BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


پطرس بخاری: اُردو مزاح کے امام……(2)


شاعرِ مشرق نے ایک زمانے میں ’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ، جو اُن کی کتاب ’بانگِ درا‘ میں شامل ہے ۔انھی دنوں پطرس نے معروف فلسفی برگساں کی کتاب ’‘ جو اُن کے کیمرج کے نصاب میں شامل تھی،پر ایک دھواں دھار مضمون لکھا تھا۔اقبال کی نظم کا پہلا شعر تھا: تُو اپنی خودی اگر نہ کھوتا/زُنّاریِ برگساں کبھی نہ ہوتا اور آخری شعر کچھ یوں تھا: چوں دیدۂ راہ بیں نداری/قائدِ قرشی بہ از بخاری ایک محفل میں پطرس کے بے تکلف دوست عبدالمجید سالک موجود تھے جن کی پطرس کے ساتھ اکثر
منگل 08 دسمبر 2020ء مزید پڑھیے

پطرس بخاری: اُردو مزاح کے امام

اتوار 06 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
احمد شاہ پطرس بخاری ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے چلے گئے۔ اب انھیں گئے ہوئے بھی باسٹھ سال ہو گئے لیکن نثری مزاح کی دنیا میں ایک لمحے کے لیے بھی ان کو دوسرے نمبر پر نہیں سوچا گیا۔ اس خوشگوار طلسماتی دنیا میں فرحت اللہ بیگ اور رشید احمد صدیقی نے اپنا اپنا اسلوب اپنایا۔ شوکت تھانوی اور عظیم بیگ چغتائی نے ہلچل مچائی۔ ایک زمانے میں منٹو نے قدم جمانے کی کوشش کی۔ شفیق الرحمن نے ایک عالم کو ہنسایا۔محمد خالد اختر نے بڑے بڑوں کی توجہ حاصل کی۔ مشتاق احمد یوسفی کا دھماکے دار ورُود
مزید پڑھیے


نا مرد نہیں، مرد بنائیے!

منگل 01 دسمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
’’نامرد‘‘ جیسا منحوس، مایوس اور نامانوس لفظ پہلی بار ہم نے لڑکپن میں الیکشن کے کسی اشتہار پہ مشاہدہ کیا تھا، جہاں کسی سیاسی امیدوار یا بزرجمہر کی فرضی قسم کی لاتعداد صفات از قسم نڈر، بے باک، نہ بکنے والا، نہ دبنے والا، نہ جھکنے والا، ووٹ کا سب سے زیادہ حق دار، خونِ دل دے کے رُخِ برگِ گلاب نکھارنے والا، گلشن کے تحفظ کا اکلوتا ٹھیکے دار یا لوگوں کی امنگوں کا خود ساختہ ترجمان، وغیرہ بیان کی گئی تھیں، انھی کے ساتھ ساتھ اس کی ایک صفت اس کا نامرد ہونا بھی جلی حروف میں درج
مزید پڑھیے


’خبرستان‘ سے قبرستان تک

اتوار 29 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
سنو حسن عظیم!25 نومبر کی شام تو کرونا کے دوسرے چھاپے سے پہلے پہلے چار سے سات میری ایم فل کی آخری آن کیمپس کلاس تھی۔ موضوع ایسا چھڑ گیا تھا کہ یہ سات کے بعد بھی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ کلاس کے دوران فون سننا مجھے ہمیشہ زہر لگتا ہے لیکن اپنے خرم عباس کے فون میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی لطافت، کوئی نہ کوئی خوش خبری، کوئی نہ کوئی سنسنی چھپی ہوتی ہے، اس لیے مَیں اس کا فون سننے میں تأمل نہیں کرتا لیکن یار آج کا فون سننا تو مجھے بہت مہنگا پڑا۔آج
مزید پڑھیے


اُڈ پُڈ جانی!

منگل 24 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کوئی چار برس پیچھے کی بات ہے کہ مَیں لاہور کالج یونیورسٹی سے ایم فِل کی کچھ طالبات کا زبانی امتحان لے کے نکل رہا تھا۔ ارادہ قائدِ اعظم لائبریری جا کے ’مخزن‘ کے نئے پرچے کی دیکھ ریکھ کا تھا کہ فون کی گھنٹی دھیان مبذول کرانے سے تجاوز کر کے سرزنش کی حد تک بجتی چلی گئی ۔ یہ بہاولپور سے ہمارے دوست پروفیسر طاہر بخاری تھے۔آواز میں پریشانی اور لہجے میں التماس تھا۔ میرے پوچھنے سے قبل ہی انھوں نے بتانا شروع کیا کہ ان کی اکلوتی بیٹی کا ہماری یونیورسٹی کے انگریزی ایم فِل میں داخلہ
مزید پڑھیے



وبائی قاعدہ (2)

اتوار 22 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم وبا لکھتے رہے ، وہ وفا پڑھتے رہے ایک ہی غلطی نے ہمیں محرم سے مُجرم کر دیا کہتے ہیں وبا اور وفا پلٹ کے آ جائے تو اس میں زیادہ شدت اور حدت ہوتی ہے۔ ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی کہ دونوں نظر نہیں آتیں، صرف اثرات چھوڑتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ دونوں بعض حالات میں جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں فرق صرف یہ ہے کہ وفا ایک انفرادی عمل بھی ہو سکتا ہے جب کہ وبا اجتماعی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ یہ انسان
مزید پڑھیے


شگفتہ مزاج دانشور

منگل 17 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے ہاں کسی ثقہ دانشور کی سب سے بڑی نشانی تو یہی سمجھی جاتی ہے کہ اس کے ماتھے پہ تیوری کندہ ہو۔ مزاج میںسختی اور لہجے کی درشتی تو اس کا انتخابی نشان ہوتا ہے۔ اس کی دہشت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس کے دفتر یا گھر کے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے کترائیں۔ کہیں اچانک آمنا سامنا ہو جائے تو جل تُو جلال تُو کا وِرد شروع کر دیں۔ لیکن ان سب کے بیچوں بیچ چند ایک دانش ور ایسے بھی ہیں کہ جن سے مل کے زندگی سے پیار ہو جائے،
مزید پڑھیے


ادبی لطائف و ظرائف

اتوار 15 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کوئی رُبع صدی ادھر کی بات ہے کہ لاہور کے پرانی انارکلی میں واقع الحمد پبلی کیشنز سے میرے شگفتہ خاکوں پر مشتمل پہلی کتاب ’’قلمی دشمنی‘‘ اشاعت پذیر ہوئی۔ اس حوالے سے وہاں آناجانا لگا رہتا تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب وہاں ادیبوں شاعروں کا جمگھٹا لگا رہتا اور دورانِ گفتگو مزے مزے کے جملے اور چٹکلے وجود میں آتے، جن میں بہت سے تو ناقابلِ اشاعت کے زُمرے میں آتے ہیں (مثال کے طور پہ جناب احمد ندیم قاسمی کے ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کو بہنیں بنانے پر جناب احمد راہی کا سنایا ہوا منٹو
مزید پڑھیے


شفیق الرحمن کے سَو سال

منگل 10 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شفیق الرحمن اُردو ادب کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جو ساٹھ برس تک آسمانِ ادب پر پوری آب و تاب کے ساتھ روشن رہا۔ انھوں نے لکھنے کا آغاز اس وقت کیا جب ترقی پسند تحریک کا غلغلہ ابھی تازہ تازہ بلند ہوا تھا اور ہمارے بے شمار نئے اور پرانے لکھنے والے اس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ شفیق الرحمن نے ان حالات میں بھی کہانی کو سماج کی بجائے مزاج کے تابع رکھا۔مزاج ان کا مزاح سے لگّا کھاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ افسانہ اور مزاح ہی ان کی دو بنیادی محبتیں
مزید پڑھیے


مکڑے، مکھیاں اور اقبال

اتوار 08 نومبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بڑے شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کے افکار و نظریات زمانی و مکانی حدود سے ماورا ہوتے ہیں۔ ہر زمانے میں اس کے اشعار سے مفہوم و معانی کی نئی نئی پرتیں اور جہتیں نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اُردو میں یہ مقام حضرتِ علّامہ اقبال ( کل جن کا ۱۴۳ واں یومِ ولادت ہے)کو حاصل ہے کہ ہم زندگی کے کسی بھی موضوع و مسئلے پہ بات کرنے لگیں، بات کرنے والے کا تعلق چاہے کسی بھی شعبے سے ہو، علّامہ کے کسی شعر، مصرعے یا نظم کا سہارا لیے یا حوالہ دیے بغیر تحریر و
مزید پڑھیے








اہم خبریں