BN

سجاد میر


کیا ہم چھوٹے لوگ ہیں


شاید ہم چھوٹے لوگ ہیں‘ وہ کام کر جاتے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہوتے۔ بعد میں ہم سے سنبھالے نہیں جاتے۔ اچھی بات صرف اتنی ہے کہ ہم جب قدم اٹھا لیتے ہیں تو کسی یوٹرن کی خاطر الٹے نہیں مڑتے۔ یہ بات مجھے ایک حالیہ صورت حال سے ذہن میں آئی ہے۔ ایک نہیں تین تین حوالے یک لخت یاد آئے۔ پہلے وہ بات جس نے فکر کو اس ڈگر پر ڈالنے میں مہمیزکا کام کیا۔ یہ جو اسرائیل کا مسئلہ ہے‘ جو آج کل ہمارے ہاں پھر تازہ ہو گیا ہے۔ ہم نے کہیں بہت پہلے
هفته 28 نومبر 2020ء

عاشق رسولؐ کا جنازہ

پیر 23 نومبر 2020ء
سجاد میر
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا یہ ایک عاشق رسولؐ کا جنازہ تھا۔ اسے محض مسلمانوں کا اجتماع نہ سمجھو‘یہ عاشقان رسولؐ کا اجتماع تھا۔ اس بنیادی سے نکتے پر ذرا گہرائی سے غور کرو تو اس راز کو پا سکو گے کہ اسلام کس چیز کا نام ہے۔ کہتے ہیں یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ صرف جنازہ ہی نہیں‘ایسا اجتماع بھی چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا۔مجھے احمد بن حنبل کا ایک قول یاد دلایا گیا کہ کسی عالم کی دربار حق میں قبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی نماز جنازہ سے
مزید پڑھیے


کوئی ہے جو لگام دے

جمعرات 19 نومبر 2020ء
سجاد میر
سب سے ضروری خبر وہ ہے جسے ایک انگریزی اخبار نے شہ سرخی بنایا ہے اور اردو پریس نے عمومی طور پر اسے اہمیت نہیں دی ہے۔ وہ خبر یہ ہے کہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں حالات کا جائزہ لینے آ رہا ہے۔ باقی ہم سب کے لئے اہم بات یہ ہے کہ(1) گلگت و بلتستان کی اصل کہانی کیا ہے۔ کیا بلاول بھٹو سے سچ مچ کچھ وعدے کئے گئے تھے یا پیپلز پارٹی کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس سے ان انتخابات میں دست تعاون بڑھایا جائے گا۔ وہاں کی مسلم
مزید پڑھیے


تحمل سے کام لیں

پیر 16 نومبر 2020ء
سجاد میر
بات اس پریس کانفرنس پر ہو رہی تھی،جو ہماری مسلح افواج کے ترجمان اور وزیر خارجہ نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ چھوٹی بات نہیں ہے۔ صاف دکھائی دیتا تھا کہ دشمن ہمیں ہر طرح سے زک پہچانا چاہتا ہے۔پوچھا گیا،اس کا حل کیا ہے؟ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا ہائوس ان آڈر کرو۔ کیا مطلب؟ ہم یہ کام پہلے بھی کر چکے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں ہم نے بالآخر یہی کیا تھا۔ کیا ہندوستان کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے۔ ہرگز نہیں،اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے،مگر اس وقت ہم ایک منشتر قوم ہیں۔ اختلاف انتہائی سطح پر نظر آتا
مزید پڑھیے


کراچی سے ایک خبر

جمعرات 12 نومبر 2020ء
سجاد میر
آئی جی کراچی کے قضیے کا عسکری فیصلہ آ گیا جس سے بہت سے سوال پیدا ہوئے۔ بلاول نے گلگت و بلتستان ہی سے اسے قبول کیا جب کہ نواز شریف نے لندن سے اس کو مسترد کیا۔ نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں جو الفاظ استعمال کئے اس کا آخری لفظ بہت اہم اور تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ انہوں نے لکھا Rejectedیہی وہ الفاظ تھے جو ڈان لیکس پر حکومتی کارروائی کے جواب میں فوج کے ترجمان نے استعمال کئے تھے جس پر بہت لے دے ہوئی تھی۔ بالآخر یہ الفاظ واپس لئے گئے مگر آرمی چیف نے
مزید پڑھیے



اور وہ ہار گیا

پیر 09 نومبر 2020ء
سجاد میر
سراج الحق نے کیا مزے کی بات کی ہے کہ عمران خان تمہارا دوست ٹرمپ تو چلا گیا‘ اب تمہاری باری ہے۔اس الیکشن میں پاکستانیوں کو اتنا مزہ آیا ہے کہ گویا سراج الحق جیسے ثقہ آدمی نے بھی پھبتی کس کر لطف اٹھایا ہے۔ اس الیکشن میں ٹرمپ کے ہارنے پر ایسے خوشیاں پھوٹ رہی ہیں جیسے عمران کی شکست پر ن لیگ کو ہونے کی توقع ہے۔ میں دونوں کا مقابلہ نہیں کر رہا۔ ٹرمپ کے ہارنے پر میں بھی خوش ہوں۔ اس لئے کہ لگتا تھا دنیا سے جمہوریت کی اعلیٰ اقدار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت
مزید پڑھیے


ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور سعودساحر

جمعرات 05 نومبر 2020ء
سجاد میر
اس دوہرے صدمے کو کیسے بیان کروں‘ سمجھ میں نہیں آتا۔دو دنوں میں آگے پیچھے دونوں رخصت ہوگئے۔ مہربان ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی بھی اور مرے پیارے سعود ساحر بھی۔ میں ان دونوں کے بارے میں ایک مضمون باندھ سکتا ہوں۔ ان کی عظمتیں گنوا سکتا ہوں۔ مگر میراتو دونوں ہی سے تعلق انتہائی ذاتی تھا۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی‘ الطاف حسن قریشی کے بڑے بھائی تھے۔ ایک زمانہ تھا کہ دنیا انہیں علی برادران کی طرح قریشی برادران کہتی تھی۔ الطاف حسن قریشی نے صحافت کی دنیامیں جو معرکے مارے اس سب کے پیچھے ان کے بڑے بھائی کی انتظامی
مزید پڑھیے


غداری کی فیکٹریاں

پیر 02 نومبر 2020ء
سجاد میر
ہمارے معاملہ سازوں نے معاملہ بگاڑنے میں پھر کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ایاز صادق غدار وطن ہے تو مجھے پھر اس شخص کی تلاش ہے جسے میں محب وطن کہہ سکوں۔ ایک زمانہ تھا جب قیام پاکستان سے پس منظر میں بہت سے لوگ تھے جن پر غداری کا لیبل شغل طور پر ٹپکا دیا گیا تھا۔ مثال کے طورپر باچا خاں کی آل اولاد پر، پیروکاروں کے بارے میںیہ تاثر تھا کہ وہ نہ صرف پکے پکے غدار ہیں بلکہ لادین بھی ہیں۔ یہ تو جب ملک توڑنے والے ملک توڑ رہے
مزید پڑھیے


فرانس کا مسئلہ

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
مری نسل جس ماحول میں پروان چڑھی ہے‘ اس زمانے میں فرانس کی تہذیبی برتری کا بڑا تذکرہ تھا۔ ہر کوئی اس کے گن گاتا تھا۔ پیرس بلا شبہ آرٹ اور فنون لطیفہ کا صدر مقام گنا جاتا تھا۔ ادب میں ہر جگہ فرانسیسی شاعروں اور فکشن رائٹرز کا تذکرہ تھا۔ کہا جاتا تھا شاعری پڑھنا ہے تو فرانسیسی جدت پسندوں کو پڑھوں اور افسانہ پڑھنا ہے تو بس روسی اور فرانسیسی دو زبانوں میں بہ صنف پائی جاتی ہے۔ پھر انقلاب فرانس تو ہمارے گویا درس میں شامل تھا۔ایک ایسا ذہنی انقلاب جس نے دنیا بدل کر رکھ دی۔
مزید پڑھیے


کلچر کے نئے محلے

پیر 26 اکتوبر 2020ء
سجاد میر
کیا عمدہ کالم لکھا ہے عزیزم یاسر پیرزادہ نے۔ دل باغ باغ ہو گیا ہے۔ میں یہ بات برسوں سے کہتا آیا ہوں، جو شاید میرے عجز بیان کی وجہ سے عام نہ ہو سکی۔ یا شاید اس لئے پذیرائی نہ پا سکی کہ میرا شمار الحمد اللہ دقیا نوسی اور رجعت پسند قسم کے لوگوں میں کر لیا گیا ہے۔الحمد اللہ سو بار الحمد اللہ ! پہلا سوال اٹھایا ہے کہ کل تک اداکاروں کو وہ عزت نہ ملی تھی،جو آج کل اس طبقے کو حاصل ہے۔ مطلب کہ وہ کام تو آج بھی وہی کر رہے ہیں۔ یہ
مزید پڑھیے