سعد الله شاہ

رمضان المبارک، سب کی تربیت کا مہینہ

پیر 21 مئی 2018ء
حیدرآباد سے دعا علی کا فون آیا کہ آپ نے رمضان پر کوئی کالم نہیں لکھا۔ میں نے کہا کہ ایسی بات نہیں رمضان شریف کا تذکرہ میرے کالم میں ہے۔ کہنے لگی ایسا کالم پڑھنا چاہتے ہیں جو خالص ماہ صیام کے حوالے سے ہو، اسے سیاست کے ساتھ آلودہ نہ کیا جائے۔ اس کی بات اپنی جگہ درست اور میں اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ تحریر کروںگا مگر ذہن میں یہ بات رہے کہ ’’جدا ہوویں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ یہ مہینہ تو سب کی تربیت کے لیے ہے۔ رات ہی
مزید پڑھیے


سندھ اسمبلی میںتذکرہ ایک جانور کا

هفته 19 مئی 2018ء
لکھنا تو میں کسی اور موضوع پر چاہتا تھا مگر سراج درانی کے استفسار نے ہمیں کھینچ لیا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے عبدالرئوف صدیقی سے پوچھ لیا ’’کیا کبھی گدھے کا گوشت کھایا ہے‘‘ تفصیل میں دیکھا تو ان کے درمیان دلچسپ مکالمہ تھا۔ رئوف صدیقی نے اپنی بجٹ تقریر میں گدھوں کا تذکرہ چھیڑ دیا تو سپیکر آغا سراج درانی نے پوچھا، کیا آپ نے بھی گدھے کا گوشت کھایا ہے کیونکہ آپ نے بجٹ تقریر میں سب سے اہم بات یہ کی کہ گدھے بہت ہو چکے ہیں اور ہر طرح کا گدھا موجود ہے۔
مزید پڑھیے


محبت میں محمد(ﷺ) کا حوالہ

جمعه 18 مئی 2018ء
درویش اپنی تعریف سن کر بولا کہ کبرِ پارسائی سب سے بڑا گناہ ہے۔ بات یہ ہے کہ خیر کسی بھی زبان سے ادا ہو وہ خیر ہے۔ دوسری بات یہ کہ کسی کے ماضی پر اس کا حال نہ دیکھا جائے ہدایت کی گنجائش تو ہر وقت موجود ہے اور بھٹکنے کے بارے میں آپ تھوڑی طے کرتے ہیں ۔ معزز قارئین! میں نے جب یہ سنا کہ کبرِ پارسائی سب سے بڑا گنا ہے تو مجھے اسی وقت ایک گونا اطمینان ہو گیا کہ شکر ہے اس کبر کی میرے اندر تو کوئی گنجائش ہی نہیں۔ یہ فکر
مزید پڑھیے


جہالت کے انداز

جمعرات 17 مئی 2018ء
کبھی اشرف قدسی نے کہا تھا: اعلان جہل کر تجھے آسودگی ملے دانشوری تو خیر سے ہر گھر میں آ گئی واقعتاً یہ جہالت عجیب چیز ہے اور یہ معمولی شے بھی نہیں کہ آخر اس کا علم سے مقابلہ ہے اور یہ ایسی کیفیت یا سطح ہے کہ اسے سمجھنے میں بعض اوقات علم بھی جواب دے جاتا ہے اور بے بس نظر آتا ہے۔ ان کے تو کیا کہنے جو جہالت کو علم سمجھتے رہے اور ابو جہل کہلائے۔ یہ بھی تو کہا گیا کہ علم حاصل کرنا اصل میں اپنی جہالت کو ختم کرنا ہے گویا جب علم کی روشنی
مزید پڑھیے


آدھے ادھورے خواب

بدھ 16 مئی 2018ء
ڈاکٹر شاہد صدیقی صاحب سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ محترم عرفان صدیقی کے ہمراہ میرے ہاں آئے کہ صدیقی صاحب کی کتب میرے پبلشرز سے شائع ہو رہی تھیں۔ شاہد صاحب پہلی ہی نظر میں ایک نستعلیق شخصیت کی صورت دل میں اتر گئے۔ پھر پتہ چلا کہ ان کا سبجیکٹ بھی انگریزی ہے اور Lumsمیں پڑھا رہے ہیں۔ میری ان کے ساتھ انگریزی کی مناسبت بھی بن گئی۔ اس کے بعد ان سے نیشنل بک فائونڈیشن کے کتاب میلہ میں ملاقات ہوئی۔ یہ تو معلوم ہوتا رہا کہ وہ ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے وائس
مزید پڑھیے


مدر ڈے سیلی بریشن

منگل 15 مئی 2018ء
Mother's day یعنی مائوں کا دن آیا اور گزر گیا۔ اکثر لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق یہ دن منایا۔ میں تو اپنی ماں کو روز یاد کرتا ہوں۔ میرا معمول ہے کہ میں مغرب کی نماز کے بعد ان کے لیے سورۃ الملک تلاوت کرتا ہوں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جانے کے بعد بھی میری رہنمائی کرتی ہیں۔ غالباً بائیس یا تئیس رمضان کو آج سے چھ سال قبل ان کی وفات ہوئی مگر وہ اپنے ہونے کا احساس قدم قدم پر دلاتی ہیں۔ غلط کام پر وہ بے دھڑک روک دیتیں اور اچھے
مزید پڑھیے


نواز شریف سلطانی گواہ

پیر 14 مئی 2018ء
مجھے کیا ہے جو تونے تنگ آ کر چاک کر ڈالا ترا دامن تھا تیری جیب تھی تیرا گریباں تھا نہیں صاحب یہ دامن نواز شریف کا نہیں بلکہ وطن کا چاک ہوا ہے اور ہوا بھی اس کے سابق نااہل وزیر اعظم کے ہاتھوں۔ وہ نفرت اور انتقام کی ساری حدیں پھلانگ گئے اور انٹرویو میں نہایت زہریلا بیان دے ڈالا کہ ’’کیا عسکری تنظیموں کو ممبئی میں 150لوگ قتل کروانا چاہیے تھے۔ اور سلطانی گواہ کیا ہوتا ہے۔ یہ سیدھا سادا ایک خودکش حملہ ہی نہیں بلکہ دوسری طاقتوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ وہ تو پہلے ہی کسی
مزید پڑھیے


سیاست اور اندیشے

هفته 12 مئی 2018ء
حفیظ جالندھری نے کہا تھا: دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی خیر شعر تو شعر برائے شعر ہے جو نہ جانے کہاں سے ذہن میں آن ٹپکا۔ مجھے چشتیاں سے فون آرہے ہیں کہ عمران خان سے کہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں کہ وہ لوٹوں کو دھڑا دھڑ پی ٹی آئی میںشامل کر رہے ہیں اور یوں ایک غالب امکان ہے کہ ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی ڈیل کرکے اپنے پرانے وفاداروں کو پیچھے کر کے انہیں جگہ دی جائے گی۔ میں نے انہیں کہا کہ قبلہ خان صاحب کو
مزید پڑھیے


شام ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی

جمعه 11 مئی 2018ء

انسان کے اندر سب سے بڑی بیماری Lust of powerہے یعنی وہ اپنے اندر طاقت کا ارتکاز چاہتا ہے اسی مقصد کے لیے وہ Lust of wealthکا شکار ہو جاتا ہے جسے آپ ہوس کہہ کر پکار سکتے ہیں یہ خواہش اسے غرض کا بندہ بنا دیتی ہے اپنی مقصد براری کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے جلیل عالی نے کہا تھا: اپنے دیے کو چاند بتانے کے واسطے بستی کا چراغ بجھانا پڑا مجھے یہ تو شاعرانہ خیال ہے وگرنہ کوئی ہلاکو بن جائے تو وہ راستے میں آنے والی ہر شے کو پامال کر دیتا ہے
مزید پڑھیے


’’جوتا ڈِش‘‘ عزت یا مذاق

جمعرات 10 مئی 2018ء

کتنا عجیب لگتا ہے کہ کوئی آپ کو جوتوں کی دکان پر لے جا کر پوچھے کہ ’’کیا کھائیں گے جناب!‘‘ چلیے چھوڑیے اس مثال کو مجھے تو ذکر کرنا ہے ایک جوتا ڈش کا میں نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو ہمارے چودھری ریاض صاحب نے جیب سے موبائل نکالا اور کہنے لگے ذرا دیکھیے اس دعوت کا منظر کہ جہاں اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ جاپان کے وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کے ساتھ دعوت خاص میں ہیں‘ یعنی ہائی پروفائل جہاں یہ چاروں ہیں اور ایک شیف خدمت کے لیے کھڑا ہے۔ باقی تو
مزید پڑھیے