BN

راحیل اظہر


کچھ ایف ڈی آر کے بارے میں


زیادہ عقل بھی اکثر بھٹکا دیتی ہے، مگر بے عقلی تو پامال کرا کے چھوڑتی ہے۔ ایک اوپر اْٹھنے ہی نہیں دیتی اور دْوسری، اونچا اْڑا کر گراتی ہے۔ گِرا ہوا اَور کتنا گر سکتا ہے؟ چوٹ اس کو زیادہ لگتی ہے جو اونچائی سے گرتا ہے۔ ہر وہ عقل جو خلق ِخْدا، اور دراصل خْدا کا حق ادا نہ کرے، ذلیل ہی کرائے گی۔ خْدا کا خوف جسے ہو گا، وہ اس کی مخلوق کا بھی پاس کرے گا۔ یہاں اپنی ہی عقل کو خْدا سمجھے بے وقوفی، اسی کو کہتے ہیں لفظ ِبے وقوفی کا ایسا استعمال، اْردو لٹریچر میںکہیں نہ
جمعرات 30 مئی 2019ء مزید پڑھیے

فرزانگی یا دیوانگی؟

اتوار 26 مئی 2019ء
راحیل اظہر
ہیں زمانے میں بہت صاحب ِحِس کی قِسمیں سب سے اچھا ہے وہی، ذوق ِفنا ہو جِس میں! دوسروں کو لچانا آسان ہے، اپنی اَنَا کو دبانا مشکل! اَوروں پر قدغن لگانا سہل ہے، اپنی تمنائوں کی روک تھام دشوار! شہرت کی کاوشیں، اْبھرنے کی کوششیں، ایک حد تک جائز ہی ہیں۔ پر یہ جستجوئیں، اگر ہَوکا بن جائیں تو انجام معلوم! اس میں طْول ِامل ہزار ہزار زندگی کا مدار ایک نَفَس خواہشوں کی درازی کا ذکر کلام ِپاک میں اس طرح آیا ہے کہ طْول ِامل نے انہیں مشغول کیے رکھا، انجام بھی جلد دیکھ لیں گے! قوم کی رہنمائی کا بھی
مزید پڑھیے


ایک وحشت سے دْوسری وحشت تک؟

بدھ 22 مئی 2019ء
راحیل اظہر
اکبر الٰہ آبادی نے شاہ ایڈورڈ کی دْہائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پانی پینا پڑا ہے پائپ کا اپنی مشکل یہ ہے کہ ع حرف لکھنا پڑے ہے ٹائپ کا کچھ تو روزے کی بدحواسی اور کچھ ٹائپ کا گھپلا۔ پچھلے کالم میں ایک سابق امریکن وزیر ِخارجہ کا ذکر کیا گیا تھا، جس نے عراق پر حملے کی تیاریوں کا حْکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں تباہ کرنے کے قابل عمارتیں ہیں ہی نہیں۔ یہ بات رابرٹ گیٹس نے نہیں، ڈانلڈ رمزفیلڈ نے کہی تھی۔ ٹائپنگ
مزید پڑھیے


ایک کان کی سرگزشت!

هفته 18 مئی 2019ء
راحیل اظہر
رمضان سے چند روز پہلے، یکایک بایاں کان بند ہو گیا۔ مصیبت پر مصیبت یہ پیش آئی کہ سر چکرانے لگا۔ اس گھمائو نے، چلنے میں توازن کی حِس کو بھی متاثر کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب علامات سے مرض تک پہنچنے کے قائل ہی نہیں تھے۔ ع طبیبوں کو تو اپنی فیس لینا اور دوا دینا پہلے چند ٹیسٹ کیے گئے اور پھر چھے عدد دوائیں تجویز فرمائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آرام کیجیے اور ورزش سے کامل پرہیز۔ قصہ مختصر، مسئلہ زیادہ ٹیڑھا تھا نہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب کی خاص توجہ سے ہو کر رہا۔ گھر سے باہر نکلنا،
مزید پڑھیے


خدمت کرانا آسان، خدمت کرنا مشکل!

منگل 14 مئی 2019ء
راحیل اظہر
کسی صوفی شاعر نے کہا تھا۔ ہر کہ خدمت کرد، اْو مخدوم شد ہر کہ خود را دید، اْو محروم شد اس کے برعکس، پاکستان کو دو تین کے سوا، سارے حکمران ایسے ملے جو دعوے خدمت کے کرتے، پر شوق مخدومیت کا رکھتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض، آغاز میں نیک نیتی کے ساتھ چلے ہوں، مگر اقتدار کی بھول بھلیوں میں یہ بھی چکرا کر رہے۔ بظاہر سہل نظر آنے والی چیزیں، اکثر بلا کی پیچیدہ نکلتی ہیں۔ صحیح کہا گیا ہے ع کہ عشق آسان نمود اول، ولی بسیار مشکلہا حضرت ِامیر خسرو کا یہ شعر، اقتدار
مزید پڑھیے



امریکی صدر کا اختیار اور بے اختیاری!

جمعرات 09 مئی 2019ء
راحیل اظہر
وزیر ِاعظم پاکستان نے رْوحانیات کو، سْپر سائنس قرار دیا ہے۔ اس پر تبصرہ تو وہ کرے، جس کا اس وادی میں کچھ گْزر ہوا ہو۔ جسم چونکہ ہمارے سامنے مِٹتا جاتا ہے اور رْوح کا معمہ، آج تک حل نہیں ہوا۔ اس لیے، یہ البتہ کہا جا سکتا ہے کہ ہے موت میں ضرور، کوئی راز ِدلنشیں سب کچھ کے بعد کچھ بھی نہیں؟ یہ تو کچھ نہیں! اپنا تجربہ تو یہی رہا کہ اس راہ میں، جو جتنے بڑے دعوے کرتا ہے، اتنا ہی کھوکھلا نکلتا ہے۔ آن کہ چْون پستہ، دیدمش، ہمہ مغز پْوست بر پْوست بود ہم چو پیاز یعنی، جسے
مزید پڑھیے


حرف ِنامْلائم!

اتوار 05 مئی 2019ء
راحیل اظہر
زبان، آدمی کی پردہ پوش ہوتی ہے۔ عِلمیت ہو یا جہالت، دونوں کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ، زبان ہے۔ سو یہ پردہ دار بھی ہوئی اور پردہ دَر بھی! یہ بھی صحیح ہے کہ ع نگفتہ نباشد کَسی با تو کار بس جہاںزبان کھْلی، آدمی بھی کھْل گیا! وطن ِعزیز میں جو زبانی معرکہ آرائیاں جاری ہیں، قوم کے مذاق کے عین مطابق ہیں۔ بلکہ دنیا کا بھی مزاج، اس سے زیادہ مختلف نہیں رہا۔ پاکستان کی حد تک، یہ مذاق اور مزاج، ایک دو سال میں نہیں بگڑا، اس پر کم از کم چار دہائیاں بیت چکی
مزید پڑھیے


تاریخ دانی اور تاریخ سازی!

بدھ 01 مئی 2019ء
راحیل اظہر
وزیر ِاعظم پاکستان کی تاریخ سے واقفیت یا عدم ِواقفیت، تشویش کا محل ہے! عِلم کا نہ ہونا عبرت ناک، اور ناقص رہ جانا افسوس ناک شے ہے۔ نتیجہ یہ کہ ایران میں جو کچھ انہوں نے کہا، وہ اپوزیشن والے، لے اْڑے۔ غیرجانبدار حلقوں کا حال بھی ع انگشت ِحیرت در دہان، نیمی درون، نیمی برون کا سا ہے۔ ان کے ہمدردوں کو، کچھ تسلی شاید اس خبر سے ہو جائے کہ کینیڈا کے جواں سال وزیر ِاعظم جسٹن ٹروڈو کی زبان بھی انہی دنوں، دو بار پھسلی ہے۔ ہوا یہ کہ جاپان کے وزیر ِاعظم کی موجودگی میں،
مزید پڑھیے


انجام ِگلستاں، کیا ہو گا؟

جمعه 26 اپریل 2019ء
راحیل اظہر
احمد بشیر مرحوم بڑے دبنگ اور بے باک آدمی تھے۔ کچھ تو ان کا فطری جوہر، اس پر مولانا چراغ حسن کی شاگردی اور حسرت موہانی کی سکتری۔ دِل پہلے بھی مثل ِآئینہ صاف تھا، کہنا چاہیے کہ دونوں "حسرتوں" نے، اسے اَور صیقل کر دیا۔ غرض کاروبار ِدنیا میں فیل ہوئے اور نمود و نمائش کی محفل میں دبے دبائے ہی رہے۔ وہی ازلی خامی کہ میری ناکامیابی کی، کوئی حد ہو نہیںہو سکتی صداقت چَل نہیں سکتی، خوشامد ہو نہیں سکتی ان "معذوریوں" کے ساتھ، صحافت میں آنا، اپنی شامت کو آواز دینا ہے۔ ایسے لوگ، عموما، متنازعہ ہو جاتے
مزید پڑھیے


سیاست کا وبال!

جمعرات 25 اپریل 2019ء
راحیل اظہر
انسان کو بیک وقت، کئی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ وہ بیماریاں نہیں کہ جن کا علاج ڈاکٹر اور طبیب کرتے ہیں۔ بلکہ وہ امراض، جن کی کچھ نہ کچھ جھپٹ سے، بظاہر بھلے چنگے لوگ نہیں بچ پاتے! مثلا، حسد بیماری ہے دل کی۔ اس کا علاج، جو اردو کے شاعر نے تجویز کیا ہے، وہ بھی سْن لیجیے۔ حسد سے دِل اگر افسردہ ہے گرم ِتماشا ہو کہ چشم ِتنگ شاید کثرت ِنظارہ سے وا ہو یعنی دنیا کے احوال پر نظر کرنے سے، یا تو یہ کھْل جائے گا کہ محْسود کو ملی ہوئی نعمتیں یا اْس کا کمال بے
مزید پڑھیے








اہم خبریں