BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


صرف سینٹ ہی


ووٹوں کی خرید وفروخت کا دھندا ، سینٹ کا ممبر بننے کے لیے صوبائی اسمبلی کے ووٹوں کی خرید وفروخت تک محدود نہیں، یہ مکروہ کاروبار نچلی ترین سطح سے شروع ہوکر سب سے بلند چوٹی تک جا پہنچتا ہے، گو یہ دھندا ہمیشہ سے نہیں تھا اور ہمیشہ نہیں رہے گا۔ 1988ء سے پہلے ممبران کا پارٹی بدل لینا یا حریف پارٹی کے لیے ووٹ دینا عموماً ذاتی تعلقات ، اثر ورسوخ ، یا رنج وغصہ کے باعث بعض اوقات حکومتی عہدہ کے لیے ہوتا رہا ، لیکن 1988ء میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان مقابلہ
اتوار 21 فروری 2021ء

صرف سینیٹ ہی نہیں

اتوار 14 فروری 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
آج صبح اسلام آباد سے پروفیسر محی الدین کا فون آیا پوچھا، آپ نے سینیٹ انتخاب کی درخواست گزاری ؟ نہیں ، کیوں؟آپ سے عمران خان نے 2013 ء الیکشن میں سینیٹ کے لیے وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا تھا، پھر ؟ بس، اب بالواسطہ انتخاب کے لیے جی نہیں چاہا، بارہ برس اس ایوان میں گزار چکا ہوں، اگر سیاست میں رہنے کا ارادہ ہوا تو براہِ راست انتخاب میں حصہ لوں گا۔ خرید وفروخت سے تو نہیں ڈر گئے؟نہیں،اس سلسلے کی خرید وفروخت کا کاروبار دریائے سندھ کے اس پار تک ہے، پنجاب میں نہیں۔ کیا یہاں سب
مزید پڑھیے


خود کردہ را علاجِ نیست

اتوار 07 فروری 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
میاں محمد نوازشریف وزیراعظم تھے‘ پنجاب میں ان کی اپنی حکومت تھی‘ بلوچستان میں بھی‘ سندھ حکومت سے کوئی خطرہ نہیں تھا‘ الٹا وہ مددگار تھے۔ پارلیمانی ایوان کے اندر اور باہر کی ساری سیاسی‘ مذہبی قوم پرست اور علاقائی جماعتیں وزیراعظم کے گرد حلقہ باندھے ،سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی تھیں‘ افواج پاکستان کے سربراہ صوبوں کے چیف سیکرٹری‘ آئی جی پولیس‘ ضلعوں کی انتظامیہ‘ الیکشن کمیشن اور اس کے ممبران‘ چیئرمین نیب اسی پر بس نہیں‘ ملک بھر میں اعلیٰ عدالتوں کے ججز اور چیف جسٹس ان کے اپنے ادوار حکومت میں بنائے گئے تھے۔ حکومت کے
مزید پڑھیے


یہاں سے ‘ وہاں تک

اتوار 24 جنوری 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
چوری، مقامی قبائل اور برادریوں کا فخر ، پیشہ ، انتقام، کبھی حریفوں کو نیچا دکھانے کا حربہ تھا، جاگیردار اور بڑے زمیں داروں کی سرپرستی میں آکر اس نے ادارے کی سی شکل اختیار کرلی تھی۔ اس میں بڑی حد تک نظم وضبط بھی پیدا کرلیا گیا تھا، چور گویا بڑے زمینداروں کے لاڈلے فنکار تھے، ان کی سرپرستی اسی طرح کی جاتی جس طرح بڑے نواب اور بادشاہ ، شاعروں ، ادیبوں، موسیقاروں اوردیگر ماہرینِ فن کی کیا کرتے تھے۔ دوردراز دیہاتوں میں چوروں کی سرپرستی کرنے والا رسہ گیر اور شہروں میں کم ضرر رساں جرائم کے اڈے
مزید پڑھیے


رئوف طاہر

اتوار 10 جنوری 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
4جنوری پیر کے دن مشتاق صاحب کا فون آیا۔ سلام دعا کئے بغیر کہا‘ ایک افسوسناک خبر ہے۔ کیا ہوا؟ رئوف طاہر انتقال کر گئے۔ ایک دھچکا زور دار بدن سے روح تک، پورے وجود میں درد کی لہر اٹھی۔ مرد حضرات میں ایک بڑی خرابی ہے‘ شریک حیات پہلے رخصت ہو جائے تو جنرل حمید گل اجلال حیدر زیدی اور رئوف طاہر کی طرح اس کی جدائی زیادہ دن سہہ نہیں پاتے۔ جبکہ بیویاں شوہر کے بعد اپنے بچوں‘ پوتے‘ پوتیوں‘ نواسے ‘ نواسیوں کے سہارے ‘ برسوں بعض اوقات عشروں جئے جاتی ہیں، ویسے بھی جو سن وسال
مزید پڑھیے



یہاں سے وہاں تک

اتوار 03 جنوری 2021ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بچپن تیزی سے گزرا ، سکول ، کالج ، یونیورسٹی سے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ میں آپہنچے، نئے لوگوں سے ملاقاتیں ، تعلقات ، دوستیاں ۔ فخر امام قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے ، ان کی طرف سے برطانوی پارلیمانی روایات کی پیروی اور قانون پر عملداری پر اصرار ، جونیجو حکومت کو زیادہ پسند نہ آیا اور انہیں اسپیکر کے عہدہ سے ہٹانے کے لیے تحریکِ عدم اعتماد پیش کردی گئی۔ اس تحریک کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کے لیے ممبران اسمبلی کے گھروں میں جانے کا قصد ہوا۔ بیگم عابدہ حسین ، جاوید ہاشمی اور دیگر ممبران پارلیمنٹ
مزید پڑھیے


تاریخ کی گواہی

اتوار 27 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
قوم پرست سیاست دان‘ فوجی ماہرین، دفاعی تجزیہ کار، اخبارات کے کالم نویس ،ٹیلی ویژن کے میزبان، جنگ میں فتح یابی کے لئے تین چیزوں کا بکثرت حوالہ دیتے ہیں۔ ایک معاشی خوشحالی جس میں جنگ جاری رکھنے کی سکت ہو۔ دوسرے فوج کی تعداد اور تربیت۔ تیسرے اسلحہ کی مقدار اور جدت ۔ان نام نہاد ماہرین کے تبصروں میں جنگ کی حکمت عملی میدان میں لڑنے والے جوانوں کے عزم اور قوم کے اٹل ارادوں کا کوئی ذکر ہے نہ تاریخ کا مستند حوالہ۔ دیو مالائی داستانوں ‘ عقیدت مندوں کی مبالغہ آمیزیوں سے جدید تاریخ کے تحقیق شدہ حقائق
مزید پڑھیے


’’ اچکزئی نے سچ کہا ‘‘

اتوار 20 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
محمود خان اچکزئی کی اقبال پارک لاہور میں مینار پاکستان کے زیرِ سایہ کی گئی تقریر غیر متعلق نہیں تھی، اچکزئی صاحب نے ہنستے مسکراتے ہوئے طنز کرنے اور طعنہ زنی میں بڑے طاق ہیں، وہ جلسہ گاہ میں ہوں یا پارلیمنٹ کی ایوان میں، یہ ان کا مخصوص انداز ہے، برسوں پہلے جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کی تھی، لیاقت بلوچ نئے نئے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھے وہاں انہوں نے یوں ہی مسکراتے ہوئے انہیں آئی ایس آئی انتخاب قرار دے دیا تھا، تب سارے شرکاء زہر یلی مسکراہٹ
مزید پڑھیے


’’ کس کا دباؤ؟ ‘‘

اتوار 13 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
مار ڈالے گی مجھے عافیتِ کنج چمن جوشِ پرواز کہاں جب کوئی صیاد نہ ہو گزشتہ دنوں نامعلوم اور فرضی دباؤ کا سہارا لے کر پھر ایک مرتبہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے مہم چلائی گئی، لطف کی بات یہ ہے کہ مہم کے سرغنہ اور کارندے وہی لوگ ہیں جو عوامی رائے اور جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹا کرتے ہیں، لیکن غیر ملکی آقاؤں کے اشارے اور ذاتی مفاد کیلئے ایسے شوشے چھوڑنے سے باز نہیں رہتے اور حکومت کو ان فیصلوں کی ترغیب دینے کیلئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی رائے 99 فیصد اسرائیل کو تسلیم کرنے
مزید پڑھیے


’’ آزمائش ‘‘

اتوار 06 دسمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
جہاں ہم ہیں وہاں دار ورسن کی آزمائش ہے عظیم الشان مرزا غالب کا یہ مصرعہ کالج کے زمانے سے طالب علم کو حیران اور مسحور رکھتا ہے، چھوٹے سے اس مصرعے میں خیال ،معانی اور فکر وفلسفہ کی لامحدود دنیا آباد ہے۔ اسلامی تصوف کے دورِ اول میں صوفیوں کے قافلے کے تین رہنما بیک وقت ،ایک شہر ایک جگہ اکٹھے ہوگئے ، دل کے رازوں کو جاننے ، خیالات کو پڑھنے اور باطن میں جھانکنے والے ایک دوسرے کی نیت اور مقدر پر نظر ڈالتے ہوئے یوں ٹکرائے جو بجلی کے گرڈ اسٹیشن سے نکلی ہوئی موٹی اور
مزید پڑھیے