کسی دوست کی اچانک رحلت کو یاد کرنا آسان نہیں۔ یہ احساس کتنا جانگسل ہے کہ اب وہ چہرہ کبھی دکھائی نہیں دے گا۔ میری مدیحہ گوہر سے پچیس سال پہلے لاہور میں پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہم نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ہماری دوستی ایک مضبو ط تعلق میں ڈھل گئی۔ مدیحہ گوہر توانائی، ذہانت اور تخلیق کا سرچشمہ تھیں۔ ایسے دوست بہت نایاب ہوتے ہیں جن سے تحریک بھی ملتی ہے اور تعاون بھی اور میں بہت خو ش قسمت ہوں مجھے مدیحہ کی صورت ایک ایسی دوست ملی۔ افسوس، مجھے 2014 ء میں
مزید پڑھیے