سعدیہ قریشی

فلسطین کا نوحہ محمود درویش کی زبان میں

اتوار 20 مئی 2018ء
دو سے آٹھ شہیدوں اور دس زخمیوں بیس گھروں اور پچاس زیتون کے پیڑوں کا قتل عام ہمارا روزانہ کا نقصان ہے (محمود درویش) فلسطین کے بے خانماں حساس دل شاعر محمود درویش کی یہ نظم کے چند مصرعے ہیں۔ محمود درویش نے اپنے ایک ایک حرف میں اپنی ماں دھرتی کی بدنصیبی کو سمو دیا ہے ستر سال ہوتے ہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر جبر اور قہر کے سائے ہیں۔ بدنصیبی اور بے گھری اس کے مکینوں کا مقدر ہیں۔ یہاں بچے پیدا ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ کسی ظلم کے اندھے لمحوں میں اپنی مائوں کے سامنے قتل کردیئے جائیں۔فلسطینی مائوں نے اپنی اوڑھنیاں
مزید پڑھیے


قلعی گر۔!!

جمعه 18 مئی 2018ء
رمضان المبارک کا مقدس‘ اُجلا‘ مہینہ ہمارے درمیان ہے ہم خوش نصیب ہیں کہ ایک بار پھر زندگی نے ہمیں اتنی مہلت دی کہ اس مہینے کے سنہرے شب و روز سے اپنی زندگیاں اجال سکیں کبھی کبھی مجھے یہ مہینہ اس قلعی گر کی طرح سے لگتا ہے جو گزرے وقتوں میں گلیوں میں آوازیں لگایا کرتا تھا کہ پیتل کے کالے میلے‘ برتنوں کو قلعی کروالو۔ اور قلعی کرواتے ہی پرانے بھدے اور سبزی مائل سیاہ برتن چاندی کی طرح اجلے ہو جایا کرتے۔ گویا نئے نکور ہوں۔ رمضان کا مہینہ بھی ایک قلعی گر کی طرح آوازے لگاتا
مزید پڑھیے


بوجھ!!

بدھ 16 مئی 2018ء
سابق وزیراعظم نوازشریف کے متنازعہ انٹرویو کے بعد صرف پاکستان کا قومی منظر نامہ ہی گرد آلود نہیں ہے بلکہ یہ گرد دور تک اڑ رہی ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات میں اس پر تبصرے ہورہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز اور انڈیا ٹوڈے انٹرنیٹ پر پڑھ لیں یا الجزیرہ کا تازہ اخبار دیکھ لیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ دنیا نوازشریف کے بیان کو کس زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ الجزیرہ اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ ’’پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف جنہیں حال ہی میں پاکستان کی عدالتوں نے کرپشن کے چارجز پر نااہل
مزید پڑھیے


فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص

اتوار 13 مئی 2018ء
جسٹس شوکت صدیقی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قابل فخر فرزند ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس دور میں جب مصلحت پسندی اور کمرشل میڈیا کی مفاد پرستی کے آگے اخلاقی روایات و دینی شعائر‘ ہماری سماجی تہذیب سب بے معنی محسوس ہوتے ہوں‘ قدرت نے جسٹس شوکت صدیقی کی صورت میں اس قوم پر ایک احسان کیا ہے۔ ایک بار پھر معزز جج کے فیصلے نے پوری قوم کو اطمینان اور سکون سے ہمکنار کیا۔ پوری قوم جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے پر ان کو مبارکباد پیش کرتی ہے کہ اس بار رمضان میں مذہبی نشریات کے نام پر جو
مزید پڑھیے


سفر نامہ(آخری حصہ)

بدھ 09 مئی 2018ء

ایڈیٹر پیسہ اخبار مولوی محبوب عالم کا 1900ء میں یورپ کی سیاحت کا سب سے اہم مقصد پیرس میں ہونے والی عالمی نمائش کو دیکھنا تھا۔ وہ اپنے سفر نامے میں کئی بار اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یورپ کے کئی اخباروں میں جب میں نے اس عالمی نمائش کے بارے میں پڑھا تو آتش شوق بھڑک اٹھی کہ ایک ہندوستانی بھی جا کر دیکھے کہ اہل یورپ صنعت و حرفت میں کیا کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے اس سفر میں امیدوں یا بڑے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں کرنے کی
مزید پڑھیے


مولوی محبوب عالم کا یادگار سفر نامہ(پہلا حصہ)

اتوار 06 مئی 2018ء

کتاب کا نام ہے ’’1900کا یورپ ‘‘ اور اس کو پڑھنا ایسے ہی ہے جیسے بندہ کسی ٹائم مشین کے ذریعے ایک صدی پیشتر کے سفر پر نکل جائے۔ اس کے لکھاری ماضی کے ایک مشہور اردو روزنامے کے ایڈیٹر مولوی محبوب عالم ہیں۔ مولوی محبوب عالم‘ جنوبی ایشیا میں اردو اخبار کے بانیوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے گوجرانوالہ سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا۔ آغاز میں ’’ہمت‘‘ کے نام سے ہفتہ وار رسالہ بھی نکالا مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ لوگ کم قیمت اخبار روز کی بنیاد پر پڑھنا چاہتے ہیں یہیں سے پیسہ
مزید پڑھیے


گڈ گورننس اور جذباتی نعرے

جمعه 04 مئی 2018ء

گڈ گورننس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ پنجاب میں واسا کے 600ملازمین پانچ چھ مہینوں سے اپنی تنخواہیں نہ ملنے کا ماتم کر رہے ہیں اور سرکاری محکموں کے متوازی پرائیویٹ کمپنیوں کے ناتجربہ کار چہیتوں کو لاکھوں روپیہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ واسا کے یہ 600ملازمین جنہیں ان کے کام کا سرکاری معاوضہ چند ہزار کی صورت میں ملتا ہے اور یہ چند ہزار ہی ان کے اور ان کی ذات سے جڑے خاندانوں کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان چند ہزار روپوں سے ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے ان کے
مزید پڑھیے


زرد آنکھیں میلے خواب

بدھ 02 مئی 2018ء

کیا آپ نے کسی مزدور کو غور سے دیکھا ہے؟ اس طرح کہ اس کے وجود میں مرتی ہوئی خواہشوں کی آواز سنائی دی ہو۔ مجبوریوں کی سولی پر لٹکے ہوئے اس کے خوابوں کی آہ و زاری نے آپ کی سماعتوں میں بھی ہلچل پیدا کی ہو۔ اس کے بوسیدہ لباس اور چہرے پر کھنڈی غربت کی زردی نے اس کے شب و روز کی کہانی آپ کو سنائی ہو۔ لفظ مزدور اور دیہاڑی دار کے اندر مجبوریوں اور حسرتوں کے کتنے ہی جہان آباد ہیں۔ ہم ناشکرے لوگ اپنی اپنی زندگی کی سہولتوں اور آسائشوں کے دائرے میں
مزید پڑھیے


آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے!

هفته 28 اپریل 2018ء
قومی منظر نامے پر چیف جسٹس صاحب چھائے ہوئے ہیں۔ لاہور سے لے کر پشاور تک وہ ہسپتالوں کے دورے کر رہے ہیں۔ کبھی عدالتوں کی راہداریوں میں خوار ہوتے سائلین کے مسائل سنتے ہیں کبھی سرکاری ہسپتالوں کے سہولتوں سے عاری نظام کا شکار بے بس مریضوں کے دکھڑے سنتے ہیں اور موقع پر احکامات جاری کرتے ہیں پاکستان کے نظام میں رلتا ہوا ایک عام پاکستانی ایک عام شہری جس کے پاس دولت اور سماجی سٹیٹس کا ہتھیار نہیں وہ زندگی کی اس جنگ میں ایک ہارے ہوئے‘ شکست خوردہ سپاہی کی طرح ہے جو بساط بھر کوشش تو
مزید پڑھیے