BN

سہیل اقبال بھٹی


شناخت کا کرب؟


آج 78سال بعد مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میری انگلیوں کے نشان ختم ہونے کیساتھ میرا وجود ختم ہوگیا ہے او رمیری خدمات بھی۔ میں زندہ ہوں مگر دورجدید میں سسٹم مجھے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ میں موبائل فون سم خریدسکتا ہوں اور ناہی بینک اکاؤنٹ کھلواسکتا ہوں۔ 30سال تک سرکاری اسکول میں بطور معلم خدمات سرانجام دے کر ہزاروں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا مگر اس کے باوجود یہ سسٹم مجھے اور میرے وجود کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ غربت اور کورونا وائرس کے ہاتھوں سے مالی مشکلات سے دوچار حیدرآباد کے ریٹائرڈ ماسٹرجمیل
جمعرات 26 نومبر 2020ء

سوچ اور رویے آخر کب بدلیں گے؟

جمعرات 19 نومبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان سمیت ماضی میں ہر وزیراعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اورتاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے قائل کرنے میں مصروف رہے ہیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مالی آسودگی حاصل کرنے کے بعدسب سے بڑی تمنا وطن عزیز میں کاروبار کی خواہش ہے۔وطن کی مٹی اوراپنوں کی محبت انہیں ترقی یافتہ ممالک میں تمام ترکامیابیوں اور آسائشوں کے باوجود چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ ملک کی تقدیر سنوارنے کے بہت سے منصوبے بناتے ہیں مگر بیشتر اپنے منصوبوں پر عملدرآمد میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ 73سال گزرنے کے باوجود سرکاری افسران کا رویہ اور سسٹم تبدیل کیوں نہیں ہوسکا؟یہ
مزید پڑھیے


انوکھے لاڈلے

جمعرات 12 نومبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
جدت اور مسابقت نے دنیابھر کے اداروں اور کمپنیوں میں نئے رحجانات متعارف کروائے ہیں۔تحقیق اور مستند ڈیٹا کی بدولت ہر ادارے اور کمپنی نے بہترین ہیومن ریسورس کے بل بوتے پر کامیابیوں کے نئے ریکارڈ بنارکھے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے باعث صدیوںسے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود کوئی ادارہ یا کمپنی اپنے مسئلے کا تعین کرنے کے بعد چند دنوں میں اسکا قابل عمل حل تلاش کرلیتی ہے۔ ایسے جدت اور مسابقت کے عہدمیں عوام اورارض پاک کو دہائیوں سے درپیش چیلنجز کا حل ملنا تو درکنار
مزید پڑھیے


گورننس کی راہ میں رکاوٹ کون؟

جمعرات 05 نومبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
ُہائبرڈ وار میں دشمن کے تمام ترحملوں کے باوجود وطن عزیزکوایکسٹرنل کے بجائے انٹرنل سکیورٹی کے محاذپر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔انٹرنل سکیورٹی کے عوامل میں گورننس ایک اہم ترین جزو ہے مگر بدقسمتی سے ہرگذرتے دن کیساتھ بیڈ گورننس کی نت نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔بیڈ گورننس کا یہ لاواخوفناک نتائج کا باعث بنتا ہے۔گہر ی کھائی میں گرنے سے بچنے کیلئے سب کو اپنا اپنا کام تندہی سے کرنا ہوگا۔ کانفرنس ہال میں پن ڈراپ سائلنس طاری تھی۔ سیمینارمیں سکیورٹی امور کی ممتاز شخصیت کے لیکچر کے دوران میرے ذہن کو حالیہ بحرانوں اور حکومتی اقدامات نے جکڑ
مزید پڑھیے


پکچر ابھی باقی ہے

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان نے4نومبر 2019کو ببانگ دہل اعلان کیا تھاکہ حکومت پاکستان کی کوششوں اور ترک صدر کی کمال مہربانی سے کارکے رینٹل پاور پلانٹ کمپنی کیساتھ عالمی ثالثی عدالت میں جاری تنازع افہام وتفہیم سے حل کرلیا گیاہے۔ اب پاکستان کو1ارب 20کروڑ ڈالر جرمانہ ادا نہیں کرناپڑے گا۔قرضوں کے بوجھ تلے دبے وطن عزیز کیلئے یقینا اچھی خبر تھی۔ تاہم نیب اور پاکستانی کی خفیہ ایجنسی نے کارکے کمپنی کی جانب سے پاکستانی حکام کو دی جانے والی رشوت کے ثبوت حاصل کرلئے تھے جس کے باعث کارکے کمپنی کو لینے کے دینے پڑنے والے تھے ۔ کارکے
مزید پڑھیے



سادگی صرف دعوؤں تک ؟

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
بلاامتیاز کڑا احتسابـ‘میرٹ‘ـشفافیت اورکفایت شعاری کو پروان چڑھانے کے لئے اگست 2018ء سے انقلابی کاوشوں کا آغا ز ہوا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ میرٹ ‘ـشفافیت اور کفایت شعاری کی پاسداری کے سواکوئی اور آپشن نہیں‘تاکہ وطن عزیر کو معاشی دلدل سے نکال کر نئے پاکستان کے خواب کو عملی تعبیر دی جاسکے۔ نیب نے سیاستدانوں‘بیوروکریٹس اور صنعتکاروں کے گرد شکنجہ کستے ہوئے تحقیقات اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ حکومت نے سرکاری دفاترمیںمرغن کھانوں کے بجائے چائے بسکٹ اور وزیراعظم آفس کے لان میں اربوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا عمل شروع کرکے کفایت
مزید پڑھیے


ہنوز تبدیلی دور است؟

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خا ن نے حکومت کو درپیش چیلنجز اور عوامی مشکلات حل کرنے کیلئے ماہر افراد پر مشتمل کئی کمیٹیاں اور ٹاسک فورس قائم کیں‘جنہیںحالیہ بحرانوں سے نمٹنے کیساتھ آئندہ 10برس تک پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹیوں اور ٹاسک فورسز کے کئی اجلاس منعقد ہوچکے مگرعوام کی مشکلات اور حکومت کودرپیش چیلنجز ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ٹاسک فورس میں شامل ہونے والے افراد‘ وزیراعظم اور قوم کی امنگوں پر تاحال پورا نہیں اترے، مگر اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز ہونے میں ضرور کامیاب ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم نے مستقبل میں گندم بحران سے نمٹنے
مزید پڑھیے


سماجی تبدیلی آخر کب؟

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
دکھ ‘ کرب اور اضطراب میں مبتلا عوام کی نگاہیںٹی وی سکرینوں پر جمی ہیں ۔ جانے کب نیوزچینلز پر بریکنگ چلنے لگے کہ دن دیہاڑے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بذریعہ کھیت فرار ہونے والا درندہ صفت عابدملہی بالآخر گرفتار کرلیاگیا ہے۔نیوز چینلز کے محنتی اورجفاکش رپورٹر روزانہ فالو اپ فائل کررہے ہیں مگر ہر روز ہیڈلائن میں یہی خبر چلتی ہے کہ اتنے دن گزرگئے درندہ صفت عابدملہی گرفتار نہ کیا جاسکا۔لاہور کے اس دلخراش واقعے کے بعد ملک کے دیگر علاقوں میں انسانی شکل میں گھومتے بھیڑیوں کے جنسی واقعات ‘ پولیس کی
مزید پڑھیے


حل نکالو ؟

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قانون وانصاف کی پاسداری اوراصلاحاتی ایجنڈے کے باعث اقتدار کی مسند پر براجمان ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کیلئے ٹاسک فورس قائم کیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم ہونیوالی اصلاحاتی کمیٹی کا کردار سول سروس ریفارمز اور کھربوں روپے خسارے سے دوچار کمپنیوں میں اصلاحات کے باعث سب سے اہم ٹھہرا۔ ڈاکٹر عشرت حسین 2006سے مسلسل سول سروس ریفارمز کیلئے کوشاں ہیں مگر یہ ریفارمز اتنی پیچیدہ ثابت ہوئی ہیں کہ دلکش پریزنٹیشن سے آگے معاملہ بڑھنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ ضرور ہے کہ وفاقی وزیر علی
مزید پڑھیے


یہ معاملہ کوئی اور ہے

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
سہیل اقبال بھٹی
ملکی وعوامی مفاد کے تحفظ اور لوٹی گئی قومی دولت کی وصولی کے لیے برسرپیکاروفاقی حکومت کڑے امتحان سے دوچار ہے۔ عوامی مفاد اورلوٹی گئی دولت کی وصولی کیلئے ہرلمحہ غیرمتزلزل عزم کا اظہار کرنے والے پانچ دس نہیں پورے 517ارب روپے وصول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔اربوں روپے ڈوبنے کا بیانیہ اختیار کرکے 208ارب روپے معاف کروانے والی حکومتی ٹیم میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔پہلے میڈیا اور اپوزیشن نے قومی خزانہ پر ڈاکہ ڈالنے والا ہاتھ روکا تو اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی اورمثالی فیصلہ دے کر تمام ’رنگ بازوں‘ کے عزائم خاک
مزید پڑھیے