BN

محمد حسین ہنزل


کابل یونیورسٹی حملہ اور بین الافغان مذاکرات


کابل کو ایک مرتبہ پھر شدت پسندوںنے خون آلود کردیا۔رواں سال مئی میں اس شہر میں نومود بچوں کے ایک ہسپتال کودہشتگردوں نے نشانہ بناکر درجنوں ننھے پھولوں کو روند ڈالااور اب کی بارانسانی لہوپرپلنے والوںنے اس ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں خون کی ہولی کھیلی۔کابل یونیورسٹی میں پیر کو تین داعشی جنگجووں نے گھس کر پانچ گھنٹوں تک طلبا اور طالبات کو یر غمال بنائے رکھا اور شام تک اٹھارہ طلبا وطالبات بشمول چار دیگر افرادکو شہید اورستائیس کو گھائل کردیا گیا،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔داعش یا دولت اسلامیہ العراق والشام نے پچھلے پانچ برسوں سے
هفته 07 نومبر 2020ء

بلوچستان : نظام تعلیم کیساتھ بے رحمانہ سلوک کب تک؟

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
نظام مینگل اس وقت بلوچستان میں ڈائریکٹر سکولز کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ پورے صوبے کے اسکولوں کے ڈائریکٹر کامطلب یہ کہ لگ بھگ بتیس اضلاع کے نصف تعلیمی ادارے کانظام جناب نظام مینگل صاحب کے رحم وکرم پرہے ۔جبکہ لطف کی بات یہ ہے کہ اس حساس نظام کے انتہائی ذمہ دار عہدے پر براجمان نظام مینگل صاحب کے ہاںدیانت، شفافیت اور اہلیت نام کی کوئی صفت سرے سے ہی نہیں ہے ۔دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان کے نظام تعلیم کو قابل رشک بنانے کی دعوے دار صوبائی حکومت نے ایک ایسے شخص کو
مزید پڑھیے


خدا کے ہاں اندھیر نہیں

اتوار 27  ستمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
بلوچستان کے جنوبی بیلٹ میں ایک زمانے میں سرداروں کابڑا طوطی بولتاتھا۔ یہ لوگ نمرود اور فرعون بنے ہوئے تھے اور اپنے اردگرد انسانوں کو درخت کے پتوں سے بھی کمتر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ایک دفعہ ایک غریب پٹھان اپنے علاقے سے فرار ہوکر ان سرداروں میں سے کسی ایک سردارکے ہاں پناہ لینے آیا۔ کچھ عرصہ بعد سردار صاحب نے اس ہمسائے کی بیوی سے بزور طاقت ناجائز تعلقات استوار کیے ۔بیوی کاخاوند خوف کے مارے سردار صاحب کی ناقابل برداشت زیادتی اور بربریت پر چشم پوشی کرتا رہا۔ کچھ مہینے بعد اس بے چاری خاتوںکے ہاں ایک بچہ
مزید پڑھیے


حضرت اویس قرنی ؒ !!

اتوار 20  ستمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
ویسے تو رسالت مآبﷺ کے ساتھ حضرات صحابہ میں سے ہر ایک کی محبت اور عقیدت دیدنی ہوتی تھی۔لیکن آپﷺکے ساتھ جس تابعی کی فرط محبت پر صحابہ ؓکرام کوبھی رشک آتاتھا، وہ تاریخ میں اویس قرنی ؒکے نام سے مشہور ہیں۔ آپ ؒ کاپورانام اویس بن عامراور کنیت ابوعمرو تھا اوریمن کے مشہورعلاقے قرن میں583 ء کو پیداہوئے ۔رسالت مآب ﷺ کامبارک زمانہ پانے کے باوجود اویس قرنیؒ دیدارنبی ﷺسے شرف یاب نہ ہوسکے ۔ مورخین اویس قرنی ؒ کی اس محرومی کی دو وجوہات بتاتے ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ نبی ﷺ کی زیارت کرنے میں اویس
مزید پڑھیے


اہل ِ مدارس کااستحصال کون کررہاہے ؟

جمعه 18  ستمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
وفاق المدارس پاکستان میں دینی مدارس کا سب سے قدیم بورڈ اور ملک گیردینی تعلیمی نیٹ ورک ہے ۔یہ 1959ء کوملک کے ممتازاورجید علمائے کرام کی کوششوںسے قائم ہوا۔ آج کل اس دینی تعلیمی بورڈ کے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرصاحب ہیں جبکہ اس بورڈ کے اصل محرک مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ہیں جوکہ ناظم تعلیمات کے عہدے پرفائزہیں۔وفاق المدارس کے تحت فی الوقت پورے ملک میں بیس ہزار چھ سوپچاس مدارس بشمول شاخہائے رجسٹرڈ ہیں۔ایک لاکھ اکیس ہزار آٹھ سوسے زیادہ اساتذہ کرام ان مدرسوں میں درس وتدریس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ زیرتعلیم طلباء وطالبات
مزید پڑھیے



آئیے اُوزن کی تہہ کوبچالیں

پیر 14  ستمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
قدرت کے اس مُحیرالعقول کارخانے میں جس چیز بھی غور کرتاہوں تومجھے لامحالہ سورۃ رحمن یاد آتی ہے۔ اس مبارک سورۃ میں خدا انسان اور جنات کومتنبہ کرکے سوال کرتاہے کہ میری کس کس نعمت کا انکار کروگے کیونکہ ان کا کوئی حد وحساب نہیں ہے‘‘۔بلاشبہ عرش سے فرش تک خدا نے اپنی مخلوقات کیلئے نعمتوں ہی نعمتوں کے دسترخوان بچھائے ہیں اور اس سے مستفید ہونے والوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اِن نعمتوں کا شکر اداکرنے کے ساتھ ساتھ اس پر غور بھی کرتے ہیں۔ میں نے آج کے اس مختصر کالم میں جس عظیم
مزید پڑھیے


قمردین کاریز: بلوچستان کا تَھر

جمعه 04  ستمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
میڈیامیں صوبہ سندھ کے پسماندہ علاقے ضلع تَھر کے مسائل کا ذکر جب بھی سننے کو ملتاہے تو مجھے ژوب کا دور افتادہ سرحدی علاقہ تحصیل قمر دین کاریز یاد آتا ہے۔تھَر ایک حوالے سے پھر بھی خوش قسمت ہے کہ اس کی حالتِ زار کم از کم میڈیا میں خبروں کی زینت تو اکثر اوقات بنی رہتی ہے لیکن ہمارے قمر دین کاریز کا کیا کیجئے کہ نہ اس کے مسائل حل ہونے کا نام لے رہا ہیںنہ ہی ذرائع ابلاغ میں اس کی زبوں حالی پر بات ہوتی ہے -یہ سطور لکھتے وقت بھی قمر دین کاریز کے
مزید پڑھیے


لویہ جرگہ ۔ افغانستان کے مسائل کی کنجی

پیر 17  اگست 2020ء
محمد حسین ہنز ل
افغانستان کو جرگوں کا ملک کہاجاتاہے کیونکہ یہ افغانوں کے ہاں اس جمہوری عمل کانام ہے جس کے ذریعے افغان کئی صدیوں سے اپنے سیاسی ، سماجی اور ریاستی معاملات حل کرتے آئے ہیں۔ بنیادی طور پرجرگہ دو طرح کے ہوتے ہیں،لوکل اور زیریںسطح کے معاملات کونمٹانے کیلئے چھوٹاجرگہ جبکہ قومی سطح کے مسائل کے حل کیلئے ’’ لویہ جرگہ‘‘(گرینڈجرگہ) بلایاجاتاہے۔لویہ جرگہ میںبہت وسیع پیمانے پر افغان وطن کے علماء ، سیاستدان ، قبائلی عمائدین اور دانشوراں ایک معاملے کا سنجیدہ اور پائیدار حل نکالنے کیلئے اس میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی تجاویز دیتے ہیں۔ افغانستان میں یوں تو
مزید پڑھیے


بلوچستان پر جعل سازوں کا راج

هفته 18 جولائی 2020ء
محمد حسین ہنز ل
میرے خیال میں اس بات پر اب پوری قوم کا اجماع ہوچکاہے کہ بلوچوں اور پشتونوں کا مشترکہ صوبہ’’بلوچستان‘‘ پسماندگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ خواندگی کی شرح اگر صوبہ پنجاب ،سندھ اور خیبرپختونخوا میں بالترتیب اکہتر ، انہتر اورساٹھ فیصد ہے تو بلوچستان میں یہ شرح مشکل سے اڑتالیس فیصد تک پہنچ رہی ہے ۔ بے روزگاری کا گویا ٹھکانہ بلوچستان ہی میں ہے اور صحت کے بنیادی وسائل کی اتنی قلت ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے مرکزی اسپتالوں میں بھی مریض کا بروقت اور تسلی بخش علاج تقریبا ناممکن ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتیں
مزید پڑھیے


اقبال کی افغانستان یاترا (2)

هفته 11 جولائی 2020ء
محمد حسین ہنز ل
افغانستان کے متمدن اورتاریخی شہرقندھار پہنچ کر ہندوستانی مہمانوں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا وہ اپنے سفر کی منزل مقصود پر پہنچ گئے ہیں۔ سیدسلیمان ندوی رقم طراز ہیں کہ ’’ قندھار پہنچتے ہی شہر کے کچھ ممتاز اصحاب ہم سے ملنے آئے جن میں خاص طور پر وزارت خارجہ افغانستان کانمائندہ متعینہ قندھاراور طلوع افغان کے ایڈیٹر عبدالحئی خان جیسے لوگ قابل ذکر ہیں۔سیرِ قندھار کے دوران اقبال اپنے دیگر ساتھیوں سمیت سب سے پہلے اس شہر کے مقدس اور تاریخی مقامۃ ’’خرقہ شریف‘‘ کی زیارت کیلئے گئے ۔ خرقہ شریف (چوغہ نبیﷺ)کے بارے میں مشہور ہے کہ
مزید پڑھیے