BN

سعدیہ قریشی


ایک عاشق رسولؐ کا سفر آخرت


حیران کن سفر آخرت لاکھوں کا مجمع‘ تاحد نظر لوگ ہی لوگ جو سچے عاشق رسول کے ساتھ محبت اور عقیدت کی ڈور میں بندھے تھے۔ لاہور کی تاریخ بلکہ شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ علامہ خادم رضوی کو نصیب ہوا جو دنیاوی حیثیت سے ماورا ایک سچے عاشق رسول تھے۔ ہر زندگی گزارنے والے کو موت کے پار اترنا ہے۔ جب موت اسے زندگی سے دور لے جاتی ہے تو جانے والے کو جن الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے وہ اصل میں اس کے وہ نظریات وہی خواب وہی خواہشیں ہوتی ہیں جن
اتوار 22 نومبر 2020ء

تو کیا سانحے اور حادثے بھی طبقاتی ہوتے ہیں…؟؟

جمعه 20 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
کسی خوشحال‘ دولت مند‘ کے ساتھ ہونے والا حادثہ‘ سانحہ کہلاتا ہے اور کسی بے کس‘ کم وسیلہ‘ مسکین غریب پر وہی حادثہ گزر جائے تو وہ واقعے کے زمرے میں آتا ہے۔ کشمورمیں چار سالہ بچی علیشا اور اس کی بے کس‘ غریب ماں کے ساتھ جو شیطانی بربریت کی گئی۔ وہ ایک بڑا سانحہ اس لئے نہ بن سکا کہ اس میں ظلم کا شکار ہونے والی ماں اور اس کی ننھی بیٹی سماج کے اس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جو ویسے ہی غربت‘ افلاس بھوک اور ننگ کی ’’زیادتی‘‘ سہتے سہتے قبروں میں اتر جاتے ہیں۔ موٹر
مزید پڑھیے


اے ایس آئی محمد بخش

بدھ 18 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
بات کردار کی ہے۔ شرافت اور نجابت کی ہے۔ یہ روشنی لہو میں رچی بسی ہو تو کردار ایسے ہی راستوں کے شجر بن جاتے ہیں یا پھر گھپ اندھیرے میں، ایک دیے کی طرح جگمگانے لگتے ہیں۔ واقعہ پرانا ہے مگر آج بھی یادوں میں لو دیتا ہے۔ لاہور سے خان پور تک کا ٹرین کا سفر تھا۔ لوئر اے سی کمپارٹمنٹ میں بکنگ تھی۔ ایک بھلی سی مسافر خاتون پہلے سے وہاں بیٹھی ہوئی تھیں انہیں رحیم یار خان جانا تھا۔ ان کی عمر اور شفقت بھرے سراپے کے اثر میں، میں نے انہیں آنٹی کہہ کر مخاطب کیا
مزید پڑھیے


کمفرٹ زون:ٹام کی موٹیوشینل ٹریننگ جاری

اتوار 15 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
اب ایک نیا مسئلہ درپیش تھا کہ کیسے ٹام کو سمجھایا جائے کہ تم اپنے کمفرٹ زون سے نکلو اور آس پاس کی خرانٹ اور تیز طرار بلیوں سے اپنا دفاع کرنا سیکھو۔مگر ٹام صاحب تو گویا بھول ہی گئے تھے کہ وہ باقاعدہ ایک عدد بلا ہیں اور بلیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اگر وہ چاہیں۔ لیکن ٹام ڈر کے باقاعدہ ایک کھلے پنجرے میں بند ہو کر بیٹھنا پسند کرتا تھا۔ چند ماہ پہلے اس نے ایک بن بلائے مہمان کی طرح ہمارے گھر میں رہنا شروع کر دیا تھا۔ لاک ڈائون کے دن تھمے کورونا پھیل
مزید پڑھیے


افسوس کہ ہم سطحی سوچ کے اسیر ہو گئے!!

جمعه 13 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
سمجھ نہیں آتی کہ اس حکومت کے سرکردہ رہنمائوں نے بلند بانگ دعوئوں پر مبنی بیانات دینے کا کوئی اضافی کورس کر رکھا ہے کہ آئے روز اہم حکومتی شخصیات کی جانب سے ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں کہ جنہیں سن کر عوام بس بغلیں جھانکتے رہ جاتے ہیں۔ سامنے کی حقیقتیں حکمرانوں کو دکھائی نہیں دیتیں مگر تقریروں اور بیانات میں دور کی کوڑی لاتے ہیں جو ہم جیسے عام انسانوں کو سمجھ ہی نہیں آتی۔تازہ ترین ارشاد صدر مملکت جناب عارف علوی کی جانب سے آیا ہے فرماتے ہیں‘پاکستان نشاۃ ثانیہ کی طرف جا رہا ہے‘ریاست مدینہ کا تصور
مزید پڑھیے



خوشامد کی سائونڈ پروف دیواریں

بدھ 11 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
نومبر کی پہلی تاریخ اور پہلا اتوار‘ عزیزوں کی ایک شادی میں شرکت کی۔ راولپنڈی کے عسکری کلب میں ولیمہ کی تقریب تھی۔ اس وقت کورونا دوبارہ سے پھیلنے کی خبریں آ رہی تھیں۔ ہم نے حفظ ماتقدم کے طور پر اپنے ساتھ ماسک رکھ لیے تھ۔ خیر اب ماسک تو گھر سے باہر نکلتے ہوئے ایک ضروری چیز ہو گئے ہیں۔ اوپن ایئر میں کینوپی کا بندوبست تھا۔ مہمانوں کے لیے میزیں بھی فاصلے پر لگائی گئی تھیں۔ جگہ کے اعتبار سے مہمانوں کی تعداد بھی کم رکھی گئی تھی مگر شادی کی بھرپور تیاری کے ساتھ ماسک لگانے کا
مزید پڑھیے


’’ہی از ناٹ ڈونلڈ ٹرمپ‘‘

اتوار 08 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ چار سال میں دنیا نے ٹرمپ کی صورت میں ایک بڑبولا کچھ کچھ خبطی اور بظاہر من موجی جو جی میں آئے ٹویٹ کرنے والا امریکی صدر بھگتا ہے۔ جس نے امریکہ کو جوڑنے سے زیادہ تقسیم کیا ہے ۔اس وقت صدارتی الیکشن کی دوڑ میں جوبائیڈن ‘ وکٹری پوائنٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ صورت حال واضح ہو رہی ہے کہ وائٹ ہائوس کا نیا مکین ڈیمو کریٹس کا امیدوار جوبائیڈن ہو گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو چونکہ دنیا بھگت چکی ہے سو اس بار دلچسپی اور توجہ کا مرکز بائیڈن کی ذات ہے۔ وائٹ ہائوس کے نئے مکین بائیڈن
مزید پڑھیے


مڑ بوٹی دا قیمہ۔۔۔

جمعه 06 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ممتاز شاعر انور مسعود مزاح کے پیرائے میں جو جاندار تبصرہ اور تجزیہ ہمارے سماج سیاست اور انسانی نفسیات کا کرتے ہیں وہ انہی کا خاصہ ہے مزاح سے شروع ہونے والی نظم بسا اوقات ایسی تلخ حقیقت پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ قاری پڑھتے پڑھتے سنجیدہ اور کبھی رنجیدہ ہو جاتا ہے۔مزاح میں فکر انگیز بات کہنے کا ہنرصرف انور مسعود صاحب کو آتا ہے ہے اسی لیے بہت سے لوگوں کی طرح میرے بھی پسندیدہ شاعر ہیں۔انور مسعود صاحب کے ساتھ مجھے کچھ مشاعرے بھی پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ایک تو شاعری کمال اور
مزید پڑھیے


کیسے تھے محمد صلی اللہ علیہ و سلم؟

اتوار 01 نومبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ہر سال ربیع الاول کے موقع پر سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوتی ہے ، سیرت النبی پر لکھی ہوئی کتابوں کو انعامات دیے جاتے ہیں۔اس سال جس کتاب کو سیرت النبی کے حوالے سے پہلے انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا وہ نصرت محمود قریشی کی لکھی ہوئی ہے۔میری خوش قسمتی کہ نصرت محمود سے مل چکی ہوں میری دوست فرح ہاشمی نے مجھے ان سے ملوایا ۔ گزشتہ برس یہ کتاب منظر عام پر آئی ،کتاب کی رونمائی کی تقریب میں مجھے بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا میں نے عرض کی کہ میں بغیر پڑھے کتاب پر
مزید پڑھیے


نبی پاکؐ سے محبت تہواری نہیں ہے

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
سرکارِ دو عالم سے محبت کو ہم نے تہواری بنا دیا ہے۔کیا عشق رسول ﷺ کوئی تہوار ہے کہ اسے فیسٹول کی طرح منایا جائے۔ اب تو حکومت وقت نے بھی ہفتہ عشق رسول ﷺ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یعنی ہم پورا ہفتہ عشق رسول ﷺ منائیں گے اور پھر اس کے بعد۔؟ آج عید میلادالنبی ؐ ہے۔ بے شک اس دن سے حسین ترین دن اس کائنات میں اور کوئی نہیں۔ اس روز خالقِ کائنات نے اس ہستی کو زمین پر رونق افروز کیا جس کے لئے یہ کائنات روزِ اول سے سجائی گئی تھی۔ نبی پاک ﷺ سے
مزید پڑھیے