BN

عبداللہ طارق سہیل

1970ء کے رسالے

بدھ 20 جون 2018ء
ہفتہ ڈیڑھ پہلے جناب ایچ اقبال کے لیے چند خیر مقدمی سطریں تحریر کی تھیں جن میں 70ء کی دہائی کے مختلف ڈائجسٹوں کا ذکر تھا۔ ایک واقف کاری تشریف لائے اور باتوں باتوں میں مذکورہ دہائی پر تبادلہ خیال کیا۔ فرمایا، وہ دہائی غالباً ڈائجسٹ رسالوں کے عروج کی دہائی ایک نہیں، دو تھیں یعنی 60ء اور 70ء کی دہائی، اور دوسرے یہ کہ صرف ڈائجسٹ نہیں، ہر طرح کے جریدوں کے عروج کے یہ آخری برس تھے۔ پھر آہستہ آہستہ ان سب رسائل کو زوال آنا شروع ہوا اور اب بھی گو مارکیٹ میں درجنوں رسائل دستیاب ہیں
مزید پڑھیے


عید اور عید کے آگے پیچھے

منگل 19 جون 2018ء

عید بھی ان دنوں میں سے ہے جب دو قومی نظریہ اچھی طرح اجاگر ہو جاتا ہے۔ عید سے ایک دن پہلے‘ آخری روزے کی شام جب یہ اعلان ہوا کہ چاند نظر نہیں آیا تو ایک ٹی وی کا رپورٹر کراچی کی ایک لش پش مارکیٹ میں گیا اور جہاں دو میں سے ایک قوم کی بچیاں خریداری کر رہی تھیں۔ رپورٹر نے سب سے زیادہ لش پش لڑکی سے پوچھا‘ عید ایک دن موخر ہو گئی ہے آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں تو لڑکی خوشی سے اچھلی‘ پھر جوش اور ولولے سے بھرے ہوئے لہجے میں بے
مزید پڑھیے


ساڈے نال رہووگے تے…!

جمعه 15 جون 2018ء
قبلہ لال چند کی ’’اہلی‘‘ اور ایک اختلافی نوٹ پر ایک گرما گرم بحث میڈیا میں چھڑ گئی حالانکہ یہ معاملہ کبھی اہم تھا ہی نہیں۔ سب نہیں تو اکثر کو پتہ تھا جنہیں نہیں پتہ تھا انہیں قبلہ لال چند کی کمال خود اعتمادی سے پتہ چل گیا جو انہوں نے کاغذات نامزدگی داخل کراتے وقت قصداً ظاہر کی۔ قبلہ لال چند مول چند پشتینی اور قدیمی صادق و امین ہیں جسے شبہ تھا دور ہو گیا‘ الحمد للہ۔ قبلہ لال چند مول چند نے البتہ ایک اہم بات کی ہے، بات نہیں، انکشاف کے لیے یا ہنوز بریک ‘
مزید پڑھیے


امن کی ضرورت

جمعرات 14 جون 2018ء
عالمی بنک نے بھارت میں غربت کی رپورٹ جاری کی ہے۔ بتایا ہے کہ ملک میں خط غربت سے نیچے رہنے والے افراد کی تعداد 27کروڑ ہے یعنی کل آبادی کا کم و بیش 20فیصد۔ زیادہ تر غریب شیڈولڈ کاسٹ یعنی اچھوتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے لیکن بالیقین ان کی بڑی تعداد بھی غریب ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام غریب صوبے ہندی سلہٹ کے ہیں یعنی یو پی‘ اڑیسہ ‘ بہار ‘ راجستھان ‘ مدھیہ پردیش اور جھاڑ کھنڈ ۔62فیصد غریب انہی صوبوں میں رہتے ہیں۔ ہندی سلہٹ کے مالدار صوبوں میں ہما
مزید پڑھیے


اور خان بہادر پھٹ پڑے!

بدھ 13 جون 2018ء
ایک روز پہلے خان بہادر فرما رہے تھے کہ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ کے محتاج ہیں نہ امیدوار لیکن گزشتہ روز جب بظاہر طے ہو گیا کہ انہیں مسلم لیگ کا ٹکٹ نہیں ملے گا تو سخت ناراض ہو گئے۔ ایسی سخت ناراضگی کہ بس خدا کی پناہ‘ نہ جانے کیا کیا کچھ اس غصے میں فرما گئے۔ بعد میں وضاحت کی کہ جو کچھ ٹی وی پر چلا ہے‘ اس میں کئی باتیں میں نے نہیں کیں۔ یہ نہیں بتایا کہ کون کون سی باتیں نہیں کیں۔ لوگوں پر چھوڑ دیا کہ وہ خود فیصلہ کر لیں‘ کیا
مزید پڑھیے


سندھ کے محسن

منگل 12 جون 2018ء
وداع رمضان کی گھڑی آ پہنچی۔ شاید تین روزے باقی رہ گئے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ پہلی رمضان تھی۔ یہ دن بھی عجیب ہوتے ہیں۔ روزے دار بیک وقت خوش بھی ہوتے ہیں اداس بھی۔ خوشی اس بات کی کہ آزمائش کا کورس پورا ہو رہا ہے اور اداسی و داعی کی۔ جیسی ایمان افروز ساعتیں اس مہینے میں ملتی ہیں ان سے گیارہ مہینے کی محرومی سامنے کھڑی ہے۔ بشرط عمر اور دن کتنے جلد گزر جاتے ہیں‘ اس کا ایک اندازہ رمضان ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ دو دن پہلے کی بات ہے ‘وٹس ایپ پر
مزید پڑھیے


اتالیقوں کا گریہ

پیر 11 جون 2018ء
اصغر خان کیس میں میاں نواز شریف نے جواب داخل کرا دیا ہے، کہا ہے کہ انہوں نے کسی درانی یا یونس حبیب سے کوئی رقم نہیں لی اور یہ کہ وہ یہی بیان اس سے پہلے ایف آئی اے میں بھی ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ معاف کیجیے گا میاں صاحب آپ کا بیان کوئی اور مان لے تو اور بات ہے‘ محب وطن عوام آپ کی بات نہیں مان سکتے۔ بلیک لاڈکشنری کی ڈیفی نیشن کے تحت آپ صادق ہیں نہ امین۔ چنانچہ ایسے شخص کا بیان قبول نہیں کیا جا سکتا جسے بلیک لاڈکشنری غیر صادق اورامین قرار دے
مزید پڑھیے


’’ذرا‘‘ کی پیمائش

جمعه 08 جون 2018ء
گلف نیوز کے ایک تبصرے میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی برسر اقتدار بی جے پی کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے اور اگلے الیکشن اس کے لیے آسان نہیں ہوں گے،فی الوقت صورتحال ایسی ہے کہ اگلے الیکشن بھی شاید بی جے پی جیت جائے(اگرچہ یقینی نہیں ہے) لیکن اس کی پارلیمانی طاقت میں خاصی کمی ہو جائے گی۔ اور وجہ اس کی ’’کارکردگی ‘‘نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے کارکنوں کی وہ مار دھاڑ ہے جو اس نے دلتوں‘ مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ دلت پہلے منقسم تھے۔ بی جے پی
مزید پڑھیے


عمرانیات بمقابلہ ریحامیات

جمعرات 07 جون 2018ء

ریحان خان کی کتاب نے تو شائع ہونے سے پہلے بھی کہرام مچا دیا ہے۔ چھپے گی تو کیسا کہرام ہو گا‘ ’’ام الکہرام‘‘ ہی ہو گا۔ تحریک انصاف بہت غصے میں ہے اور عمران خان سخت بے چین۔ یار لوگوں کو اندیشہ ہے کہ کتاب آ گئی تو خان صاحب کہیں الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ ہی نہ کردیں ۔ایسا ہوا تو التوا ناگزیر ہو جائے گا۔ التوا کا مطالبہ کرنے کا خدشہ غیر حقیقی نہیں۔ خاں صاحب کے ایک مداح جو ہر دور میں ’’قصیدہ نگاری‘‘ کے لیے مشہور رہے ہیں۔ اپنے تازہ روحانی کالم میں قلم برداشتہ
مزید پڑھیے


ڈیم سے زیادہ جنگل ضروری

بدھ 06 جون 2018ء
رپورٹیں آ رہی ہیں کہ پاکستان میں پانی کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیاں بھی اس کی وجہ ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارت کی بی جے پی کی حکومت پاکستان کا پانی روک کر اس بحران کو اور زیادہ خوفناک بنا رہی ہے یعنی ایک ساتھ کئی عوامل مل گئے ہیں اور معاملہ یہ بھی ہے کہ خرابی جتنی ہے اس سے کم کر کے بتائی جا رہی ہے۔ آنے والا خطرہ بہت بڑا ہے لیکن عوام کی اکثریت کو ابھی علم ہی نہیں ہو سکا۔ کہ کوئی خطرہ آ بھی رہا ہے
مزید پڑھیے