BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


جماعت اسلامی کو دلی مبارک باد


جب سے اپنے محترم بھائی سراج الحق کو بلاول میاں کے ساتھ شانہ بشانہ پریس کانفرنس کرتے دیکھا ہے، دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا ہے۔ ان کی چِٹی خبور ٹوپی ، بلاول کے سفید ماسک سے اتنی میچ کر رہی تھی کہ دونوں کی ایک ہی وقت میں بلائیں لینے کو جی چاہ رہا تھا۔ اس وقت تو لطف اور بھی دوبالا ہو گیا جب ہمارے ایک جیالے دوست نے سینے پہ ہاتھ مار کے کہا: ’ہم نے اپنے جھنڈے میں سبز رنگ ایسے ہی شامل نہیں کیا تھا!!‘‘ مولانا کے ’لبرل‘ ہونے کا اندازہ تو ہمیں اسی
اتوار 28 مارچ 2021ء مزید پڑھیے

مَیںکس کا پاکستان ہوں؟

منگل 23 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جی ہاں! میرا ہی نام پاکستان ہے۔ نہ اِس کا پاکستان، نہ اُس کا پاکستان! بلکہ جو لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کے ، نعرے لگا لگا کے ، لوگوں کو دکھا دکھا کے مجھ پر اپنی ملکیت کی دھونس جماتے ہیں، اُن کا تو مَیں بالکل بھی نہیں ہوں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ میری نظریاتی عمر اب نویں دہائی میں داخل ہو چکی ہے۔میرے جغرافیائی وجود کو قرار پا ئے بھی آج اکاسی برس ہو گئے ہیں۔ میری اصلی عمر کی کشتی بھی تمام تر ڈکے ڈولوں کے باوجود محض خدا کے فضل سے تہتر ویں سال کے کنارے
مزید پڑھیے


مدینہ کی ریاست کیلئے کون کون تیار ؟

اتوار 21 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کثرتِ زر کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ یہ سچائیوںاور اچھائیوں پہ اسی طرح غالب آ جاتی ہے، جس طرح بقول شیخ سعدی لہسن کی بُو، مُشک و عنبر کو ڈھانپ لیتی ہے اور ڈھول کی آواز بربط کے سازوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہی ہوا کہ کئی دہائیوں سے اقتدار سے چمٹی جونکوں کو جب گندے خون (حرام مال) کی رسد بند ہوئی۔ لوگوں نے ان کی کرپشن کی ’گجب کہانی‘ سے تنگ آ کر کسی نئی پارٹی کو منتخب کرنا چاہا تو انھوں نے اسی وافر دولت کو پہلے تو اپنے غلیظ
مزید پڑھیے


تُرکی ڈرامے کی ادبی خوبصورتیاں

منگل 16 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ڈرامے کی بابت سنا ہے کہ یہ یونان سے شروع ہوا، لہٰذا یہ لفظ بھی اسی زبان سے مستعار ہے۔ باقی تمام اصناف کا تعلق پڑھنے سننے اور سر دُھننے سے ہوتا ہے، یہ واحد صنف ہے جس میں ہر چیز، ہر عمل، ہر جذبہ کر کے دکھایا جاتا ہے۔ دیگر اصناف میں اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ اس میں مصنف کی کہانی کاری کے ساتھ مکالمہ نگاری، فن کار کی اداکاری، لوکیشن مینجر کی سیٹ ڈیزائننگ،، موسیقار کے صوتی کمالات، ہدایت کار کی ذہانت اور کیمرہ مین کی تکنیکی مہارت، سب مل کے ایک شاہکار کی
مزید پڑھیے


فِکس ملین ڈالر مَین

اتوار 14 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کبھی حافظے کی سکرین پہ بچپن کے واقعات کی فلم چلنے لگے تو راجر مور کی مہماتی ڈراما سیریز’’ سِکس ملین ڈالر مَین‘‘ بھی ذہن کے کواڑوں پہ دستک دیتے ہوئے گزرتی ہے، جس کا ہیرو جناتی اعصاب و قویٰ کا مالک دکھایا گیا تھا۔ وہ اپنے مقابل آنے والی ہر قوت کو روندتا چلا جاتا۔ بڑے سے بڑے ٹرالر کو الُٹ دینا، کھمبوں کو زمین سے اکھاڑ دینا، دریا کو ایک ہی جست میں پھلانگ جانا، بڑے سے بڑے پھنے خاؤں کو پلک جھپکتے میں پچھاڑ دینا، اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ راہ میں حائل ہونے والی
مزید پڑھیے



تلوار کی دھار پر لکھے گئے، دو ناول

منگل 09 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم نے آج تک روپے پیسے کے لیے تو کوئی خاص دعا نہیں مانگی، وہ رازقِ برحق گزارے لائق دیتاہی چلا جاتا ہے لیکن کامل تندرستی، اچھے دوستوں اور عمدہ کتابوں کے لیے جھولیاں اٹھا اٹھا کے التجائیں کی ہیں اور مزے کی بات یہ کہ اس رحیم کریم نے کبھی مایوس نہیں کیا، عاریتاً، تحفۃً، قیمتاًیہ خزانہ بھرتا ہی چلا جاتا ہے۔اچھی کتاب تو آپ کے اوپر ایسا نشہ طاری کر دیتی ہے کہ جسے تلخ سے تلخ حالات کی تُرشی بھی نہیں اتار پاتی۔ یہ کتاب ہی کی کرامت ہے کہ زندگی میں کبھی بوریت کا منھ نہیں
مزید پڑھیے


ایوانِ تہ و بالا اور منٹو

اتوار 07 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یادش بخیر مارچ2003ء میں پنجاب یونیورسٹی کے فیصل آڈیٹوریم میں اس وقت کے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ جناب پرویز الٰہی کے ہاتھوں پی ایچ۔ڈی کی ڈگری وصول کی تو لوگوں کو بتاتے ہوئے تأمل ہوتا تھا کہ دنیائے علوم کی سب سے بڑی سند ہم نے ایک ایسے سیاست دان کے ہاتھوں وصول کی، جو سیاست میں جوڑ توڑ کے لیے مشہور ہے۔ حالانکہ اس سیاست دان کے کریڈٹ پہ 1122 ،ٹریفک وارڈنز، کارڈیالوجی اور ایف سی یونیورسٹی کے خوبصورت ای بلاک سمیت بہت سی نیک نامیاں موجود ہیں۔ذات کا جاٹ ہے اور رکھ رکھاؤ، ادب آداب، خیالِ خاطرِ احباب
مزید پڑھیے


شہرِ ادب: میرا ’’گندا‘‘ شہرلاہور؟

منگل 02 مارچ 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پطرس بخاری نے کہا تھا کہ لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں… کرشن چندر نے لکھا کہ لاہور آدمی کو بوڑھا نہیںہونے دیتا… لاہور کے بارے میں یہ بھی سچ ہے کہ یہ ایک بڑا شہر ہے جو چھوٹے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے، بلکہ حکیم جی تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ کھچا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا ہے… یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور جیسی رنگا رنگی شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے شہر میں پائی جاتی ہو کیونکہ جو بھی اس شہر سے بہ امر ِمجبوری و مغروری نکلا، وہ تمام عمر اس کافر حسینہ
مزید پڑھیے


بیاسی سال کا تارڑ

اتوار 28 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پنجابی میں کہتے ہیں: ہووے جٹ تے نہ دیوے مُچھاں نوں وَٹ، مَیں نئیں من دا… لیکن دوستو! ادب میں، مَیں جن تین جاٹوں کے کارناموںپہ فریفتہ ہوں بلکہ جو میرے دل میں بستے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ان میں دو تو کلین شیوڈ ہیں اور تیسرے کی تنی مونچھیں گھنی داڑھی کی بھول بھلیوں میں یوں گم تھیں کہ جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کی یادوں میں گم ہوتا ہے۔ ویسے میرااپنا خیال ہے کہ ہمیں کسی اَنکھاں والے جاٹ کی مونچھیں اُس کے چہرے پہ نہیں، کردار میں تلاش کرنی چاہئیں۔ ممتاز مفتی کہا کرتے تھے،
مزید پڑھیے


اُردو مزاح اُمید سے ہے!

منگل 23 فروری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اکیسویں صدی میں اُردو مزاح کا تذکرہ آتے ہی ذہن میں مزاحیہ مشاعرے اور کامیڈی شو گھوم جاتے ہیں، پھر ان کے بارے میں سوچتے سوچتے دماغ بھی گھوم جاتا ہے۔ مزاح تو ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ اکثر بد مذاقوں کو مذاق بن جانے کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ جب کہ یہاں تو یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مزاح اور مذاق میں ’ح ، ق‘ جتنا نہیں، کوہ قاف جتنا فاصلہ ہوتا ہے۔ مزاح کی بابت ہمارا کامل ایمان ہے کہ یہ خدا کی دین ہے اور اس دین کا احوال موسیٰ سے نہیں قاری اور
مزید پڑھیے








اہم خبریں