BN

سینیٹر(ر)طارق چوہدری


’’جنگ ناگزیر ہے‘‘


جنگ ہی مسئلوں کا حل نہیں مگر جنگ بھی مسئلے کا حل ہے۔ کوئی جنگ دوسروں پر ظلم ڈھانے اور ان کے ملک ومال ہتھیانے کے لیے لڑی جاتی، کسی کے لیے یہ اپنے دفاع اور حفاظت کا ناگزیر مسئلہ ہے، کبھی یہ اپنی عزت ووقار اور ناموس کی حفاظت کے لیے فرض ہوجاتی ہے، کبھی پرانی شکست کا بدلہ چکانے کے بعد قوم کے لیے فخر اور تسکین کا باعث بنتی ہے، وطن کے ایک حصے کو دشمن کے قبضے سے چھڑانے ، مقبوضہ خطے کے بہن ، بھائیوں کی عزت وناموس آزادی اور پاکستان کے دفاع کے تقاضے
اتوار 29 نومبر 2020ء

’’پاکستان ، امریکہ یا روس‘‘

اتوار 22 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
بین الاقوامی تعلقات میں دفاع یا دشمن سر زمینوں پر قبضے کی خواہش پہلا مقصد ہے ، تجارت اورمعاشی فوائد بعد کی باتیں بعد میں ہیں، پاکستان کو مشرق میں بھارت اور مغرب میں روس سے خطرہ در پیش تھا، اس خطرے نے 1970ء میں عملی شکل اختیار کرلی ، جب اندرا گاندھی کے دورۂ ماسکو میں دفاعی معاہدہ طے پایا، یہ دفاعی معاہدہ امریکہ کے خلاف تھا نہ چین کے، بلکہ یہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی دستاویز تھی، ان خطرات کی پیش بینی کرتے ہوئے ہماری قیادت نے امریکہ کا اتحادی بننا قبول کیا، اولاً امریکہ اپنے
مزید پڑھیے


’’پاکستان،امریکہ یاروس‘‘

اتوار 15 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
قیام پاکستان کے وقت برطانوی ہندوستان میں صنعتی ترقی اور اقتصادی،معاشی،تجارتی محور کے علاقے بھارت کے حصے میں آئے،مسلمانوں کے اکثریت والے علاقے جو پاکستان کے حصے میں آئے وہ صنعت، تجارت،زراعت،ہنر کے اعتبار سے سو سالہ برطانوی اقتدار میں بہت پیچھے رہ گئے تھے،برطانیہ نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا،قدرتی طور پر وہ انہیں اپنا حریف خیال کرتا تھا اور مسلمان بھی ان سے خار کھاتے اور ان کے طور اطوار قبول کرنے کو تیار نہ تھے، مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو اکثریت کی غیر مشروط حمایت انگریزوں کو حاصل تھی،چنانچہ ہندو اکثریت والے خطوں کی تعمیر وترقی،تعلیم وہنر
مزید پڑھیے


’’توہین رسالت گوارا نہیں‘‘

اتوار 08 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
توہین مذہب و رسالت مسلمانوں کے نزدیک صرف شرارت نہیں ہے‘ یہ ایسی شرانگیزی اور فساد فی الارض ہے جو کرہ ارض کو خون میں نہلا اور جلا کر راکھ کر دے گا۔ فرانس کے صدر نے توہین آمیز خاکوں کے بارے تعصب کا اظہار کر کے پوری امت مسلمہ کو افسردہ اور اس کے نوجوانوں کو مشتعل کر دیا ہے‘ عبداللہ کی شہادت رائیگاں ہے نہ عمران خان‘ طیب اردگان اور مہاتیر محمد کی آواز صدا بصحرا۔ ان کی آواز دور تک اور غور سے سنی جا رہی ہے اور دوسری طرف سے بڑا حوصلہ افزا جواب آیا ہے
مزید پڑھیے


’’توہینِ رسالت گوارا نہیں‘‘

اتوار 01 نومبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
مضحکہ خیز خاکوں کے ذریعے توہینِ رسالت اگرچہ شرارت پسند ، گندی ذہنیت کے گھٹیا حاسد کا انفرادی فعل بھی ہوسکتا ہے مگر اس انفرادی شرارت کے اثرات محدود نہیںہیں کہ اس سے نہ صرف پونے دو ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی بلکہ ان کروڑوں انسانوں کو بھی دکھ پہنچا جو حضرت محمد ﷺ کو انسانیت کا محسن اور تاریخ کی سب سے بڑی اور عظیم ہستی سمجھتے ہیں، اس میں یورپ کے فلسفی ،عظیم فاتحین اور دانشور حکمران بھی شامل ہیں، عیسائی یورپ کا شاید ہی کوئی فلسفی ، دانشور ، تاریخ دان ایسا گزرا ہو جس نے
مزید پڑھیے



سنتا جا، شرماتا جا

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
گیارہ اکتوبر کے کالم پر اولین تبصرہ پروفیسر محی الدین اور راؤ خالد کی طرف سے آیا، حسن اتفاق کہ دونوں حضرات اخبارات کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، راؤ خالد اس زمانے میں اپنے اخبار کے لیے پارلیمنٹ کی سرگرمیوں پر رپورٹنگ کیا کرتے تھے۔آج کل روزنامہ 92کے ایڈیٹر ہیںاور بڑے جاندار کالم بھی لکھا کرتے ہیں۔راؤ صاحب سینیٹ کی پریس گیلری میں اس وقت موجود تھے جب نواز شریف کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد یہ کہانی سنائی تو نواز شریف کے ردّ عمل کا ذکر کرکے محظوظ ہوتے رہے۔ پروفیسر محی الدین ہفتہ روزہ رسائل کے لیے
مزید پڑھیے


حکومت ہٹاؤ اتحاد

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی اتحا د اور تحریکوں کی طویل تاریخ ہے، ان میں صرف دو تحریکیں حکومت ہٹانے کی کوششوں میں کامیاب ہوئیں، لیکن ان کی کامیابی اس لحاظ سے نامکمل رہی کہ یہ اتحاد متبادل حکومت نہ بن سکے اور دونوں دفعہ تحریکوں کا نتیجہ طویل مارشل لاء کی صورت میں نکلا، دونوں تحریکوں کے لیے اتحاد بنانے کا سہرا نوابزادہ نصراللہ خان کے سر تھا، حکومت مخالف تحریک چلانے والی اجتماع قیادت کا ذاتی کردار اجلا اور شکوک وشبہات سے بالاتر تھا، ان تحاریک میں اگرچہ بہت ساری سیاسی مذہبی سوشلسٹ اور قوم پرست خیالات ونظریات
مزید پڑھیے


’’جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو‘‘

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
میاں نواز شریف اور ان کا خاندان موجودہ قیادت عسکری ہو یا سیاسی ، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، یہ بات پورے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی اس قیادت نے میاں صاحب پر کوئی احسان نہیں کیا جو ان کا محسن نہیں اس کے لیے یہ بے ضرر ہیں، اس حوالے سے آنکھوں دیکھی ، کانوں سنی، نذرِ قارئین ہے، محمد خان جونیجو نئے نئے وزیراعظم بنے تھے ، میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب۔ قومی اسمبلی کے ابتدائی اجلاس میں مارشل لاء کے خلاف حاجی سیف اللہ نے تحریک استحقاق پیش کردی، قومی اسمبلی
مزید پڑھیے


آپ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں!

اتوار 27  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
فوجی امور کے ماہر امریکی مصنف نے لکھا آئی ایس آئی نام کی پاکستانی خفیہ ایجنسی کم از کم اخراجات کے ساتھ دنیا کی بہترین اور طاقتور ایجنسی ہے۔دنیا بھر میں اس کے دس ہزار کارندے کام کرتے ہیں۔ اجنبی سرزمین پر اس کا کوئی ایجنٹ کبھی نہیں پکڑا گیا۔القاعدہ کی گرفتاری اسی کا کارنامہ ہے۔1979ء سے 1989ء تک دس برس میں پاکستان اور افغانستان میں اس نے روسیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی ہوشیاری اور تیزی کا یہ عالم ہے کہ امریکیوں سے افغانستان میں روسیوں کے خلاف وسیع تعاون حاصل کرنے کے باوجود امریکی ایجنٹوں کو
مزید پڑھیے


شجاعت حسین ،پرویز الٰہی ’’مل بیٹھیں تو دو گیارہ‘‘

اتوار 20  ستمبر 2020ء
سینیٹر(ر)طارق چوہدری
یقینا پرویز الٰہی قومی سطح پر بڑے کردار کی تیاری کررہے ہیں، یہ سوتے میں آیا خواب ہے، نہ اچانک ابھرنے والا خیال، بھان متی کا کنبہ جو نواب زادہ نصراللہ خان ہر حکومت کے خلاف جمع کیا کرتے تھے، اب اس کا قرعہ چوہدری برادارن کے نام نکلاہے۔ الیکشن 2018ء سے چند دن پہلے ہارون رشید کے ہمراہ پرویز الٰہی شجاعت حسین کے گھر ہم چاروں کھانے پر تھے، تب ان سے عرض کیا کہ آپ کی قومی سیاست میں بڑے کردار کا آغاز ہونے والا ہے،یہ سن کر وہ تھوڑا جھجکے، شرمائے اور کہا، نہیں، ہم عمران خان کے
مزید پڑھیے