BN

سعد الله شاہ


دھوپ اتری اشجار سے بھی


باب حریم حرف کو کھولا نہیں گیا لکھنا جو چاہتے تھے وہ لکھا نہیں گیا خوئے گریز پائی نقش قدم نہ پوچھ منزل کی سمت کوئی بھی رستہ نہیں گیا یہ گریزئی نقش پا اپنی جگہ ایک وصف سہی مگر اختراع اور تخلیق کا سلیقہ اور قرینہ بھی تو ضروری ہے، نئے راستے تراشنا ہرکس و ناکس کام بھی تو نہیں۔ کیا کیا جائے یہ عہد بھی تو قحط الرجال کا ہے۔ اکثر رجال تو وبال ہی ثابت ہوتے ہیں۔ وہ مرد خلیق والی بات بھی نہیں، کہ جس کا ذکر حضرت اقبال نے کیا تھا۔ اقبال نے تو شاہین کا ذکر بھی کیا
پیر 30 نومبر 2020ء

پروین شاکر کی یاد میں خوشبودار مشاعرہ

اتوار 29 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
اک یار طرح دار بھی ضروری تھا اور اس کی سمت سے انکار بھی ضروری تھا چٹان چوٹ پہ چنگاریاں دکھانے لگی تراشنا شہکار بھی ضروری تھا یہ فنکار بھی عجیب ہوتے ہیں۔ کم از کم نارمل تو بالکل نہیں ہوتے وگرنہ وہ عام ہو جاتے۔ وہ خاص ہوتے ہیں۔ روڈن نے کہا تھا کہ میں مجسمہ کب بناتا ہوں میں تو چٹان سے اضافی پتھر ہٹا دیتا ہوں۔ گویا مجسمہ تو پتھر کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ یہ ذہن رسا کی بات ہے اور تخلیقی ذہن کا ادراک۔ بہرحال میں کوئی ادق مضمون نہیں لکھنے جارہا۔ مجھے تو خوشبو سے بنی ہوئی
مزید پڑھیے


نامرد بنانے کا فیصلہ اور پریشانی

هفته 28 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
کنج دل تباہ میں کیا ہے بچا ہوا اک نقش پائے یا رہے حیرت بنا ہوا سچ مچ نفس زدہ ہے چراغ مزاردل کچھ کچھ جلاہواہے توکچھ کچھ بچا ہوا میں ایسے شعروں سے آپ کو یکسر اداس ا نہیں کرنا چاہتا کہ کہیں آپ بھی اپنے روزہائے رفتگاں میں نہ کھو جائیں۔ بہرحال اپنے جھانکتا تو ہر شخص اور پھر مغموم بھی ہوتا ہے۔ بس کچھ ایسا ہی میرا ارادہ تھا کہ گردن جھکا کر تصور یار بھی دیکھی جائے اور زخم ہائے ہجر و محرومی کا حال کھولا جائے مگر کیا کریں یک دم اخبار آئے تو ایک اخبار کی سرخی پر
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کی چودھری شجاعت کے گھر آمد

جمعه 27 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس نے بس اتنا کہا میں نے سوچا کچھ نہیں میں وہیں پتھرا گیا میں نے سوچا کچھ نہیں کیا ہے وہ کیسا ہے وہ مجھ کو اس سے کیا غرض وہ مجھے اچھا لگا میں نے سوچا کچھ نہیں میرے پیارے قارئین!آج محبت کی شدت پر بات ہو گی۔ محبت کی کئی اقسام ہیں اور پھر یہ بہت سوں سے ہو سکتی ہے۔ ہم بات کو پھیلائیں گے نہیں ،بس بنیادی بات کریں گے کہ ایک اعلیٰ محبت غیر مشروط ہوتی ہے اور وہی بے لوث ہوتی ہے کہ جس کے پیچھے کوئی اعلیٰ مقصد ہوتا ہے۔ ہم اس محبت کو بھی فی
مزید پڑھیے


بچوں کی پسندیدہ حکومت

بدھ 25 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
بولے تو لفظ باعث الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے تھی تندوتیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے وقت کو پنکھ لگے ہوئے اور وہ اڑتا چلا جاتا ہے۔ وہ وصل کے لمحوں کی طرح یا بہار کے لمحوں کی طرح ہے۔ امیر مینائی یاد آ گئے: وصل کا دن اور اتنا مختصر۔ دن گنے جاتے تھے جس دن کے لیے۔ نہیں صاحب ایسی سوچیں صرف خوش حالی میں آتی ہیں جن کے گھر دانے نہیں ان کا وقت کہاں گزرتا ہے۔ مہنگائی نے جن کی نیندیں اڑا دی ہیں وہ خواب
مزید پڑھیے



3Dsاور سیاست

منگل 24 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
نہ میں یوں در بدر پھرتا نہ تم خود کو سزا دیتے یہ اچھا تھا کہ ہم دونوں زمانے کو بھلا دیتے بہت اچھا ہوا محفل میں رسوائی نہ ہو پائی خوشی سے رو ہی پڑتے ہم اگر تم مسکرا دیتے اس سے پہلے کہ ہم کوئی رومانس کی بات کریں کہ جہاں بہم مشورے ہو رہے ہیں‘ہم کوئی بہت ہی اہم اور چٹ پٹی بات اپنے قارئین سے شیئر کریں گے۔ وہ بات ہمیں ہضم بھی نہیں ہو رہی اور بیان کرنی بھی اتنی آسان نہیں۔وہ سیف الدین سیف والی بات کہ اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔ مجبور ہیں
مزید پڑھیے


عاشق رسولؐ کا غم

پیر 23 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے خواب ہو جاتے ہیں اس شہر میں آنے والے ان کے ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں دیکھا جاتا کتنے روشن ہیں چراغوں کو جلانے والے لکھنے تو بیٹھ گیا ہوں پر دل بڑا مغموم ہے کہ ایک اداسی نے شہر لاہور کو گھیر لیا ہے مگر مینار پاکستان اور اس کے آس پاس کی فضا یارسول ؐ اللہ کے ورد سے گونج رہی ہے۔ کیا کروں ہمت نہیں پڑتی کہ عاشق رسولؐ کے جنازے میں جگہ پا سکوں کہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا ایک سمندر ہے ۔یہ محبت کیا شے ہے اور اللہ لوگوں کے دلوں میں کیسے
مزید پڑھیے


آہ !علامہ خادم حسین رضوی

هفته 21 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ وہ بہادر اور دلاور ہوتے ہیں جو کسی بڑے مقصد سے وابستہ ہو کر زمان و مکاں سے ورا ہو جاتے ہیں۔ جو تنی تھی ہماری گردن تھی۔ جو کٹا ہے وہ سر ہمارا ہے‘ کچھ بے بس مقام آئے ہیں جہاں تاب جواب دے جاتی ہے۔دل بھر آتا ہے اور آنکھیں چھلک اٹھتی ہیں یہ جذبوں کا معاملہ بہت عجیب ہوتا ہے۔ اس کا بیان اشکوں اور
مزید پڑھیے


رستوں پہ امیدوں کے دیے

جمعه 20 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
بات ہے جب کہ بن کہے دل کی اسے سنا کہ یوں خود ہی دھڑک دھڑک کے دل دینے لگے صدا کہ یوں میں نے کہا کہ کس طرح جیتے ہیں لوگ عشق میں اس نے چراغ تھام کے لو کو بڑھا دیا کہ یوں یہ یوں والی زمین غالب کی ہے اور اس میں شعر نکالنا یوں بھی آسان نہیں کہ ردیف کا بولنا ضروری ہے۔ یعنی یہ بامعنی ہو۔ ویسے تو قافیہ پیمائی بھی لایعنی نہیں ہونی چاہیے مگر ردیف تو باربار شعر میں آتی ہے اور اسے ہر دفعہ نئی خوشبو کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔ یہاں تو یوں کا استعمال
مزید پڑھیے


کیا کسی کو شرم آئی؟

جمعرات 19 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
محمد بخش کی داد و تحسین کے لیے بجائے جانے والے بینڈ باجوں کی آواز میں پولیس کا بوسیدہ نظام سسکیاں لے رہا ہے مگر شور اتنا ہے کہ سسکیوں کی آواز کسی کو سنائی نہیں دے رہی۔ کشمور واقعے میں اے ایس آئی محمد بخش اور ان کی بہادر بیٹی کی بہت تحسین ہوئی اوربجا طور پر انعامات سے نوازا گیا، بلاشبہ وہ اسی کے مستحق تھے مگر یہ واقعہ اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیاجن کے جوابات متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوسے لیکر آئی جی پولیس سندھ تک اور وزیر اعلی سندھ سے لیکر وزیر اعظم
مزید پڑھیے