BN

فیصل مسعود


صورتِ حال تشویش ناک ہے!


خود کو مظلوم سمجھنے میں پاکستانی کسی سے کم نہیں۔ کسی ایک فرد، کسی خاندان ،کسی ایک ادارے یا پھرکسی خاص قومیت کو ہی اپنے ہر دکھ اور اپنی ہر محرومی کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ خود احتسابی سے مگر کام نہیں لیتے۔ مزاجاََ جذباتی، خود پسند اور ہر چھوٹی بڑی بات پر مشتعل ہوجاتے ہیں۔یہی عمومی رویہ سیاسی مزاج میں بھی جھلکتا ہے۔سوشل میڈیا کے آنے سے پاکستانیوں کی خوب بن آئی ہے۔ گالم گلوچ اب سہل ہو گئی ہے۔ پر شور جلسے جلوس،بے دریغ مبالغہ آرائیاں اور ذاتیات پر مبنی ایک دوسرے پر صبح شام تضحیک آمیزالزامات
هفته 27 فروری 2021ء

’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ جو چھوٹ گئی!

هفته 20 فروری 2021ء
فیصل مسعود
23 مارچ 1940ء کو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل خود مختار ریاستوں کے قیام کی قرادادپیش کی گئی تو منصوبے میںانسانی ہجرت کا تصور موجود نہیں تھا۔’ قراداد لاہور ‘سے تقریباََ دو ہفتے بعدسکھوں نے بھی کانگر س کی ہم نوائی میں متحدہ ہندوستان اور بصورتِ دیگر مذہب کی بنیاد پر پنجاب میںالگ سکھ ریاست کے قیام کا مطالبہ کردیا۔ مارچ 1947ء تک پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح راولپنڈی شہر میں بھی مذہبی قومیتوںکے باہمی تعلقات میں شدیدتنائو آچکا تھا۔6 سے 13مارچ کے درمیان کہوٹہ کے نواح میں سکھ آبادی والے دیہات فساد ات کی لپیٹ میں
مزید پڑھیے


ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے!

هفته 13 فروری 2021ء
فیصل مسعود
ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے سیاست دانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ کچھ سیاسی نابالغ الٹا جلسے جلوسوں میں غیر سنجیدہ تبصرے کر رہے ہیں۔ وطنِ عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن اور اس کے نتیجے میں آنکھ مچولی روزِ اوّل سے جاری ہے۔اس الزام میں وزن ہونے کے باوجود کہ کئی مواقع پر فوجی سربراہوں نے اس عدم توازن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کیا،وہیں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر فوجی سربراہوں نے اپنی تعیناتی کے
مزید پڑھیے


تدبّربھی کیا تو نے؟

هفته 06 فروری 2021ء
فیصل مسعود
مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی لڑائی اداروں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ادارے ہمارے اپنے ہیں، بھارتی تو نہیں۔اور یہ کہ گلہ گزاری اپنوں سے ہوتی ہے غیروں سے نہیں۔ بس ا سی بات پر سب ہنگامہ ہے۔ نیم وا کھڑکیوں کے ساتھ کان لگائے، دروازوں کے پیچھے دم سادھے ، مولانا کے خاکی پوش جتھوں سے امیدیں وابستہ کئے، ہمارے لبرل انتہا پسنداب مولانا کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ لبرلز ہی نہیں، الیکٹرانک میڈیا کے دور نے’سینئر تجزیہ کاروں‘کی جو
مزید پڑھیے


ایک ’برنچ‘ اور مریم نواز کی ویڈیو کال!

هفته 30 جنوری 2021ء
فیصل مسعود
چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک میسج زیرِگردش تھا ، جس کے مطابق گزشتہ اتوار اسلام آباد کلب کے لان میں جب الیٹ کلب کے ممبران دھوپ سینکتے اپنی فیملیز کے ہمراہ ’ برنچ‘ میں مگن تھے تو کسی ایک اہم شخصیت کی متوقع آمد کے پیشِ نظر کلب سٹاف یکا یک متحرک ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لان میںکچھ افراد کے لئے سکیورٹی سکرینوں کے اندر خصوصی نشت بچھانے کا اہتمام شروع ہوگیا۔ بارہ بجے کے لگ بھگ چیف آف آرمی سٹاف اپنی فیملی کے ہمراہ آئے تو انہیں خصوصی پروٹوکول کے ساتھ سکیورٹی سکرینوں کے
مزید پڑھیے



72لانگ کورس کے بشیر الدین اورکزئی کی یاد میں !

هفته 23 جنوری 2021ء
فیصل مسعود
10جنوری کی صبح 72پی ایم اے لانگ کورس والوں کے گروپ میں لیفٹینٹ کرنل بشیر الدین اورکزئی نے سی ایم ایچ پشاور میںآکسیجن ماسک چڑھائے ا پنی تصویر پوسٹ کی ۔ تصویر کے نیچے پشتو میں لکھا تھا’آخر ہم بھی تختے پر لیٹ گیا‘۔منہ پر چڑھے ماسک کے کونوں سے’بشیرا‘ کی مخصوص مسکراہٹ چھن چھن چھلک رہی تھی۔ 19جنوری کو جنرل طیب اعظم (جنہیں آئی جی ایف سی ، کے پی کے تعینات ہونے پر بشیرالدین نے کال کر کے کہا تھا 72 لانگ کورس کا جھنڈا بلند رکھنا)نے ساتھیوں کو اطلاع دی کہ بشیرالدین ،آکسیجن سپورٹ سے وینٹیلٹر
مزید پڑھیے


یہی ہے زندگی، کچھ خواب چند اُمیدیں!

هفته 16 جنوری 2021ء
فیصل مسعود
کسی زمانے میں دنیا منڈی کی معیشت والے مغربی ممالک ، اور ان ممالک کو ’سامراج ‘کے نام سے یاد کرنے والے ’بائیں بازو‘ کے اشتراکیوں کے درمیان تقسیم تھی۔مغربی ممالک سرخ آندھی کو دو بڑے راستوں (Prongs)سے ’ آزاد دنیا ‘کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ سدِّباب کے طور ،جہاں مشرقی یورپ کے راستے میں نیٹو کے ذریعے عسکری صف بندی کی گئی، تو وہیں اشتراکیت کو جبر کا نظام بتلاتے ہوئے مغربی یورپ میں جمہوریت، انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کے خوش نما تصورات کو اس کے مقابل اجاگر کیا گیا۔ دوسری طرف وسطیٰ ایشیا کے
مزید پڑھیے


اے ہمارے ربّ ، ہم کو بادشاہ چاہیے!

هفته 09 جنوری 2021ء
فیصل مسعود
سیموئیل نبی سے ان کی قوم بضد ہوئی کہ خدا سے کہو ہمارے لیے ایک بادشاہ اتارے۔بولے،سب قوموں کے ہاں عظیم الشان درباروں میں شان و شوکت والے بادشاہ فروکش ہیں۔ ہمیں بھی ایسے ہی رعب و دبدبے والا بادشاہ چاہیے۔ نبی نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا مگر سب مُصر رہے کہ انہیں تو بس ایک بادشاہ چاہیے جو بڑی شان اور کروفر والا ہو۔نسل در نسل کی غلامی سے بنی اسرائیل کو نجات دلا کر حضرت موسیٰ ؑ چالیس سال کی مسافت کے بعد اپنی قوم کو اس آزاد سر زمین پر لائے تھے کہ مقدس کتابوں
مزید پڑھیے


اداروں کے خلاف مہم جوئی اور سینئر لیگیوں کی ذمہ داری!

هفته 02 جنوری 2021ء
فیصل مسعود
کچھ اور ہو نہ ہو، پی ڈی ایم نے ایسے گروہوں کو کہ جن کے مفادات سرحد پار وابستہ ہیں، زہر آلود تقریروں کے لئے مرکزی پلیٹ فارم مہّیا کر دیا ہے۔وزیرِاعظم عمران خان نے اداروں کے خلاف تضحیک آمیز بیان بازی پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا تو وزیرِ داخلہ نے پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے سبب الزام تراشی کرنے والے جے یو آئی کے مفتی کفایت اللہ کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کئے جانے کا عندیہ ظاہر کیا ۔اگلے ہی روز ،ہمہ وقت برہم رہنے
مزید پڑھیے


کریمہ بلوچ کی موت اور ٹویٹر ٹرینڈ!

هفته 26 دسمبر 2020ء
فیصل مسعود
سوشل میڈیا پر بدزبانی، کردار کشی اورمہم جوئی اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس باب میں ٹویٹر من حیث القوم ہمارے عدم برداشت پر مبنی رویوں کا بھرپور عکاس ہے۔ بے شمار گمنام اکائونٹس صبح و شام حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جتھے ہیں جو ایک دوسرے پر ہمہ وقت حملہ آور دیکھے جاسکتے ہیں۔ اکثر سطحی جملے بازی اور ذاتیات پر مبنی دشنام طرازی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔افسوس مگر اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے قد کاٹھ کی شخصیات نفرت اور بے جا تعصب میں ڈوب کراچانک کہیں سے نمودار ہوجانے والے
مزید پڑھیے