BN

سہیل دانش


ہم معاشرتی بحران کا شکار ہو گئے


اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلا کے دھاوے کو ان کا اضطراب کہیں گے یا پھر قومی اسمبلی میں ہونے والی دھینگا مشتی میں جس طرح عوام کے منتخب نمائندے آتش فشاں کی طرح پھٹے اورلاوے کی طرح بہتے چلے گئے اسے کیا کہیں گے ا۔نصاف کرنے والے فورم اور قانون سازی کرنے والے ایوان میں جو کچھ ہوا اس سے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس قدر عدم برداشت کا شکار ہو گیاہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی قانون دان تھے اور ان کا ذر یعہ معاش بھی وکالت تھا لیکن اسلام
جمعه 12 فروری 2021ء

لیری کنگ لایئو۔ایک عہد تمام ہوا

جمعه 05 فروری 2021ء
سہیل دانش

وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تو لمبی لمبی سانسیں لینے لگتا تھا، دنیا بھر کے حالات اسے دکھی کر دیتے تھے اور اسکی آنکھوں میں شکوے جمع ہوتے رہتے تھے۔ جنگوں میں زندگی کی ارزانی اور کم وسائل والے لوگوں کی بے قدری دیکھ کر وہ سوچتا تھا کہ یہ تو کوئی انصاف نہیں ہے۔ اس کا دل اور ذہن تلخ ہو جاتے اور وہ خود سے سوال کرنے لگ جاتا ۔ وہ کوئی ذہین شخص تھا لیکن سوچتا بہت تھا، وہ کتابوں پر سر پٹخ پٹخ کر زچ ہو جاتا پھر اس نے سوچا کہ آخر بڑے لوگ بھی
مزید پڑھیے


جوبائیڈن۔امریکی صدر کیا کر سکتا ہے؟

جمعه 22 جنوری 2021ء
سہیل دانش
اگر کوئی پوچھے کہ امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن کی سب سے نمایاں خوبی کیا ہے تو میں بلاتردد کہوں گا کہ وہ جو بھی ہے، جہاں بھی ہے، ان کے لب و لہجے اور عمل میں شائستگی‘بردباری اور محبت جھلکتی ہے۔ سابق صدر بارک اوباما کی طرح نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ہم اس بات کا جائزہ آگے چل کر لیتے ہیں کہ 3نومبر 2020ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی جیت اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کے بنیادی محرکات اور عوامل کیا تھے، دیکھتے ہیں وہائٹ ہائوس کا مکین کیا کر سکتا ہے، وہ
مزید پڑھیے


نصیر ترابی ۔ وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی

جمعه 15 جنوری 2021ء
سہیل دانش
مٹی کے انسان نے با لآخر مٹی ہونا ہوتا ہے۔ 15جون 1945کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہونے والے نصیر ترابی 10جنوری 2021کو کراچی میں ہم سے جدا ہو گئے۔ خانوادہ علامہ رشید ترابی کے چشم و چراغ اردو کے درخشاں ستارے اور نئی نسل کے نمائندے شاعر اب ہم میں نہیں رہے۔ نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل غزل بھی وہ جو کسی اور کو ابھی سنائی نہ تھی نصیر ترابی کے لئے اعزاز کی پہلی سند ہی یہ تھی
مزید پڑھیے


بھٹو نہیں رہے لیکن ان کا دورابھی تک جاری ہے

جمعه 08 جنوری 2021ء
سہیل دانش
5جنوری کو ذوالفقار علی بھٹو کی 93یوم پیدائش ہے اور میرے سامنے اس خط کے اقتباسات رکھے ہوئے ہیں جس میں وہ اپنی بیٹی اور سیاسی وارث بے نظیر بھٹو سے مخاطب ہیں’’ تمہارے دادا نے مجھے فخر کی سیاست سکھائی اور تمہاری دادی نے غربت کی سیاست کا سبق دیا ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ صرف عوام پر یقین رکھو ، ان کی نجات اور مساوات کے لئے کام کرو۔ تم بڑی نہیں ہو سکتیں، جب تک تم زمین کو چومنے کے لے تیار نہ ہو ۔ تم زمین کا دفاع نہیں کر سکتیں جب تک تم
مزید پڑھیے



سیاست کے بدلتے رنگ

جمعه 01 جنوری 2021ء
سہیل دانش
مریم نواز گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتا رہی تھیں کہ جدہ کے سرور پیلس میں وہ ملاقات بڑی یاد گار تھی، جب ہم وہاں اپنے والد کے ساتھ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ بے نظیر بھٹو بھی ان دنوں دبئی میں اپنے بچوںکے ساتھ رہ رہی تھیں۔ ان کے شوہر آصف علی زرداری رہاہوئے تو بے نظیر عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب آئی تھیں اور نواز شریف سے ان کی ملاقات شیڈول تھی ۔ دراصل وہ نواز شریف سے ان کے والد میاں
مزید پڑھیے


بے نظیر بھٹو۔کچھ یادیں، کچھ باتیں۔

جمعه 25 دسمبر 2020ء
سہیل دانش
محترمہ بے نظیر بھٹوصاحبہ بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ یہ وہ دور ہے جب میں کراچی گرامر اسکول میں پڑھتی تھی، میرے والدزیادہ تر گھر پرنہیں ہوتے تھے اور والدہ ہم سب بہن بھائیوں کا خیال رکھتی تھیں۔ مجھے اپنے گھر کی چھت سے سمندر صاف نظر آتاتھا، رات گئے جب ہر طرف خاموشی ہوتی تھی تو سمندری لہروں کی آوازیں بڑی پر اسرار لگتی تھیں۔ والد صاحب جب گھر پر ہوتے تو ہم بچوں کوبہت وقت دیا کرتے تھے۔ وہ ایک دھیمے انسان، محبت اور شفقت کرنے والے باپ تھے۔ میں ان کی بہت لاڈلی
مزید پڑھیے


کچھ کرکے دکھائیں۔تاریخ کا سبق یاد رکھیں

جمعه 18 دسمبر 2020ء
سہیل دانش
ملکی سیاست کا بھی عجب رنگ ہے، یہ کروٹیں بدل رہی ہیں ۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہماری قوم سیاسی منزل پر پہنچنے کی کوشش میں کئی سانحوں کا شکار ہو چکی ہے۔ دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو ہمیں سقوط ڈھاکہ کی تلخ یادیں بے چین کر دیتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ جغرافیائی نقطہ نگاہ سے مغربی اور مشرقی پاکستان کا اتحاد غیر فطری معلوم ہوتا تھا لیکن یہ تو مذہب ہی تھا جس نے دونوں حصوں کے مسلمانوں کو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ایک لڑی میں پروئے رکھا ۔ مشرقی بنگال میں مسلم قومیت
مزید پڑھیے


بڑے لوگوں کے روٹھنے کا موسم لگتا ہے

جمعه 11 دسمبر 2020ء
سہیل دانش
یہ تو بڑے لوگوں کے روٹھنے کا موسم لگتا ہے، کیا کیا با کمال اور پیارے لوگ ہمارے درمیان سے اٹھ گئے ہیں، جو اپنے اپنے حوالے سے خیر ، محبت ،علم اور زندگی کے حسن کے نمائندے کہلانے کے مستحق تھے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بڑے لوگ اس دنیا میں پیدا ہوتے رہینگے۔ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی ایک دھیمے اور سائستہ انسان تھے، سردار شیر باز مزاری جن کی زندگی وطن عزیز کے ساتھ غیر مشروط محبت کے ساتھ ساتھ اخلاق رواداری اور شرافت کا مجموعہ تھی۔ ڈاکٹر غلام علی الانہ علم و
مزید پڑھیے


اوبامہ کی کتاب

جمعه 04 دسمبر 2020ء
سہیل دانش
ماضی میںنائب صدر جو بائنڈن نے بارک اوبامہ کو مشورہ دیا تھاکہ اسامہ بن لادن پر حملہ کرنے سے قبل ہمیں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ضرورت اعتماد میں لینا چاہیئے ورنہ ہمارا یہ اقدام پاکستان کی خود مختاری اور سا لمیت پر منفی اثرات مرتب کریگا اور اس سے پاکستان میں امریکہ کے لئے شدید منفی جذبات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اپنی کتاب A Promissed Landمیں بارک اوبامہ لکھتے ہیں کہ ان کے لئے یہ بات حیران کن تھی کہ جب انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے
مزید پڑھیے