BN

سہیل اقبال بھٹی


اپنی پارٹی ہے


پاک سیکرٹریٹ کے اے بلاک کی نیم روشن راہ داری سے گزرتے ہوئے میں تھرڈ فلو ر پر پہنچ چکاتھا۔ ملک کے دیگر شہروں کیساتھ وفاقی دارالحکومت بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی زد میں تھا۔ طے شدہ ٹائم کے مطابق میں صوفے پر براجمان تھا۔ وفاقی سیکرٹری اور دیگر افسران کیساتھ انکی مختلف امور پر مشاور ت جاری تھی۔ اچانک بجلی آئی اور کمرے میں پہلے سے آن ٹی وی پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا بیان نیوز ہیڈ لائن کی زینت تھا۔ حسب معمول صدرمملکت آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن اور
جمعرات 08 اپریل 2021ء

سپر اوور؟

جمعرات 01 اپریل 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
3مارچ کو سینیٹ الیکشن میں حکومتی امیدوارحفیظ شیخ کی شکست اور اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضاگیلانی کے فتح نے اقتدارکے ایوانوں میں بھونچال برپاکررکھا ہے۔وزیراعظم نے ’ڈواورڈائی‘کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ کابینہ ارکان ہوں یا افسر شاہی سبھی کو قبلہ درست کرنے کیلئے آخری وارننگ دی جاچکی۔ اب ٹال مٹو ل اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کاحربہ کارگر نہیں ہوگا ۔ وزیراعظم کو ادراک ہوچکا وقت کم اور مقابلہ انتہائی سخت ہے۔وزیراعظم نے قوم کیساتھ کئے وعدوں کی پاسداری کیلئے فائنل راؤنڈ کاآغازکر دیاہے‘کرکٹ کی اصطلاح میں اسے سپر اوور بھی کہہ سکتے ہیں تاہم کامیابی کا واحد حل یہی
مزید پڑھیے


ٹریک پر واپسی؟

جمعرات 25 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
وزیراعظم عمران خان کا قانون کی پاسداری ‘مافیا کی سرکوبی ‘طاقتوراور غریب کے ساتھ یکساں سلوک کا مشن تو ویسے اڑھائی دہائیوں پر محیط ہے مگرقدرت نے اس مشن کو عملی جامہ پہنانے کا موقع2018میں عنایت کیا۔شاید ہی کوئی دن ہوجب وزیراعظم نے اپنے اس مشن پر کاربند رہنے سے متعلق احساس نہ دلا یا ہو ۔ یہی وجہ تھی عوام نے عمران خان کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کیلئے ہرممکن مدد کی۔ 26جنوری کو وزارت صحت کی سمری پر وفاقی کابینہ نے نجی کمپنیوں کو کورونا ویکسین کی من پسند قیمت مقرر کرنے کی منظوری دی۔ وزارت صحت نے کابینہ
مزید پڑھیے


افسر شاہی کا قبلہ؟

جمعرات 18 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
ہلکی بوندا باری سے موسم خوشگوار تھا۔ٹریل فائیو سے مارگلہ ہلز کا نظارہ مسحور کن تھا۔ میں بڑے بڑے قدم بھرتا محو واک تھا کہ ایک باریش شخص نے مجھے نام سے پکارا اور کہنے لگے’مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنی جان لے لوں گا‘۔میں اس نا گہانی کیفیت سے گھبرا گیا‘تاہم قریب ہی لکڑی کے بینچ پر انہیں بٹھایا۔ پانی کی بند بوتل اتفاقاً میرے پاس تھی انہیں پینے کو دی پھر ماجرا پوچھا؟ معلوم ہوا کہ ایک بڑے بیوروکریٹ نے ان کے پلاٹ پر قبضہ کر رکھا ہے‘ جعلی کاغذات بھی بنوا لئے ہیں۔تمام ثبوتوں کے باوجود
مزید پڑھیے


ابھی وقت نہیں؟

جمعرات 11 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
بلند وبانگ دعوؤں ‘جوڑ توڑاورسٹنگ ویڈیوآپریشن کے بعد بالآخر3مارچ کو سینیٹ الیکشن منعقد ہوا۔ پی ڈی ایم کے امیدواریوسف رضا گیلانی نے میدان ما ر کر مسند اقتدار کو ہلا کررکھ دیا۔6مارچ کواعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد بظاہر بھونچال تھم چکا مگر پالیسی اور فیصلہ سازی میں بدستور لرزہ طاری ہے۔حکمران جماعت اگرچہ افسرشاہی پہ ہے مگرروایتی نا اہلی اورسیاسی افق پر چھائی دھند نے قومی منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان ریلوے کاسی پیک کے تحت6ارب80کروڑ ڈالر کا ایم ایل ون منصوبہ پاکستان کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے ۔ 5اگست2020کو ایکنک کی جانب سے
مزید پڑھیے



قومی اثاثوں کا دکھ

جمعرات 04 مارچ 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
مشہورچینی کہاوت ہے ’آپ گھر کی چیزیں بیچ کر‘ گھر کے حالات ٹھیک نہیں کر سکتے، یہ کہاوت ہے تو اُن دنوں کی ہے جب پورا چین نشے کی لت کا شکار تھا اور لوگ روز مرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے گھر کی چیزیں بیچ رہے تھے۔ تاہم اس کہاوت کی یاد اِن دنوں آئی جب بر سراقتدار حکومت بنا نشے کے گھر کی چیزیں بیچنے کا سوچ چکی ہے۔ آپ درست سمجھے میرا اشارہ ’روز ویلـٹ ‘ہوٹل ہی ہے۔اِس قومی اثاثے کا دکھ سنانے سے قبل صاحب اختیارعمران خان صاحب سے اپیل کروں گا اس حوالے سے
مزید پڑھیے


نیا زمانہ

جمعرات 25 فروری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
ماسکو کاپچاس سال پرانا خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کی مرکزی شاہراہ کے کنارے پرسائن بورڈ نصب کیا گیا ہے ،جس پر انگریزی ‘ریشین اور فارسی زبان میں درج ہے کہ یہاں سے ماسکو چار ہزار سات سو اٹھانوے کلومیٹر دور ہے۔ خاکسار نے 26 نومبر 2016 کوصحافتی کیرئیر کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ،ایکٹی وی پر بڑی سٹوری بریک کی تھی۔سولہ دن کی شبانہ روزانتھک محنت‘ مختلف اداروں اور وزارتوں سے تصدیق اور موقف حاصل کیا۔خبر کے مطابق 14سال بعد روسی انٹیلی جنس فیڈرل سیکورٹی سروسز سابق’ کے جی بی ‘ کے چیف
مزید پڑھیے


دھوبی پٹکا

جمعرات 18 فروری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
سینیٹ الیکشن کی بدولت شہر اقتدار میں سیاسی گہماگہمی اور ممکنہ نتائج کی چہ میگوئیاں عروج پر ہیں۔اپوزیشن جماعتیں سینیٹ الیکشن میں حکومت کو دھوبی پٹکا لگا کر دھڑن تختہ کرنے کیلئے بیتاب ہیں تو حکومتی ارکان وزیراعظم کی طے شدہ حکمت عملی کے ذریعے اپوزیشن کو چاروں شانے چت کرنے کے درپے۔مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے ملک بھر میں سیاستدانوں سمیت بااثر افراد اور بزنس مین دن رات متحرک ہیں مگر ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا خوف سبھی پرطاری ہے۔اہم حکومتی شخصیت کی جانب سے ریلیز کی گئی، ویڈیو کے بعدخریدوفروخت کے ماہرین یقینافول پروف انتظامات کرچکے ہوں گے
مزید پڑھیے


ذرا سنبھل کے

جمعرات 11 فروری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
2018ء میں سینیٹ الیکشن کے دوران ’’ضمیرفروشی ‘‘کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا ہے۔2منٹ گیارہ سیکنڈ زدورانئے پر مشتمل ویڈیو میں عوامی نمائندوں کے سامنے نوٹوں کا ڈھیر لگا ہواہے۔بھاؤ طے ہونے کے بعد نوٹ بیگ میں ڈالنے کے مناظر بھی ویڈیوکلپ میں دکھائے گئے ہیں۔ضمیر فروشی کی یہ واردات بروز منگل وفاقی کابینہ کے سامنے بھی تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی۔ وزیراعظم نے نوٹوں کی چمک کے سامنے ضمیرفروشی کی واردات میں ملوث ہونے پر صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم صادر فرمادیا۔اسی ضمیر فروشی کے تدارک کیلئے وزیراعظم نے شوآف ہینڈز
مزید پڑھیے


مٹی پاؤ

جمعرات 28 جنوری 2021ء
سہیل اقبال بھٹی
میڈیا اور عوامی شعور کے باعث رفتہ رفتہ جواب دہی کا رحجان بڑھا تو عوام‘حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین تلخیاں عروج پرپہنچیں۔اختلافات نے ایسی شدت اختیا رکی کہ کئی جمہوری حکومتیں آئینی مدت پوری کئے بغیرہی رخصت کردی گئیں۔ انہی تلخ سیاسی لمحات اور کھینچاتانی کے دوران سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے ایک دن ’مٹی پاؤ‘کا نعرہ لگادیا جس کا مقصد سیاسی اختلافات اوررنجشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔اسی حکمت عملی کے تحت نیب کے دوغیرملکیوں کمپنیوں براڈشیٹ اور انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری لمیٹڈ کیساتھ معاہدے پر قومی مفاد اور وقار پر سمجھوتا کرتے ہوئے
مزید پڑھیے