BN

ریاض مسن


چور مچائے شور


پچھلے عام انتخابات کے ساتھ در آئی سیاسی کدورتوں اور رنجشوں میں تاحال کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ جس طرح کا عامیانہ پن پارلیمان میں نظر آرہا ہے پتہ نہیں اسے ملک کی مالی صورتحال کا عکس قرار دیا جائے یا پھر وجہ۔ سیاسی پارٹیوں کو نہ تو وبا کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی اپنی ساکھ کی پرواہ۔ عوام کیا تاثر لیتے ہیں، کسی کو پرواہ نہیں ۔ گالی گلوچ ، گریبان پکڑنا ، ہلڑ بازی کرنا عام سی بات ہے۔ پارلیمان جیسا مقدس ادارہ مچھلی منڈی کا روپ دھار چکا ہے تو سیاسی پارٹیاں اپنے سوا
اتوار 21 فروری 2021ء

بستی

اتوار 14 فروری 2021ء
ریاض مسن
بہاولپور کے نواح میں واقع اپنی بستی کو میں نے پچھلی صدی کی آخری دہائی میں الوداع کہا تھا لیکن اس دن سے لیکر آج تک واپسی کے خیال سے نہیں نکل سکا۔ وہاں مجھے ساون کے گرد لپٹی لو اور حبس کے علاوہ زندگی گزارنے میں کبھی کوئی مشکلات نظر نہیں آئیں۔ زرخیز زمینوں کو پانچ سے چھ مہینے نہری پانی میسر ہوجائے تو کون سی فصل ہے جو یہاں نہیں ہوتی، کونسی سبزی اور پھل یہاں نہیں اگائے جاسکتے۔ پرندے اور جانور پالنا چاہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ملوں اور دفتروں میں آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینے اور
مزید پڑھیے


تہذیب

اتوار 07 فروری 2021ء
ریاض مسن
اسلام آباد کا موسم بے اعتبار سا ہوگیا ہے۔ پیشگوئی تھی کہ ہفتے کے اوائل میں بارش ہوگی لیکن یہ جمعرات کو ہوئی وہ بھی مختصر سی۔ سرد ہوائیں البتہ چلتی رہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ دن کو دھوپ میں بیٹھیں تو تھوڑی دیر میں نظریں سایہ ڈھونڈھنے لگ جاتی ہیں۔ رات کو البتہ کافی ٹھنڈ پڑتی ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں بیٹھے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اوپر کافی برف موجود ہے۔ موسم کے تیور بتاتے ہیں کہ پچھلے کئی برسوں کی طرح ایک دم گرمی پڑے گی اور ہا ہا کار مچ جائیگی۔ وہی ماحولیاتی تبدیلی جسکے بارے
مزید پڑھیے


بوجھ

اتوار 31 جنوری 2021ء
ریاض مسن
پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں مدغم ہونے کی راہ پر گامزن تھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں سے اداروں میں اصلاح کے عمل کا آغاز کیا گیا تاکہ معیشت کی کارکردگی بہتر ہو۔ نہ صرف قرض اتارے جاسکیں بلکہ غربت کے خاتمے کی بھی کوئی راہ نکل سکے۔نجی شعبے کا معیشت میں کردار بڑھانے کے لیے نجکاری کے عمل کا آغاز کیا گیا۔ مقصد سرمایہ کاروں کو ترغیب دینا بھی تھا اور سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اداروں سے ہونے والے قومی خزانے کے نقصانات سے بھی جان چھڑانا تھا۔ انیس
مزید پڑھیے


جمہوریت کا لبادہ کب تک؟

اتوار 24 جنوری 2021ء
ریاض مسن
پاکستان میں سیاست کبھی بھی پٹڑی پر نہیں رہی۔عدم برداشت کی روایت نے جمہوریت کو ہی نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اشرافیہ کی تنگ مزاجی اور تختہ یا تختہ کی سوچ نے نہ تو ملک کو کبھی سیاسی استحکام بخشا ہے اور نہ ہی معاشی ترقی کی کوئی مربوط حکمت عملی سامنے آسکی ہے۔ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اشرافیہ اٹھارویں ترمیم کی صورت میں سیاسی استحکام کے فارمولے (میثاق جمہوریت) پر متفق ہوگئی تھی لیکن اس سیاسی استحکام کا نتیجہ انتشار کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔
مزید پڑھیے



ملتانی چال

اتوار 17 جنوری 2021ء
ریاض مسن
میدانوں میں بہتے دریا بظاہر سمندر کی طرح پرسکون نظر آتے ہیں لیکن تہہ در تہہ اپنی اگلی منزل کی طرف بہہ رہے ہوتے ہیں۔ کام کی ایسی حکمت عملی ملتانی چال کہلاتی ہے۔ کچھ علما کے نزدیک اسکا مطلب کچھ نہ کرنا لیکن کچھ کرتے نظر آنا ہے لیکن یہ مبالغہ آرائی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کہ کسی کام یا منصبوبے کو سست روی کا شکار کرنا ہو تو اسے ملتانی چال پر لگادیا جاتا ہے۔ منصوبہ اہداف کی طرف بڑھ تو رہا ہوتا ہے لیکن کچھوے کی چال سے۔ ملتانی چال میں جتنی الجھنیں ہیں
مزید پڑھیے


سمہ سٹہ

اتوار 10 جنوری 2021ء
ریاض مسن
آگرہ ، لاہور اور پشاورسے کراچی کو جانے والی ریلوے ٹریفک کا مقام اتصا ل سمہ سٹہ ریلوے جنکشن اس وقت زبوںحالی کا شکار ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پے درپے جنگوں سے آگرہ کا روٹ براستہ بٹھنڈہ) ایسا کٹا کہ آج تک بحال نہیں ہوسکا۔ملتان، یا دوسرے لفظوں میں ضلعین ،سے آنیوالی مسافر ٹرینیں ، یہاں سے چیختی چنگھاڑتی ، خانپور جا کر دم لیتی ہیں۔ بہاول نگر سیکشن بند ہوگیا ہے۔ احمدپور روڈ پر واقع خانقاہ شریف سے سمہ سٹہ کو ملانے والی لا ئن تجاوزات کی زد میں ہے۔ ملازمین کے لیے بنا ئے جانے والے
مزید پڑھیے


علاج

اتوار 03 جنوری 2021ء
ریاض مسن
ملک میں عدالتیں کام کر رہی ہیں اور احتساب کا ادارہ بھی، لیکن کوئی پوچھے کہ عدل کا بول بالا ہے تو جواب ندارد۔ چلئے معاملے کو سمجھنے کے لیے سوال بدل دیتے ہیں: کیا ریاست ظلم کا راستہ روک پارہی ہے؟ بھلا ایک جاگیردارانہ سماج میں بھی ظلم کے آگے بند کوئی باندھ سکتا ہے۔ جمہوریت کے نعروں کی گونج میں اٹھے اس سوال کا جواب ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے سیاست بند گلی میں پھنس گئی ہے۔ اونچ نیچ کے شکار معاشرے میں وسائل کی تقسیم، ظاہر ہے، فطری نہیں۔ کسی طاقت نے لوگوں کے نصیب لکھے ۔ وہ طاقت بدیسی
مزید پڑھیے


سیاست اور معیشت!!

اتوار 27 دسمبر 2020ء
ریاض مسن
پاکستان کو رواں سال کے لیے بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں ایک ارب ستر کروڑ ڈالر کی چھوٹ ملی ہے۔ ظاہر ہے وبا کی وجہ سے ملک کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے امیر ممالک نے ترس کھایا ہے اور وقتی طور پر پر قرضوں کی ادائیگی کا معاملہ التوا میں ڈال دیاہے۔ بہر حال یہ مہلت ہے، معافی نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پالیسی ساز اس مہلت سے فائدہ اٹھا ئیں اور اس قرضے کی ادائیگی کی فکر کریں جو بہر حا ل کرنا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ملک کا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا
مزید پڑھیے


مکالمہ کس بات پر ہو؟

اتوار 20 دسمبر 2020ء
ریاض مسن
پاکستانی سیاست اس وقت سے بدمزگی کا شکار ہے جب سے حکومت اور حزب اختلاف متوازی پٹڑی پر چل رہی ہیں۔ وہ سیاسی استحکام جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں نظر آتا تھا ، قصہ پارینہ بن گیا ہے۔ میثاقی پارٹیوں نے سیاسی بھائی چارے کی آڑ میں حزب اختلاف کا تصور ہوا میں اڑا دیا تھا، کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولے پر نہ صرف اٹھارویں ترمیم پاس کر الی تھی بلکہ مقامی حکومتوں اور احتسابی عمل کو بھی منجمد کر دیا تھا۔ وقت نے پلٹا کھایا ہے تو یہ پارٹیاں پارلیمان سے نکل
مزید پڑھیے