BN

سہیل دانش


وزیر اعظم دل بڑا کریں


گلگت بلتستان کے انتخابات میں تمام بڑی جماعتیں کی ساکھ دائو پر لگی ہوئی تھی اور بلاول بھٹو اور مریم نواز کے بڑے بڑے جلسوںنے ان کی پارٹیوں کے لئے امید کے چراغ ضرور جلائے تھے لیکن تمام تگ و دو کے با وجود وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے کہ فتح کا قرعہ اسلام آباد کے ایوان اقتدار میں موجود جماعت پی ٹی آئی کے نام نکلا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اسلام آباد کی حکمران جماعت کی حیثیت کی روایت ہمیشہ قائم رہی ۔ یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات ملکی سیاسی منظر نامے
جمعه 20 نومبر 2020ء

عوام کی حمایت ہی فیصلہ کرے گی۔

جمعه 13 نومبر 2020ء
سہیل دانش
گلگت بلتستان کے انتخابات کی دھوم ہے۔ تمام فریق ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ’’میں ‘‘ کے بخار میں مبتلا ہو کر نہ صرف خود کو نجات دہندہ بتا رہے ہیں بلکہ پھنے خانی بھی دکھا رہے ہیں۔ سینہ چوڑا کرکے اپنے کارنامے گنوا رہے ہیں اور پہاڑوں کے بیچ اور خوبصورت مناظر سے مالا مال علاقوں میں رہنے والوں ، لیکن غربت کی دلدل میں غوطے کھاتے لوگوں کو مستقبل کے سہانے خواب دکھا رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ انتظامی سیاسی اور معاشی اصلاحات مقامی آبادی کی امنگوں کی عکاس ہے لیکن جوش خطابت میں ایسی
مزید پڑھیے


آیئے سوچیں، کہیں دیر نہ ہو جائے

هفته 07 نومبر 2020ء
سہیل دانش
موجودہ صورت حال میں سیاسی ماحول میں دن بہ دن تلخی برھتی جا رہی ہے۔ حکومت اور حزب مخالف سیاسی حریفوں کے بجائے دشمنوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ بیانات اور الزامات کا شور ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے اور ہر اعتبار سے کشیدگی اور محاذ آرائی کا شور زوروں پر رہا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی کا شور ہے،جس نے غریب اور متوسط طبقے کے مصائب ، پریشانیوں اور محرومیوں میں نا قابل برداشت حد تک اضافہ کر دیاہے۔ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے جا رحانہ سیاسی مقاصد کو ایسی منزل کی
مزید پڑھیے


وہ مسیحا کب آئے گا

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
پی ڈی ایم کی تحریک جوںجوںآگے بڑھ رہی ہے، حکومت اور حزب مخالف میں ٹکرائو اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہاہے۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار اور اس کے بیان کی خوبصورتی اور سائستگی دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم سچ مچ کسی سیاسی اور معاشی بحران سے ذیادہ اخلاقی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ آپ غور فرمائیں ہم گذشتہ نصف صدی میں پنسل کاغذ سے نکل کر کمپیوٹر ، سیٹلائٹ اور اسمارٹ فون کے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور ہم نے اس عرصے میں دنیا کو سکڑتے اور سمیٹتے دیکھا ہے۔ ہماری مایوسیاں
مزید پڑھیے


مشکل وقت دستک دے رہا ہے

جمعه 23 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
ہماری تہتر سالہ تاریخ ملک و قوم کو ایسے مقام پر لے آئی ہے،جہاں اب مزید دیر کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ بات اب تنقید اور تو تکار سے آگے نکل کر غداری کے الزامات لگانے تک پہنچ چکی ہے۔ تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والی شخصیت اور ملک کی چھوٹی اور بڑی جماعتوں کی اکثریت جس طرح کا بیانیہ لیکر سامنے آ گئی ہیں وہ درپیش خطرات کا واضح اشارہ ہے۔ جب وزیر اعظم ٹھوری پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن کو وارننگ دے رہے ہوں، جب وزراء روز باری باری اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہوں
مزید پڑھیے



فیصلہ کن مرحلہ ۔ ہم کہاں کھڑے ہیں

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
وہ مرحلہ آن پہنچا ہے ، میدان سجنے والا ہے اور لہو گرمانے والے اکھاڑے تیار کھڑے ہیں ۔ دونوں طرف سے بلند بانگ دعوئوں اور وعدوں کا شور ہے ۔دونوں طرف سے بے رحمانہ الزامات کی بوچھاڑ ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی زور آزمائی ہے۔ لگتا ہے حکومت اپوزیشن کی تحریک کو کچلنے کیلئے بڑے کریک ڈائون اور طاقت کا استعمال نہ کرنے کا آپشن استعمال کر رہی ہے۔ آ ل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر احتجاجی اور جارحانہ انداز اختیار کرنے کا واضح اشارہ تھا ۔ اس کے جواب میں حکومتی وزراء اور
مزید پڑھیے


خدارا اپنا رویہ بدلیں

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
مجھے لگتا ہے جیسے ہم سب جھوٹ کے بیوپاری ہیں ۔ یقین کریں میں غصے ، بے چارگی اور بے بسی سے عام لوگوں کی یہ باتیں اور چہ مگوئیاں سنتا رہتا ہوں کہ میڈیا نہ جانے کیوں سچ چھپانے کی کوشش کرتا ہے، جھوٹ چھاپتا رہتا ہے ، جھوٹ بولتا رہتا ہے، سچ کو آف دی ریکارڈ کہہ کر چھپاتا ہے اور جھوٹ کو آن دی ریکارڈ کر دیتا ہے۔ یہ عام سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ سب ہمیں اندھا اور بہرہ سمجھتے ہیں ۔ در حقیقت تحقیق و تصدیق اور موزوں الفاظ سے کیا جانے والے تجزیوں
مزید پڑھیے


ہم بحران کی زد میں ہیں

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
سہیل دانش
آخر سوچیں تو سہی کہ کوئی ایسا ادارہ نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ کوئی ایسا شخص نہیں جس کی بات اندھیرے میں کرن کی طرح چمکے ۔کوئی ایسا لیڈر نہیں جس سے ہاتھ ملا کر اطمینان اور سرور کی لہریں وجود میں دوڑتی محسوس ہوں۔ یہ کیا ہوا یہ زمین اتنی بانجھ کیوں ہو گئی؟ اچھے، اعلیٰ ظرف اور ذہین لوگ اچانک ختم کیوں ہو گئے ؟ ذرا اندازہ کیجئے کہ ہم کتنے بد قسمت قوم ہیں کہ وقت کے اس تنہا، اداس اور ویران سفر میں ہمارے لئے کوئی ایسا لیڈر نہیں جو اس ہجوم کو قوم
مزید پڑھیے


تاریخ صرف آپکے کارنامے دیکھتی ہے

جمعه 25  ستمبر 2020ء
سہیل دانش
مشاہدہ تو یہی کہتا ہے کہ ہر نئے حکمران کے لئے پرانے حکمران چور ،ڈاکو، ٹھگ اور کرپٹ ہوتے ہیں ۔ کبھی کسی نے اپنے سے پہلے حکمران کے لئے تعریف کے دو بول نہیں بولے۔ یہاں قائد اعظم ؒ تھے بات انگریزی میں کرتے اور سننے والے اردو تک سے نا بلد تھے لیکن ایک ایک شخص اٹھ کر گواہی دیتا یہ شخص جو کچھ کہہ رہا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ لیاقت علی خان تھے جب شہید ہوئے تو جیب میں چند روپے اور اچکن کے نیچے پھٹی ہوئی بنیان تھی ۔ غلام محمد
مزید پڑھیے


ایسا مجرم کسی رحم کا مستحق نہیں !

جمعه 18  ستمبر 2020ء
سہیل دانش
کتنے دکھ کی بات ہے کہ اس قوم کو پوری گھن گرج سے نئے پاکستان میں لے جانے کا خواب دکھانے والے حکمران اس سنگین بحران کی آہٹ تک نہیں سن رہے ۔ جو ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونیوالی ذیادتی پر ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور حکومت گہری نیند سے ہڑ بڑا کر بیدار ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بھی ہمارے معاشرے میں ہونے والے پے در پے روح فرسا اور دردناک واقعات کا ایک تسلسل ہے اور اس کے بعد ہم نہ جانے کس دروازے پر پہنچ گئے
مزید پڑھیے