BN

ریاض مسن


پچھواڑہ


ہمارے ایک دوست المعروف راڈو بابا، جنکا دھندا ' صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں' کی مثال ہے، آج کل ایک عجیب چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ انکا مانناہے کہ کورونا سے آگاہی کی مہم اگرچہ ازحد ضر وری ہے لیکن اسے ترتیب دینے والوں کی یا تو نیت ٹھیک نہیں یا پھر وہ اس ریچھ کی طرح ہیں جو جنگل سے گزرتے انسان کا دوست بن گیا تھا اور دوست کی نیند میں خلل ڈالنے والی مکھیوں کو بھگاتے اسکا سر کچل بیٹھا تھا۔ جسمانی فاصلے کی بات کرنے کی بجائے سماجی دوریوں کی ’تبلیغ‘ کی جار
اتوار 29 نومبر 2020ء

سماجی فاصلہ

اتوار 22 نومبر 2020ء
ریاض مسن
اسلام آباد کا موسم یکدم بدل گیا ہے۔ سردی آئی ہے لیکن بتدریج نہیں ، درجہ حرارت اوسطاً دس ڈگری نیچے آگیا ہے۔ نومبر کے وسط تک موسم خوشگوار رہا سوائے اس کے کہ بارش نہیں ہوئی تھی۔ پھر لوگ بارش کی طرف دیکھنے لگ گئے ، بارش تو آئی لیکن ملک کے شمالی علاقہ جات اور مری میں برف پڑگئی اور وہ بھی معمول سے زیادہ۔ یوں آگے سردی ہی ہے۔ بارشیں اور برفباری سردی کی شدت میں کمی بیشی لائے گی۔ حکومت نے دفتروں میں حاضری کم کرادی ہے، یعنی کچھ لوگ گھر بیٹھے کام کریں گے، کچھ
مزید پڑھیے


عہدِ نو

اتوار 15 نومبر 2020ء
ریاض مسن
وزیر اطلاعات شبلی فراز کے بقول ملک کے کلی معاملات قرضے پر چل رہے ہیں۔ عوام کا بازو مروڑ کر اکٹھے کیے گئے وسائل ان قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں لٹ جاتے ہیں۔ مطلب، حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ حکومت ہر سال اس کرب سے گزرتی ہے۔ زراعت، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بمشکل عوام کا پیٹ پال پاتی ہے، اس صوبائی شعبے کو بھی وفاق سے سبسڈی کی ضرورت رہتی ہے۔قرضوں کا بوجھ مجموعی قومی آمدنی کے اٹھانوے فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ بیرونی قرضہ ایک مرض تو
مزید پڑھیے


جمہوریت کا راستہ اور احتساب…

اتوار 08 نومبر 2020ء
ریاض مسن
گندم کی سرکاری قیمت اڑھائی سو روپے کے اضافہ سے سولہ سو پچاس روپے فی من ہوگئی ہے۔ یہ معاملہ کچھ عرصے لٹکا ہوا تھا لیکن بالآخر حکومت نے اپنی ہچکچاہٹ پر قابو پا ہی لیا ہے۔ اس سے پہلے ایک ہزار روپے فی بوری کھاد پر بھی سبسڈی دی جاچکی ہے۔ کسان کے مصائب کم ہوئے ہیں ، اچھی بات ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ عوام کی قوت خرید اس بظاہر معمولی بوجھ کی متحمل ہے بھی یا نہیں۔ اچھا ہوتا کہ گندم کی رعائتی قیمت بڑھانے کی بجائے ڈیزل پر ٹیکس کم ہو جاتا ، کسانوں
مزید پڑھیے


بند گلی

اتوار 01 نومبر 2020ء
ریاض مسن
ایک وقت تھا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریکیں چلتی تھیں۔ہنگامہ ، ہلڑ بازی ، توڑ پھوڑ سیاسی ثقافت کا حصہ تھے۔آمریت کو بھگانے کے لیے لاقانونیت کی رسی ڈھیلی چھوڑ دی جاتی تھی۔ جیل بھرو تحریکیںاس ملک کو وراثت میں ملی ہیں۔ اب آئین بحال ہے، جمہوریت کا پچھلی ایک دہائی سے دور دورہ ہے، اس جمہوریت کا گلا دبانے والی قوتیں آئینی حدود میں رہنے کا بار بار اعادہ کر رہی ہیں۔ صوبائی خود مختاری کا دہائیوں سے مطالبہ تھا،اب وہ بھی اٹھارویں ترمیم کے بعد سے نہیں رہا۔ہاں اگر کچھ کرنے کو ہے تو
مزید پڑھیے



’’چکنے‘‘ چوروں کا کیا کرنا ہے؟

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
ریاض مسن
مہنگائی اور اس پر حزب اختلاف کی حکومت ہٹا و مہم کم تھے کہ کورونا کی واپسی کا بھی ذکر ہونے لگ گیا ہے۔ یہ مرض مکمل طور پر ٹلا نہیں تھا کہ پلٹ کر حملہ کرنے لگا ہے۔ آگاہی مہم میں اور شدت آنے کا امکان ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کے لیے جہاں بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی تلقین ہے وہیں پر سماجی فاصلہ رکھنے پر بھی زورہے۔ کورونا متعدی مرض ہے، انسان سے انسان تک پہنچتا ہے، احتیاط بنتی ہے۔ کورونا سے کے بارے میں کچھ حقائق کافی دلچسپ
مزید پڑھیے


گوٹھ بخشن خان، مداری اور سیلانی درویش

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
ریاض مسن
مداری کرتب دکھا چکا تو اپنا دامن تماشائیوں کے سامنے پھیلا دیا ، کسی نے کسیرہ دیا ، کسی نے دھیلا۔ اسی دوران ایک درویش مجمع کو چیرتاہوا ، مداری کے سامنے آگیا۔ مداری خوش ہوا کہ انعام ملنے والا ہے اور وہ بھی شاید تگڑا۔ ’’لائیے میرا انعام اور میری جھولی میں ڈال دیجیے‘‘مداری کے لہجے میں پیشہ ورانہ مٹھاس اتر آئی۔ ’’کس چیز کا انعام چاہیے تمہیں، کونسا کارنامہ انجام دیا ہے تم نے؟ ‘‘ درویش نے کڑک کر پوچھا۔ ’’میں مداری ہوں، برسوں کی ریاضت ہے، تماشا دکھاتا ہوں ، لوگ مجھے انعام دیتے ہیں
مزید پڑھیے


ارمان

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
ریاض مسن
عدالت نے میاں نواز شریف کو ایک مخصوص عرصے تک بغرض علاج ایک کیس میں حاضری سے متشنیٰ قراردیا تھا ۔حکومت نے مسلم لیگ ن کے سربراہ کی ضمانت پر انتہائی مستند ڈاکٹروں کی رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے انہیں بغرض علاج باہر جانے کی اجازت دی۔ نہ وہ واپس آئے اور نہ ان کی ضمانت میں توسیع ہوئی ہے۔ سمن لندن بھیجے گئے لیکن جواب ندارد۔ عدلیہ کا ذہن بن گیا ہے کہ میاں صاحب نے ملک سے باہر جانے کے لیے نہ صرف عدالت کو بلکہ پوری قوم کو دھوکہ دیا۔ میاں صاحب جس اعتماد کے ساتھ
مزید پڑھیے


حکمت عملی

اتوار 27  ستمبر 2020ء
ریاض مسن
صدیوں پہلے کی بات ہے چین کو نصف درجن کے لگ بھگ سرکش ریاستوں کا سامنا تھا۔ خطرہ یہ تھا کہ یہ تمام ریاستیں ایک اتحاد بنا کر اس پر حملہ کرسکتی تھیں۔ مسلسل جنگوں سے مرکز کو مالیاتی دشوراریوں کا سامنا تھا، کسی طاقتور دشمن سے سامنا اسکی سلامتی کے لیے خطرنا ثابت ہوسکتا تھا۔ حربی مفکر سن تزو سے صلاح مانگی گئی تو اس نے کہا پہلی بات یہ ہے کہ جنگ ایک نازک کام ہے، کیونکہ یہ ریاست کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر حکمت عملی کامیاب نہ ہوئی تو لینے کے دینے پڑ
مزید پڑھیے


اداسی

اتوار 20  ستمبر 2020ء
ریاض مسن
اخلاق مزاری ، وادی سندھ کا شاعر ، آجکل اداس ہے۔ دریائے سندھ میں سیلاب آیا ہوا ہے اورسیکڑوں خاندان اس کے کناروں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔ یہی اس شاعر کی اداسی کا سبب ہے۔ یہ منظر وہ اپنے بچپن سے دیکھتا چلا آرہا ہے۔ ایک تاریخ ہے جو اپنے آپ کو دہراتی چلی جارہی ہے۔ میانوالی سے لیکر رحیم یار خان تک اس دریا کے بیٹ اور بیلوں کے مکین ہر سال ، ساون اور بادھوں میں ، کچے کے علاقے سے نکل کر سڑکوں کے کنارے جھگیاں اور خیمے لگا کر
مزید پڑھیے