BN

سجاد میر


کشمیر پر پیش رفت ایک نئی جہت!


اس خبر کا مطلب کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے ایک دوسرے سے فون پر بات کی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر اس معاہدے کا احترام کریں گے جو انہوں نے 2003ء میں کر رکھا ہے۔ اس کے تحت لائن آف کنٹرول پر ایک طرح کی جنگ بندی ہے۔ تاہم اس معاہدے پر 2014ء سے عمل نہیں ہو رہا۔ روز خبریں آتی ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر گولہ باری سے دونوں طرف جانوں اور املاک کا نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لئے مشکل
هفته 27 فروری 2021ء

پانچ سال کی کہانی

جمعرات 25 فروری 2021ء
سجاد میر
ایک پرانی بات یاد آ رہی ہے۔ مشرف کو اقتدار سنبھالے ڈیڑھ دو سال ہو چکے تھے کہ اس نے پہلی بار ٹیلیویژن پر انٹرویو دینے کا فیصلہ کیا۔میں کراچی سے اسلام آباد پہنچا تو معلوم ہوا لئیق احمد اور نسیم زہرہ بھی مرے ساتھ اسی پینل کا حصہ ہوں گے جو یہ انٹرویو لے گا۔ اس کے ساتھ سامنے صحافیوں کی ایک کہکشاں سجی ہو گی۔ اس کہکشاں میں کون کون نہ تھے۔ ارشاد حقانی سے لے کر عبدالقادر حسن تک سب موجود تھے۔ ایک عجیب بندوبست تھا۔ مشرف ابتدائی کلمات کہہ چکے تو ہماری باری آئی۔ مشرف نے
مزید پڑھیے


سب کے لئے لمحہ فکریہ!

پیر 22 فروری 2021ء
سجاد میر
سیاسی معاملات سے دانستہ اجتناب کا نتیجہ ہے کہ اس وقت بہت کچھ جمع ہو گیا ہے جو توجہ مانگتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اب سب کچھ لکھ دیا جائے جو ممکن نہیں ہے۔ اس وقت جو ضمنی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے‘ اس میں کچھ غیر معمولی واقعات ہو رہے ہیں۔ جو ڈسکہ میں ہوا ہے اس کا تو تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تاریخ میں ایک واقعہ رقم ہے کہ فارسی کے مشہور شاعر کہیں سے گزر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مجمع اکٹھا ہے۔ وہ قریب گئے تو معلوم ہوا کوئی انہی
مزید پڑھیے


اک قافلہ چلا جاتا ہے

هفته 20 فروری 2021ء
سجاد میر
اک قافلہ ہے کہ چلا جاتا ہے مشاہد اللہ خاں‘ نصیر ترابی‘ سجاد نیازی یادوں کا ایک سلسلہ ہے جو ستا رہا ہے۔ ادھر ملک میں ایک طوفان برپا ہے اور دنیا بھی تلپٹ ہو رہی ہے‘ مگر اپنے پیاروں کی یادیں اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ وہ دن بھی کیا دن تھا جب ملک میں لگنے والے تازہ تازہ مارشل لا کے خلاف کراچی کے ریگل چوک میں ایک مظاہرہ ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اب لوگ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ملک میں مارشل لا لگتا ہے تو کوئی آواز نہیں رکھتی۔12اکتوبر کے مارشل لاکو اگلے ہی روز چیلنج
مزید پڑھیے


سب سے بڑی کامیابی

هفته 13 فروری 2021ء
سجاد میر
برسبیل تذکرہ‘ یہ جو اسلام آبادمیں دھرنا ہوا ہے۔ یہ ایک طرح کی ریہرسل ہے اس متوقع دھرنے کی جو وہاں مبینہ طور پر ہونے جا رہا ہے۔ مرا مطلب یہ نہیں کہ اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ وہ دھرنا کیسا ہو گا۔ بلکہ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ شیخ رشید کی وزارت داخلہ اس سے کیسے عہدہ برآ ہو گی۔ شیخ صاحب باتوں کے بادشاہ ہے‘اپنی تقریروں میں بتا رہے ہیں کہ آنے والے آئیں‘ سو بار آئیں‘ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔ مگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو قانون ان سے
مزید پڑھیے



۔۔۔۔جُنوںمیں کیا کیاکچھ

جمعرات 11 فروری 2021ء
سجاد میر
اسلام آبادمیں جو کچھ ہو رہا ہے‘ یہ کوئی اطمینان و مسرت کی بات نہیں‘اس سے یہ پتا چل رہا ہے کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ وہ جو کہا جاتا تھا کہ لانگ مارچ یا دھرنے سے پہلے ہی بہت کچھ ہو سکتا ہے‘ عوام سیاسی جماعتوں سے آگے نکل سکتے ہیں تو وہ سب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ سردست حالات سے نپٹنے کے لئے حکومت نے جو حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اس پر تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ انتخابات البتہ طے ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ حکومتوں نے
مزید پڑھیے


کشمیر ضرور آزاد ہو گا

هفته 06 فروری 2021ء
سجاد میر
کچھ یاد نہیں ہے کہ ہم سال میں کتنی بار کشمیر ڈے مناتے ہیں۔ کبھی اس نام سے کہ آج کشمیر کا پاکستان سے الحاق کا اعلان ہوا تھا۔ کبھی اس نام سے کہ آج اقوام متحدہ نے قرار داد پاس کی تھی۔کبھی اس کی مذمت کے لئے کہ آج بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔ اب ایک نیا دن ہمارے احتجاج اور غصے کا اظہار کرتا ہے کہ اس دن بھارت نے اپنے آئین کی شق 370کو ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا۔جولائی کے مہینے میں مجھے یاد ہے کہ
مزید پڑھیے


پیر صاحب مانکی شریف

پیر 01 فروری 2021ء
سجاد میر
میں نے صرف تین باتیں عرض کیں! سیمینار کا عنوان تھا‘ قائد اعظم اور پیر مانکی شریف۔ سوال کیا‘ ان دو ناموں کے اکٹھا آنے کا مطلب کیا ہے۔ کیا صرف یہ بتانا ہے کہ پیر امین الحسنات آف مانکی شریف نے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کا بہت ساتھ دیا کہ انہی کی بدولت مسلم لیگ صوبہ سرحد کا ریفرنڈم جیتنے میں کامیاب ہوئی یا کچھ اور بھی ہے۔ ویسے تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے کہ اگر آج خیبر پختونخواہ(سرحد) پاکستان کا حصہ ہے تو اس میں پیر صاحب کا بڑا بنیادی کردار تھا۔ اس کے علاوہ ان
مزید پڑھیے


حافظ سلمان بٹ

هفته 30 جنوری 2021ء
سجاد میر
میں نے جماعت اسلامی کے لوگوں کو اس طرح جذباتی ہوتے کم دیکھا ہے، جیسے وہ حافظ سلمان بٹ کے جنازے میں تھے۔ سنجیدگی ،متانت اور وقار لئے یہ لوگ بڑے بڑے دکھ سہہ جاتے ہیں مگر یوں گریہ زاری نہیں کرتے۔ وہ شخص تھا ہی ایسا۔دراصل وہ ایک علامت تھا استعارہ تھا، جواں مردی کے ساتھ تحریک اسلامی کے لئے کام کرنے کا جوسفرکے عشرے کے بعد اس شہر میں بلکہ اس ملک میں نمودار ہوا۔ایک متحرک فعال اور نڈر نسان جس کے لئے نعرہ لگتا تھا: اچا لمبا شیر جوان حافظ سلمان حافظ سلمان میں جب کراچی گیا تو لاہور شہر
مزید پڑھیے


دن دلدلوں میں دھنس گئے

هفته 23 جنوری 2021ء
سجاد میر
جتنا ہاتھ پائوں مارتے ہیں،دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ ملک کے تمام تقدس مآب اداروں کے لئے مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہیں۔ عدلیہ اور فوج دو ایسے ادارے تھے جن پر قوم اعتبار کرتی تھی اور آج بھی ایک حد تک ان کا وقار ملحوظ رکھا جاتا ہے، اس وقت سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی تقرری نے ایک بار پھر سیاسی ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ کو حکومت نے اس انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے، جو براڈ شیٹ نامی سکینڈل کے بارے
مزید پڑھیے