BN

راحیل اظہر


بھارت اور اسرائیل، ملک دو نشانہ ایک!


ان دنوں یہ خاکسار پاکستان میں ہے۔ پْرانی عادت ہے کہ شام کی مشی کے دوران، کوئی کتاب پڑھتا جاتا ہوں۔ ایک شام چہل قدمی کے لیے، گھر سے باہر نکلا۔ چند ہی قدم چلا ہوں گا کہ پیچھے سے کسی نے آواز دی۔ مڑ کر دیکھا تو ایک بزرگ چھڑی ٹیکتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ قریب آ کر علیک سلیک ہوئی۔ کتاب دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ باقاعدہ تعارف پر کھْلا کہ یہ بزرگ ڈاکٹر محمد حامد صاحب، اسلامیہ کالج لاہور میں اظہر سہیل مرحوم اور شعیب بن عزیز صاحب کے اساتذہ میں تھے۔ گفتگو کا سلسلہ حالات
هفته 16 مارچ 2019ء مزید پڑھیے

کشمیر کی آزادی بھارت کا خاتمہ

منگل 12 مارچ 2019ء
راحیل اظہر
سید عطاء اللہ شاہ بخاری، اپنی طرز کے ایک ہی آدمی تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری آدھی عْمر ریل اور آدھی جیل میں گزر گئی۔ ریل کا قصہ یہ ہے کہ شاہ جی آج کلکتے میں، ہزاروں کے مجمع سے خطاب کر رہے ہیں۔ کَل ٹرین میں بیٹھے، دلی کی طرف رواں ہیں۔ دو دن بعد، لاہور کے موچی دروازے میں تقریر ہو رہی ہے۔ اور اگلے روز، یو پی کے دور افتادہ علاقے میں کسی فتنے کو دبانے کے لیے، انہیں بلایا گیا ہے۔ غرض ع منزلیں گَرد کے مانند اڑی جاتی تھیں شاہ جی کا زاد ِراہ، جذبۂ
مزید پڑھیے


سازشوں کا دور!

جمعه 08 مارچ 2019ء
راحیل اظہر
مٹاتے ہیں جو وہ ہم کو، سو اپنا کام کرتے ہیں مجھے حیرت تو اْن پہ ہے، جو اس مٹنے پہ مرتے ہیں کلام ِپاک میں ہے کہ انسان کے اپنے اعضا و جوارح، اس کے بھلے برے، سب اعمال کی گواہی دیں گے۔ ہمارے بعض ہم قوم اور ہم مذہب بھی، گواہیاں دے رہے ہیں، مگر افسوس کہ ہمارے خلاف اور سراسر جھوٹی! پراپیگنڈا اور لابنگ، اْس ففتھ جنریشن وار کا لازمی جزو ہیں، جو دنیا پر مسلط ہو چکی ہے۔ سچائی، اصول پسندی اور راست معاملگی، یہ سب قصے کہانیاں بنتی جا رہی ہیں۔ افسوس کہ ہم میں کچھ
مزید پڑھیے


دوستی نہیں صرف صلح ممکن ہے!

منگل 05 مارچ 2019ء
راحیل اظہر
سید عطاء اللہ شاہ بخاری خطابت کے بادشاہ تھے۔ اس فن پر ان کی گرفت بے مثال تھی۔ خوش گفتاری کے ساتھ ساتھ، ان کی خوش گلوئی اور خوش شکلی، یعنی نورْْ علٰی نور! ان کی تقریر ایسی سحر انگیز ہوتی کہ بے شمار لوگوں کے دل، گویا ان کی مٹھی میں رہتے۔ جب چاہتے ہنسا دیتے، جب چاہتے رْلا دیتے۔ اس سِحر انگیزی کے دیکھنے والوں کے مطابق، ایک جادوگر تھا، جو مجمع پر افسْون پھونکتا جاتا تھا۔ تقریر کے ساتھ، یہ سِحر بھی رات بھر چلتا رہتا۔ صبح، دِل اس جادو سے باہر آتا اور دماغ اپنے ٹھکانے،
مزید پڑھیے


تلوار کے بیٹے اور چرخے کی اولادیں!

جمعرات 28 فروری 2019ء
راحیل اظہر
لوگ پوچھتے ہیں کہ "مہاتما" گاندھی کا ہندوستان، نریندر مودی کے ہاتھ میں کیسے چلا گیا؟ میں کہتا ہوں کہ یہ دن، بہت دیر سے آیا ہے! آزادی کے وقت، ہندوئوں کے سب سے موثر لیڈر تین تھے۔ گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل! سردار پٹیل، مسلمانوں کا کھْلا ہوا دشمن تھا اور اس بات کو، وہ چھْپاتا نہیں تھا۔ بظاہر ہی سہی، مولانا ابوالکلام آزاد کی عزت، سارے کانگرسی کرتے تھے۔ لیکن پٹیل نے ایک موقعے پر، کوئی فائل اٹھا کر مولانا کے مْنہ پر دے ماری تھی۔ پنڈت نہرو، وسیع مشرب آدمی تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں
مزید پڑھیے



جماعت ِاسلامی۔ ہْن کی کراں؟

پیر 25 فروری 2019ء
راحیل اظہر
معروف صحافی منیر احمد منیر، میرے دیرینہ کرم فرما ہیں۔ قائد ِاعظم سے ان کی عقیدت، عشق کے درجے کو ہی نہیں پہنچی، اس کے نت نئے اور دلآویز پہلو دکھا بھی رہی ہے! جس پائے کی کتابیں، منیر صاحب لکھتے، مرتب کرتے اور شائع کرتے ہیں، انہیں ہاتھ لگانے میں ہی، اچھے اچھے مصنفوں کی سانس اکھڑ جائے! تحقیق اور تاریخ کی جو منزلیں منیر صاحب سر کر چکے ہیں، بڑے بڑے دانش ور اور "ڈاکٹر"ان میں قدم دھرتے ہی خون تھوک جائیں! محقق اور تاریخ نویس کو مصور کا مْوقلم نہیں، کیمرے کی آنکھ درکار ہے۔ اس نظر
مزید پڑھیے


ٹوڈیوں کا ہیڈ کوارٹر

منگل 19 فروری 2019ء
راحیل اظہر
اقوام ِمتحدہ کا ادارہ جب وجود میں آ رہا تھا تو علامہ اقبال نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ کفن چور ہیں اور ع بہر ِتقسیم ِقبور انجمنی ساختہ اند علامہ کی یہ پیش گوئی، کْرسی نشین ہوئی۔ اس ادارے کا صدر دفتر، نیویارک میں ہے۔ اس میں داخل ہوتے ہی، دیوار پر سجا ہوا ایک قالین نظر پڑتا ہے، جس پر شیخ سعدی کے یہ شعر مرقوم ہیں۔ بنی آدم، اعضای ِیکدیگر اند کہ در آفرینش، ز یک گوہر اند چو عُضوی، بدرد آوَرَد رْوزگار دگر عْضو ہا را نماند قرار تو کز محنت ِدیگران بی غمی نشاید کہ نامت نہند آدمی یعنی، اولاد ِآدم
مزید پڑھیے


بونگا، لوٹا، ٹوڈی اور نینسی!

هفته 16 فروری 2019ء
راحیل اظہر
مشتاق احمد یوسفی مرحوم نے اپنی شدید خواہش بیان کی تھی کہ زیادہ نہ سہی، کم از کم ایک متروک لفظ ان کی تحریروں سے دوبارہ جی اٹھے! اب سے دور، ایک شخصیت ایسی بھی ہو گزری ہے، جس نے بے شمار نئی ترکیبیں اور اصطلاحیں ہی ایجاد نہیں کیں، کتنے ہی مردہ لفظوں کو بھی جِلایا۔ مولانا ظفر علی خاں ایسے ہی تھے! ان کا روزنامہ "زمیندار" فقط اخبار نہیں تھا، صحافت کے ساتھ ساتھ، یہ شعروادب کی بھی ٹکسال تھا! "ہونٹوں نکلی، کوٹھوں چڑھی" ہم نے سنا تھا۔ زمیندار نے یہ کر کے بھی دکھا دیا! کتنی ہی
مزید پڑھیے


تو کیا فاتحہ پڑھ لی جائے؟

منگل 12 فروری 2019ء
راحیل اظہر
غالب کہتا ہے کہ اس دنیا کی حقیقت، خواب کی سی ہے۔ اس میں، بظاہر، جو جاگنے والے ہیں، وہ بھی خواب ہی میں ہیں! ہے غیب ِغیب، جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں اس سے آگے کا مرحلہ شاید یہ ہے کہ ع جن کی آنکھیں کھْل گئیں، ان کی زبانیں بند ہیں مسلمانوں کی آنکھوں پر بھی، دْہرا پردہ پڑا ہوا ہے! صدیوں سے یہ، حالت ِغفلت میں ہیں۔ اب ایک مدت سے، غفلت پر مرعوبیت کا پردہ، سوا ہو گیا ہے! مرعوبیت کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اپنی لائق ِفخر تاریخ
مزید پڑھیے


پھِر جھوٹ بولے!

جمعه 08 فروری 2019ء
راحیل اظہر
اگلے وقتوں میں نصیحت کا طریقہ ایسا اختیار کیا جاتا تھا، جو دل کَش بھی ہوتا اور دل نشین بھی! کم لوگ واقف ہوں گے کہ ڈپٹی نذیر احمد نے مِراۃ العروس اپنی بیٹی کے لیے لکھی تھی۔ اتفاقاً صاحب بہادر کی اس پر نظر پڑ گئی اور پھر "اکبری اور اصغری" کی یہ سبق آموز کہانی، عوام تک بھی پہنچ گئی۔ پرانے اساتذہ عبرت آموزی کا یہی انداز اختیار کیا کرتے تھے۔ حکایتوں اور کہانیوں کے ذریعے، پند و نصائح، لوگوں کے گھٹ میں اتار دیے جاتے! کلیلہ و دمنہ سے لے کر ٹوٹ بٹوٹ تک، ہزاروں کتابیں اسی
مزید پڑھیے








اہم خبریں