BN

عبداللہ طارق سہیل

جھوٹ کی حد مقرر کرنے کی ضرورت

منگل 05 جون 2018ء
کراچی میں متحدہ کی باہمی دھڑا جنگی جاری ہے اور ایک دھڑے کے سربراہ فاروق ستار نے مخالف دھڑے کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جھوٹ بولے مگر اس کی ایک حد مقرر کرے۔ یعنی جھوٹ بولنا تو بری بات نہیں ہے حد سے زیادہ بولنا بری بات ہے۔ جیسے شکر کا استعمال برا نہیں حد سے زیادہ بری بات ہے۔ سیاست کی مجبوری ہے ‘ اس کی گاڑی جھوٹ کے پہیوں کے بنا آگے چل ہی نہیں سکتی۔ ہر پارٹی حسب توفیق اور حسب استعداد و صلاحیت جھوٹ بولتی ہے اور اب تو کمپیوٹر کا زمانہ ہے‘ ورچوئل ریالٹی کا
مزید پڑھیے


التوائی طاقتیں

پیر 04 جون 2018ء

سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم بنائو تحریک اچانک شروع ہوئی اور زور پکڑ گئی۔ مہم کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ سیاست چھوڑو‘ ڈیم بنائو ‘ ملک بچائو۔ اس غلط فہمی میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ویسا ہی کوئی نعرہ ہے جیسا کینیڈا والے مولانا صاحب نے کئی برس پہلے لگایا تھا کہ سیاست نہیں ریاست بچائو۔ ہر دور کی اپنی روح‘ اپنی آواز ہوتی ہے۔ وہ ماضی کی روح عصر تھی‘ آج نازل ہونے والی روح کا تعلق کالا باغ ڈیم سے ہے۔ الیکشن ملتوی کروانے کی مہم سے اس کا تعلق نہیں۔ یہ الگ بات
مزید پڑھیے


سفینۂ رشیدی چل پڑا

جمعه 01 جون 2018ء
ناخدا ہونے کا سزا وار وہی ہو سکتا ہے جو اپنے فیصلے کو ’’ری وزٹ‘‘ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ ری وزٹ یعنی دورۂ مکرر اور عمران خاں نے چند دنوں میں دوبار یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر دورۂ مکرر فرما سکتے ہیں۔ اپنے زیر حکمرانی صوبے میں انہوں نے آفریدی نام کے کسی صاحب کو نگرانی وزیر اعلیٰ مقرر فرمایا۔ اسی رات ایک تفصیلی اطمینان و تسلی بخش ملاقات بھی نامزد وزیر اعلیٰ سے فرمائی اور ٹھیک چوبیس گھنٹے کے بعد فیصلے پر ری وزٹ فرمایا اور نامزدگی واپس لے لی۔ دو روز بعد پنجاب
مزید پڑھیے


دھلائی کی ضرورت

جمعرات 31 مئی 2018ء
الحمد للہ آج شیخ رشید کی پیش گوئی پوری ہو رہی ہے۔ وہ پانچ سال سے کہہ رہے تھے کہ حکومت نہیں رہے گی ‘ ختم ہو جائے گی اور لوگ تھے کہ مانتے ہی نہیں تھے۔ اب کہو‘ شیخ جی کی بات سچ نکلی کہ نہیں۔ شیخ جی کی دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ الیکشن شفاف ہوں گے۔ انہوں نے ٹی وی چینلز پر بھی بتایا کہ پولنگ سٹیشنوں کے اندر بھی ہم کھڑے ہوں گے اور باہر بھی۔ تو شفاف الیکشن کے بارے میں شک کی گنجائش پھر کہاں رہ گئی۔ مزید تسلی کے لیے نیب کا اعلان
مزید پڑھیے


مسلم لیگ کے لیے ایک راستہ ہے

بدھ 30 مئی 2018ء
لیجیے یکم جون بس آ ہی پہنچی۔ سنا ہے نواز شریف کے خلاف بہت بڑی میڈیا مہم شروع ہو گی۔ جنرل جیلانی سے لے کر عدلیہ پر حملوں تک اور رائیونڈ روڈ کی توسیع سے لے کر تین ہزار کروڑ ارب روپے کی چوری تک‘ غداروں سے مودی کی یاری تک۔ سینکڑوں ہزاروں الزامات نشر ہوں گے ان گنت فلمیں زیر نمائش ہوں گی۔ تقاریر ‘ ٹی وی پروگرام روحانی کالم نویسیاں‘ غرض ایک پورا ڈزنی لینڈ سجنے والا ہے۔ اسے شاید دنیا کا سب سے بڑا تفریحی پروگرام ہی مانا جائے گا کیونکہ ووٹر تو اپنی رائے بنا چکے۔ تفریحی
مزید پڑھیے


ایران۔واپسی کی شروعات

منگل 29 مئی 2018ء
اسرائیل نے روس کو اطلاع دی ہے کہ وہ اب سارے شام پر حملے کرے گا۔ سارے شام پر تو وہ پہلے ہی حملے کر رہا ہے۔ شام ہے ہی کتنا‘ شمال کا سارا علاقہ تو کردوں یا ترکوں کے پاس ہے۔ بہرحال اسرائیل کا سرکاری موقف یہ رہا ہے کہ وہ صرف جنوبی شام پر حملے کرتا ہے حالانکہ اس نے وسطی شام پر بھی پے درپے حملے کیے ہیں۔اس مہینے کی 24تاریخ کو اس نے وسطی صوبے حما کے اردگرد بہت سے ایرانی اور حزبی اڈے تباہ کیے جن میں 9ایرانی افسر مارے گئے اور بہت سے حزبی
مزید پڑھیے


اکیڈیمک بات

پیر 28 مئی 2018ء
رمضان کا ایک عشرہ پورا ہوا‘ دو ا بھی باقی ہیں کہ دسویں روزے کی شام ٹی وی پر خبر چلی کہ کراچی میں عید فیسٹیول کی تیاری عروج پر پہنچ گئی۔ عید فیسٹیول سے مراد وہ خریداری بازار ہے جہاں سے عید پریا اس کے آس پاس 20ارب روپے کی چیزیں خریدی جائیں گی۔ ٹی وی چینلز کی مہربانی سے رمضان پہلے ہی عبادت کا مہینہ کم اور کھانے پینے کا میلہ زیادہ ہے۔ ٹی وی ہی کیا‘ اخبارات بھی یہی ’’تعلیم‘‘ دینے میں لگے ہیں کہ اس مہینے کیا کچھ کیسے کیسے کھایا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ
مزید پڑھیے


نئے صوبے کا مطالبہ اور لعنت

جمعه 25 مئی 2018ء
چند دن پہلے وفاقی وزیر اطلاعات نے اخبار نویسوں کو ایک افطار ڈنر دیا۔ اس میں انہوں نے آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال پر اظہار افسوس والے فقرے کہے جو اخبارات میں نہیں چھپ سکے۔ بعض کالم نگاروں نے ان کے یہ فقرے نقل کئے ہیں‘ سیلف سنسر کی ذمہ داریوں کے تحت بہت محتاط انداز میں ۔ چلیے یہ بھی غنیمت ہے کہ بعض کالموں اور تجزیوں میں فی الحال کچھ نہ کچھ چھپ جاتاہے‘ آنے والے دنوں میں شاید یہ صورت بھی نہ رہے سوشل میڈیا میں البتہ کئی دنوں سے ’’احتجاج‘‘ جاری ہے اور صحافت کو آزاد
مزید پڑھیے


گن کلچر

جمعرات 24 مئی 2018ء
رمضان میں وہی لوگ خدا کا خوف کرتے ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہے۔ جو بے خوف ہیں ان کے لیے کوئی بھی مہینہ ہو‘ ایک برابر ہے۔ یہ خبر دیکھیے کہ پاکپتن میں بھٹہ مالک ظریف خاں نے ایک محنت کش عورت کو محض اس لیے قتل کر دیا کہ وہ پندرہ روز کی مزدوری مانگ رہی تھی۔ مقتولہ چھیماں بی بی نے اس توقع پر مزدوری مانگی ہو گی کہ کچھ پیسے ملیں گے تو آج وہ اور اس کے بچے بھی افطاری کر لیں گے لیکن ظریف خاں اور اس کے ملازموں نے اسے
مزید پڑھیے


جب ساری دنیا پر مسلمان حکومت تھی

بدھ 23 مئی 2018ء
عمران خان کے اس پروگرام کی خوب دھوم ہے جو انہوں نے برسراقتدار آ کر پہلے سودنوں میں پورا کرنا ہے۔ خاص طور پر اس نکتے کی تو دھوم ہی زیادہ ہے کہ وہ سو دنوں میں ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔ یہ دھوم پر از حیرت ہے۔ حالانکہ خان صاحب کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ یہ ان کے بائیں نہیں تو زیادہ سے زیادہ دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بائیں ہاتھ سے وہ ایک ارب درخت لگا چکے ہیں، دائیں ہاتھ سے ایک کروڑ نوکریاں کیوں نہیں دے سکتے۔ یہ تو انہوں نے رعایت کی ہے، وہ یہ دعویٰ
مزید پڑھیے