BN

شازیہ ذیشان


آخر دنیا کب تک سوتی رہے گی؟


پاکستان نے بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ناقابل ِتردید ثبوت پیش کر کے ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ اور سفاک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ اب ،یہ عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کے مذموم مقاصد کانوٹس لے ؛آخر دنیا کب تک سوتی رہے گی؟ بھارتی ریاستی دہشتگردی کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بجا کہا کہ بھارت کی ایسی مذموم کارروائیوں کے بارے میں مزید خاموش رہنا، خطے اور خاص طور پرپاکستان کے مفاد میں نہیں۔ وزیرخارجہ
بدھ 18 نومبر 2020ء

واہ رے حکومت، کیا کہنے تیرے!

بدھ 11 نومبر 2020ء
شازیہ ذیشان
میں حیران ہوں کہ یہ کیسی حکومت ہے؟ اور کیسی اپوزیشن(حزبِ اختلاف) ہے؟ ہمیں عالمگیر موذی وبا کورونا وائرس سے متعلق شروع دن سے لمبے لمبے بھاشن دئیے جا رہے ہیں؛ ایس او پیز کی باتیں کی جا رہی ہیں؛ماسک نہ پہننے اورایس اوپیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں والوں کو جرمانے کرنے کی بھی باتیں کی جا رہی ہیں؛ دوسری طرف سیکڑوں سکولوں کو جن میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے، کی بندش کی جا رہی ہے؛معاشی و کاروباری سرگرمیوں کی بندش بھی جاری ہے؛ لوگوں کو ایک مرتبہ پھر گھروں میں محصور کرنے کے منصوبے
مزید پڑھیے


حقیقت تو کچھ اور ہے

بدھ 04 نومبر 2020ء
شازیہ ذیشان
امریکا کا اگلا صدر کون ہو گا؟اس کا فیصلہ تو امریکی عوام آج کریں گے۔امریکی صدارتی انتخابات کی روایت کے مطابق، ویسے تو دوسرے دن تک جیتنے والے کا اعلان ہو جاتا ہے، لیکن اس بار صورت ِ حال کچھ مختلف اس لحاظ سے ہے کہ کووِڈ 19 کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے اس بار لوگوں نے بہت ووٹنگ کی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار ووٹوں کی گنتی میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا کی نظریں امریکی صدارتی الیکشن پر لگی ہوتی ہیں۔ مجھے 2016 کے امریکی صدارتی الیکشن امریکا
مزید پڑھیے


منہ پر ہاتھ جوپھیرا ہے!

بدھ 28 اکتوبر 2020ء
شازیہ ذیشان
لگتا ہے حکومت نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ارادہ تو پکا لگتا ہے۔ایک تو وزیر اعظم عمران خان نے کنونشن سنٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ’’ نواز شریف واپس آئو، میں تمھیں دیکھتا ہوں‘‘۔ پھر ایک انٹرویو میں بھی کہہ چکے کہ ’’مجھے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے بھی بات کرنی پڑی تو کروں گا‘‘۔کیا یہ رویہ درست ہے؟ کیا آپ اسے ذاتی لڑائی سمجھ رہے ہیں؟ تو یقیناً وزیر اعظم عمران خان کے لب و لہجے سے یہی محسوس
مزید پڑھیے


نہ تیرا ہے، نہ میرا ہے

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
شازیہ ذیشان
یہ میرا ہے، یہ تیرا ہے۔ مجھے یہ بھی چاہیے، مجھے وہ بھی چاہیے۔ مجھے دنیا کی ہر آسائش چاہیے، مجھے اپنی ہر خواہش چاہیے۔کاش! ایسا ہو جائے۔ کاش! ویسا ہو جائے! کاش! میں اس دنیا پر راج کر سکوں! جی ہاں! یہ انسانی فطرت ہے، لیکن کبھی کسی نے یہ سوچا کہ اس دنیا میں سب کچھ حاصل کر لینے کے بعد بھی ہمارا کچھ بھی نہیں ہوتا؛ سب کچھ اس فانی دنیا میں رہ جاتا ہے۔اس دنیا میں ہماری زندگی ایک ٹرین کی مانند ہے؛ جیسے ٹرین میں کوئی مسافر سوار ہوتا ہے، تو کوئی اپنا پلیٹ فارم
مزید پڑھیے



ضد اور انا کا دریا سب بہا لے جائے گا

بدھ 07 اکتوبر 2020ء
شازیہ ذیشان
دنیا میں کئی ضدی اور انا پرست حکمران گزرے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ان حکمرانوںکی ضد اور انا ہی ان کی حکمرانی کے خاتمے کا سبب بنی ؛اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ ضد اور انادونوں میں انسان کا نقصان ہے، تو غلط نہ ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ عقل دلیل مانگتی ہے، جبکہ ضد اور انا دونوںاندھی پیروی چاہتے ہیں، چاہے یہ پیروی نفس کی ہو یا کسی شخص کی ہو ، یہ پیروی بغیر کسی دلیل کے ہوتی ہے، یعنی ضد اور انا ایسی بیماریوں کے نام ہیں، جو
مزید پڑھیے


ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور

بدھ 30  ستمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
ہفتہ رفتہ جب آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) کا اعلان ہواتو یقین کریں مجھے بالکل کوئی حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ اس سے پہلے بھی اپوزیشن کی اے پی سی ، نشتند، گفتند، برخاستندکے سوا کچھ نہیں تھی اور رہی بات اپوزیشن کے نئے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کی، تو اس کا بھی کچھ ایسا ہی انجام ہوتا نظر آتا ہے، جیسا کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا ہوا۔سیاسی مبصرین کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ حالیہ اپوزیشن اتحاد بھی حکومت کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں بن سکتا، تاہم اگر
مزید پڑھیے


نفسیاتی اپاہج پن

بدھ 23  ستمبر 2020ء
شازیہ ذیشان
10 ستمبر کو جب 92 نیوز کے پروگرام’’ نائٹ ایڈیشن ‘‘کی ریکارڈنگ کے لیے دفتر آ رہی تھی تو گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک ہی خیال بار بار آ رہا تھا کہ ابھی ابھی جو نیوز بلیٹن سنا اور تمام ٹی وی چینلز پر گزشتہ رات لاہور موٹر وے پہ رونما ہونے والے سانحے پر اپنے پروگرام میں کیا بات کروں اور پروگرام کا آغاز کن الفاظ میں کروں؟ کیونکہ بطور خاتون شاید میرے اندر فیمینیزم کی تحریک بھی ابھر رہی تھی۔میرے ذہن میں ایک ہی جملہ بار بار دستک دے رہا تھا کہ بنت ِ حواآج
مزید پڑھیے