل میں غیر مقبول بنانے میں سب سے زیادہ ہاتھ ہماری گنتی کا ہے۔یہ غالباً دنیا کی واحد گنتی ہے جسے ایک سے سو تک، یعنی ہر ہندسے کو الگ الگ یاد کرنا پڑتا ہے۔ مغرب پرست اور انگریزی نواز طبقہ اس کی اسی کج ادائی کو بنیاد بنا کر اِسے کسی گنتی میں شمار نہیں کرتا۔ میرے خیال میں یہ صورتِ حال، تمام ہندسوں کو غیر ذمہ دارانہ یک لفظی نام یا پہچان عطا کرنے کی شعوری یا ادھوری کوشش سے پیدا
مزید پڑھیے








اہم خبریں