BN

عمر قاضی

پیپلز پارٹی کے اڑتے پرزے

جمعرات 21 جون 2018ء
پیپلز پارٹی کی قیادت کو پتہ تھا کہ اس کی جڑ پنجاب کی دھرتی سے اکھڑ چکی ہے مگر پیپلز پارٹی کو یہ معلوم نہ تھا کہ اسے سندھ میں سخت حالات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس وقت سندھ میں ٹکٹوں پر پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی اس طرح ٹوٹ رہی ہے جس طرح تیز بارش میں کچے مکانوں کی کمزور دیواریں ٹوٹ کر گرتی رہتی ہیں۔ ایک طرف گھوٹکی کے علی گوہر مہر پیپلز پارٹی کو الوداع کرنے کے بعد جی ڈی اے میں شامل ہوچکے ہیں اور دوسری طرف خیرپور ناتھن شاہ کے طلعت
مزید پڑھیے


انقلابی ناول کا کردار

بدھ 13 جون 2018ء
ہم ان سے اس طرح مخاطب نہیں ہوسکتے جس طرح آرمینیا کے شاعر تومانین نے آسمان میں بھٹکتے ہوئے ایک پرندے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا۔ ’’الوداع! اے پیارے پرندے تم جہاں جاؤ گے بہار کی ہواؤں کے ساتھ آخر لوٹ آؤ گے‘‘ ہم جانتے ہیں کہ وہ جہاں گیا ہے؛ وہاں سے کبھی بھی واپس لوٹ کو نہیں آئے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ اس آسمان کے نیچے اور اس دھرتی کے اوپر ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہے۔ مگر وہ اس عام فرق سے زیادہ مختلف اور بہت خاص تھا۔اس جیسے سیاستدان کے لیے سندھ کو بہت انتظار کرنا پڑے گا۔
مزید پڑھیے


سندھ کی سیاست: آنسو اور آدرش

پیر 04 جون 2018ء
وقت بہت آگے نکل چکا ہے۔ زندگی انٹرنیٹ کے ساتھ اڑتی جا رہی ہے۔ سرحدوں کے فاصلے بے معنی بنتے جا رہے ہیں۔ مگر سندھ کا اکثریتی عوام ابھی تک میروں؛ پیروں؛ مخدوموں اور سیدوں کی سیاست کا قیدی ہے۔ جب بھی ملک کی اقتداری کروٹ لیتی ہے تب سندھ کے بڑے پیر مختلف پارٹیوں میں ہونے کے باوجود آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس بار بھی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سندھ اور پنجاب کے مخدوم پیر پگاڑا کے پاس پہنچ گئے۔مخدوم جمیل الزماں کی پیرپگاڑا سے ملاقات آصف زرداری کے لیے پریشانی کا باعث بنی۔
مزید پڑھیے


کیا قوم پرست اس بار بھی ہار جائینگے؟

جمعه 01 جون 2018ء
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ’’یوم نجات‘‘ کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔ اس وقت سندھ کے ادبی اور صحافتی حلقوں میں یہ سوال ابھرا ہوا ہے کہ ’’اب پیپلز پارٹی کس منہ سے ووٹ مانگنے جائے گی؟‘‘مگر یہ سوال اٹھانے والے یہ بات بھول رہے ہیں کہ سیاست کی ناک فولادی ہوتی ہے۔ وہ اس بات کو بھی فراموش کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کا تعلق مڈل کلاس سے ہوتا ہے۔ جب کہ ووٹ کی طاقت اس طبقے کے پاس ہے جن کی اکثریت کو اب تک معلوم نہیں
مزید پڑھیے


رنگ پیراہن کا‘ خوشبو زلف بکھرانے کا نام

پیر 28 مئی 2018ء
لیڈی ڈیانا کے بیٹے پرنس ہیری کی شادی کا جشن تو اب اختتام کو پہنچا ہے مگر سوشل میڈیا میں اب تک اس کی سانولی دلہن میگھن مارکل کے حوالے سے یہ بحث جاری ہے کہ ’’کیا عورت کی خوبصورتی گورے رنگ کی محتاج ہے؟‘‘ پاکستان کی مشہور بینڈ وائٹل سائنز نے ایک گیت گایا تھا جو اب تک بڑی چاہ کے ساتھ سنا جاتا ہے ’’گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہوگا نہ پرانا گوری ڈر تمہیں کس کا ہے؟ تیرا تے رنگ گورا ہے‘‘ یہ گورا رنگ آج بھی کاسمیٹک انڈسٹری کی بہت بڑی مارکیٹ بنا ہوا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے الیکٹرانک
مزید پڑھیے


سوشل میڈیاکے چشمے پر چمکتے ہوئے بلبلے

جمعه 25 مئی 2018ء
وہ لڑکی بھی اب سوشل میڈیا کی معرفت بہت مشہور ہو رہی ہے جس نے کراچی پریس کلب کے سامنے سندھ کے مِسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے ہونے والے بھوک ہڑتالی کیمپ پر آنے والے وزیر اطلاعات اور ناصر شاہ اور وزیر داخلہ سہیل انور سیال سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ :کیا آپ کو اس دن کا انتظار تھا ؟ جب سندھ کی بیٹیاں اپنے گھروں سے نکل کر راستوں پر دھکے کھائیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے نعرے لگائیں؟ آپ ہمارے پاس تب آئے ہیں جب حکومت چند دنوں کی مہمان ہے اور آپ کو
مزید پڑھیے


مگرنواز شریف نہیں مانتے!!

اتوار 20 مئی 2018ء
سندھ کی ادبی تاریخ بہت خوبصورت اور بہت کھوئی ہوئی ہے۔ سندھ کا ادب صرف شیخ ایاز یا شاہ لطیف اور سچل سرمست تک محدود نہیں ہے۔ شاہ لطیف سے پہلے ایک بزرگ شاعر’’ عبدالکریم بلڑی وارو‘‘ بھی تھے ۔جنہوں نے لکھا تھا : کاتب لکھے جیسے لام اور الف ملا کر ہم نے ساجن تیسے من میں ہے محسوس کیا مگر اس صوفی فقیر سے قبل بھی سندھ میں بہت خوبصورت شاعروں نے جنم لیا۔ ان شاعروں نے زندگی اور محبت کا حسن بیان کیا۔ ان شاعروں میں ایک شاعرنے لکھا تھا: گوری جس تالاب سے نہا کر نکلتی ہے اس کے لہروں کی
مزید پڑھیے


ام رباب کو انصاف کب ملے گا؟

جمعه 18 مئی 2018ء
پھر وہ ہی سندھ۔ پھر وہ ہی ناانصافی کی طویل داستان! اس بار ایوان عدالت کے سامنے کھڑی انیس برس کی مظلوم اور یتیم لڑکی۔ وہ لڑکی جس نہ صرف والد بلکہ اپنے والد کے والد اور اپنے چچائوں کے لیے اپنے دوپٹے کو فریاد کا پرچم بنا کر لہرایا ہے۔ وہ کراچی کا ایک اداس دن تھا۔ جب ملک کے چیف جسٹس عدالت عالیہ میں انصاف کے لیے اپنے پروٹوکول کے ساتھ تشریف لا رہے تھے اور میڈیا سمیت دیکھنے والی ساری آنکھوں کو حیران کرنے والی وہ چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے پلے کارڈ لہراتی ہوئی ظاہر ہوئی۔
مزید پڑھیے


دشمن کی تلاش

پیر 14 مئی 2018ء
سندھ میں پیپلز پارٹی دس برسوں تک اقتداری عیاشی کرنے کے بعد اس پاور سے الگ ہونے کی تیاری کر رہی ہے جس کی وہ بہت عادی ہوچکی ہے۔ سیاست کے سرکاری سفر میں یہ موڑ ہر جماعت کے لیے مشکل ہوتا ہے مگر اس پارٹی کی پریشانی بہت بڑھ جاتی ہے جس کو دوبارہ اقتدار میں آنے کا یقین نہ ہو۔ وہ وقت گزر گیا جب پیپلز پارٹی کے وزراء بے پرواہی سے کہا کرتے تھے کہ سندھ میں ہمارا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اگر سندھ کے لوگ ہمیں ووٹ نہیں دینگے تو آخر کس کو دینگے؟مگر اب وہ
مزید پڑھیے


سندھی عورت اور پیپلز پارٹی

جمعرات 10 مئی 2018ء

جنوبی پنجاب میں عمران خان کی سونامی میں جو سیاسی ریلا شامل ہوا ہے اس کا رخ سینٹرل پنجاب کے بجائے سندھ کی طرف آتا محسوس ہو رہا ہے۔ سیاست بھی دریا کی طرح اوپر سے نیچے بہتی ہے۔ اس وقت سندھ میں آصف زرداری کے مخالفین عمران خان کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جیسے کردار تو ہاتھوں میں اجرک لیے تحریک انصاف کے منتظر ہیں۔ مگر پیپلز پارٹی میں بہت سارے لیڈران سندھ حکومت ختم ہونے کے دن پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔یہ بات آصف زرداری کو اچھی طرح معلوم ہے کہ رواں
مزید پڑھیے