BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


عمران خان بمقابلہ جیسنڈرا آرڈرن


جب سے بلوچستان میں دہشت گردی کا دل خراش واقعہ پیش آیا ہے، کچھ مخصوص ذہنیت والے صحافیوں اور سیاست دانوں کی زبانیں گز گز کی ہو گئی ہیں۔ کوئی بدبودار میری اس پاک سرزمین کولعن طعن کر رہا ہے اور کسی بدبخت کے نزدیک لاشیں ہار گئی ہیں اور بعض سیاسی میمنے وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ ان کے پورے خاندان کو اپنی دشنام طرازی کی زَد میں لے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بھیڑ چال یا بھِیڑ چال قسم کی روایت یہ بھی تیزی سے چل نکلی ہے کہ بار بار عمران خان کا مقابلہ یا موازنہ
منگل 12 جنوری 2021ء مزید پڑھیے

سلسلۂ شیرانیہ کا مظہر

اتوار 10 جنوری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم اپنی تین دہائیوں پر مشتمل ’خاکی زندگی‘ میں کئی بار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خاکہ کشی کا اصل لطف تو عام آدمی پر قلم اٹھانے میں آ تا ہے۔ مفروضہ و مبالغہ کے جتنے چاہو مسالے ڈال لو، لوگ چٹخارے پہ چٹخارہ لیتے چلے جائیں گے۔ قلم و قیاس کے دانت جتنے مرضی تیز کر لو چاروں جانب داد و تحسین کے ڈونگرے برستے دکھائی اور سنائی دیں گے۔ عام آدمی کا خاکہ لکھنا تو دانتوں سے اخروٹ توڑنے جیسا کڑاکے دار عمل ہے۔اس میں کہنی سے تربوز توڑنے جیسی بے ساختگی پائی جاتی ہے۔اس میں بکرے
مزید پڑھیے


وِیھ مُک گئی اے!

منگل 05 جنوری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے دیہات میں جب ’حد ہو گئی اے… اخیر ہو گئی اے… End ہو گیا اے…‘ جیسے جملوں سے بات نہ بن رہی ہو تو کہتے ہیں : ’وِیھ (20) مُک گئی اے۔‘ اس سال تو یہ ویھ(20) ذو معنی ہو گیا ہے۔ یار لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس دفعہ : ’ وِیھ (2020) مُک گیا ہے، یا وِیھ مُک گئی اے!! دوستو یہ کیسا انوکھا سال گزرا ہے کہ موبائل فون کے روز روز کے اندوہ ناک پیغامات اور احباب کی رنجیدہ پوسٹوںکے جواب میں ’’ اِنّاللہ وَ اِنّا الیہِ رَاجِعُون… لکھتے لکھتے اُنگلیاں فگار اور
مزید پڑھیے


شالا تیری خیر دسمبر !

اتوار 03 جنوری 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
دنیا بھر میں سال مہینے اور دنوں کو ہمیشہ خاص اہمیت رہی ہے۔ عید، دیوالی، کرسمس،بہ ظاہر تو عام دنوں جیسے دن ہوتے ہیں۔ ان تمام دنوں میں صبحیں، دوپہریں، شامیں اسی موسم کے رنگ میں ڈھلی ہوتی ہیں، راتیں اُسی رفتار سے بسر ہوتی ہیں لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ احساس کی سطح پہ ان دنوں کو عام دنوں سے ممتاز حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح اتوار اور پیر میں بھی کہنے کو توکوئی فرق نہیں ، ان دونوں دنوں میں سورج اسی معمول سے طلوع ہوتا ہے لیکن یہی بات کسی ملازم سے کر کے
مزید پڑھیے


کالم نوازیاں…

منگل 29 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مجھے یاد ہے کہ جب میرا کالم ’اُردو کے دشمن‘ چھپا تو کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر تنظیم الفردوس، نفاذِ اُردو کی محرک محترمہ فاطمہ قمر اور محترمہ عذرا اصغر نے اس انداز سے داد دی کہ باقاعدہ قلبی سکون محسوس ہوا۔ اقبال کی نظم ’مکڑا اور مکھی‘ کی نئی تشریح لکھی تو اس جدید اقبالیات پر بھی کافی واہ واہ ہوئی۔ ’دانش مر گئی ہے‘ چھپا تو برادر ڈاکٹر معین نظامی سمیت کئی احباب نے لکھا کہ یہ تو آپ نے ہمارے حصے کا کام بھی کر دیا۔ اسی طرح جب ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر
مزید پڑھیے



خوشبو والی شاعرہ کی کہانی

اتوار 27 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یہ 1993ء کے اوئل کی بات ہے۔ شیزان لاہور میں جناب حفیظ تائب کے حوالے سے تقریب جاری تھی۔ مختصر سا ہال نامور ادیبوں سے لبالب تھا۔ مَیں دوسری قطار میں بیٹھا شرکا کی گفتگو سننے کے ساتھ ساتھ اپنی پہلی اور نئی چھپی کتاب ’’قلمی دشمنی‘‘ بعض احباب تک پہنچانے میں مصروف تھا۔ اسی تگ و دو میں ایک نسخہ مَیں نے اپنے آگے بیٹھے عطاء الحق قاسمی کی جانب بڑھایا تو انھوں نے کتاب اور مصنف کا نام دیکھ کے فوراً پلٹ کے پوچھا: ’پروین شاکر کا خاکہ آپ نے لکھا ہے؟‘ میرے اثبات پر انھوں نے خاکے
مزید پڑھیے


کھیلن کو مانگے چاند …

منگل 22 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ابھی شاعری کے الفاظ کے پیچھے چھپی جذباتیت کی رانی نے دماغ سے دل کی شاہراہ کا رستہ نہیں دیکھا تھا، لفظوں کے بھیتر محض ردیف قافیے کی چھنا چھن متاثر کرتی تھی ، یا فلمی اور لوک گیت کے ردھم پہ پاؤں آپ تھرکتے تھے۔ البتہ رفتہ رفتہ سہل آسان شعروں نے کانوںمیں ایسا رس گھولنا شروع کر دیا تھا، جو بعض اوقات وجود کی گٹھلی سے پھوٹتی ذوق کی کومل کونپلوں کی نشان دہی کرتا محسوس ہوتا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے سُر اور تال کا ملاپ من آنگن میں گھنٹیاں بجانے لگا۔ گیت، تن بدن میںجاگ لگاتے تھے
مزید پڑھیے


لُکن میٹی

پیر 21 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
تیرہ دسمبر جو سردی سے زیادہ جلسے کی دہشت سے تھر تھر کانپ رہا تھا، کو شیخوپورہ سے پروفیسر اکرم سعید کا شکوہ آمیز فون آیا۔ یہ اکرم سعید وہی ہیں ، جن کو بار بار کی سسرال یاترا کی بنا پر یار لوگوں نے ’سوہروردی‘ کا خطاب دے رکھا ہے۔ جو پنجابی کے باکمال شاعر بھی ہیں اور جن سے ایک زمانے میںہمارا تعارف ان کی انوکھی دو مصرعی نظم ’’لُکن میٹی‘‘ کے ذریعے ہوا تھا۔ نظم آپ بھی سن لیجیے: مَیں بودے لشکا کے نکلاں ، تُوں بُلیاں نوں رنگ کے مَیں وی کوٹ لنڈے دا پایا ، تُوں
مزید پڑھیے


سانحہ جب بھی ستاتا ہے اکہتر والا

منگل 15 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مختصر سی ملکی تاریخ کی یہ ایک طویل تر تلخ حقیقت ہے کہ آج سے انچاس سال قبل مختلف کرداروں کی سازش سے ہمارا ایک بازو ہم سے جدا ہو گیا۔ ان کرداروں کی بابت معروف براڈ کاسٹر آغا ناصر اپنی تصنیف ’ہم جیتے جی مصروف رہے‘ کے باب ’شرحِ بے دردیِ حالات نہ ہونے پائی‘ میں رقم طراز ہیں: ’’شیرِ بنگال مولوی فضل الحق کی قرار داد کے نتیجے میں قائم ہونے والا ’پاکستان‘ دو لخت ہو گیا۔ یہ المیہ ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچا مگر اس ڈرامے کا یہ بڑا کمال بھی تھا کہ ڈرامے کے چاروں بڑے کرداروں
مزید پڑھیے


حزبِ اختلاف یا حزبِ اختلاج؟

اتوار 13 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
نہ جانے کیوں! اپنے سیاست دانوں کو دیکھ کے بچپن میں سنا ہوا دو بچوں کا وہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے۔ سکول ماسٹر جن کے لیٹ آنے کی وجہ پوچھتا ہے تو ان میں ایک کہتا ہے: ’ماسٹر جی! راستے میں میری اٹھنی گم ہو گئی تھی، اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھے دیر ہو گئی۔‘ ’اور تم؟‘‘ ماسٹر دوسرے طالب علم سے دریافت کرتا ہے۔ ’’ماسٹر جی! مَیں نے اس اٹھنی کے اوپر پاؤں رکھا ہوا تھا!!‘‘ مَیں سوچتا ہوں کہ ٹکے ٹکے کی باتیں کرنے والے ہمارے ان اربابِ سیاست کو اس معصوم بچے جتنا ظرف بھی نصیب نہیں کہ یہ عمر
مزید پڑھیے








اہم خبریں