BN

محمد حسین ہنزل


آئیے اُوزن کی تہہ کوبچالیں


قدرت کے اس مُحیرالعقول کارخانے میں جس چیز بھی غور کرتاہوں تومجھے لامحالہ سورۃ رحمن یاد آتی ہے۔ اس مبارک سورۃ میں خدا انسان اور جنات کومتنبہ کرکے سوال کرتاہے کہ میری کس کس نعمت کا انکار کروگے کیونکہ ان کا کوئی حد وحساب نہیں ہے‘‘۔بلاشبہ عرش سے فرش تک خدا نے اپنی مخلوقات کیلئے نعمتوں ہی نعمتوں کے دسترخوان بچھائے ہیں اور اس سے مستفید ہونے والوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اِن نعمتوں کا شکر اداکرنے کے ساتھ ساتھ اس پر غور بھی کرتے ہیں۔ میں نے آج کے اس مختصر کالم میں جس عظیم
پیر 14  ستمبر 2020ء

قمردین کاریز: بلوچستان کا تَھر

جمعه 04  ستمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
میڈیامیں صوبہ سندھ کے پسماندہ علاقے ضلع تَھر کے مسائل کا ذکر جب بھی سننے کو ملتاہے تو مجھے ژوب کا دور افتادہ سرحدی علاقہ تحصیل قمر دین کاریز یاد آتا ہے۔تھَر ایک حوالے سے پھر بھی خوش قسمت ہے کہ اس کی حالتِ زار کم از کم میڈیا میں خبروں کی زینت تو اکثر اوقات بنی رہتی ہے لیکن ہمارے قمر دین کاریز کا کیا کیجئے کہ نہ اس کے مسائل حل ہونے کا نام لے رہا ہیںنہ ہی ذرائع ابلاغ میں اس کی زبوں حالی پر بات ہوتی ہے -یہ سطور لکھتے وقت بھی قمر دین کاریز کے
مزید پڑھیے


لویہ جرگہ ۔ افغانستان کے مسائل کی کنجی

پیر 17  اگست 2020ء
محمد حسین ہنز ل
افغانستان کو جرگوں کا ملک کہاجاتاہے کیونکہ یہ افغانوں کے ہاں اس جمہوری عمل کانام ہے جس کے ذریعے افغان کئی صدیوں سے اپنے سیاسی ، سماجی اور ریاستی معاملات حل کرتے آئے ہیں۔ بنیادی طور پرجرگہ دو طرح کے ہوتے ہیں،لوکل اور زیریںسطح کے معاملات کونمٹانے کیلئے چھوٹاجرگہ جبکہ قومی سطح کے مسائل کے حل کیلئے ’’ لویہ جرگہ‘‘(گرینڈجرگہ) بلایاجاتاہے۔لویہ جرگہ میںبہت وسیع پیمانے پر افغان وطن کے علماء ، سیاستدان ، قبائلی عمائدین اور دانشوراں ایک معاملے کا سنجیدہ اور پائیدار حل نکالنے کیلئے اس میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی تجاویز دیتے ہیں۔ افغانستان میں یوں تو
مزید پڑھیے


بلوچستان پر جعل سازوں کا راج

هفته 18 جولائی 2020ء
محمد حسین ہنز ل
میرے خیال میں اس بات پر اب پوری قوم کا اجماع ہوچکاہے کہ بلوچوں اور پشتونوں کا مشترکہ صوبہ’’بلوچستان‘‘ پسماندگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ خواندگی کی شرح اگر صوبہ پنجاب ،سندھ اور خیبرپختونخوا میں بالترتیب اکہتر ، انہتر اورساٹھ فیصد ہے تو بلوچستان میں یہ شرح مشکل سے اڑتالیس فیصد تک پہنچ رہی ہے ۔ بے روزگاری کا گویا ٹھکانہ بلوچستان ہی میں ہے اور صحت کے بنیادی وسائل کی اتنی قلت ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے مرکزی اسپتالوں میں بھی مریض کا بروقت اور تسلی بخش علاج تقریبا ناممکن ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتیں
مزید پڑھیے


اقبال کی افغانستان یاترا (2)

هفته 11 جولائی 2020ء
محمد حسین ہنز ل
افغانستان کے متمدن اورتاریخی شہرقندھار پہنچ کر ہندوستانی مہمانوں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا وہ اپنے سفر کی منزل مقصود پر پہنچ گئے ہیں۔ سیدسلیمان ندوی رقم طراز ہیں کہ ’’ قندھار پہنچتے ہی شہر کے کچھ ممتاز اصحاب ہم سے ملنے آئے جن میں خاص طور پر وزارت خارجہ افغانستان کانمائندہ متعینہ قندھاراور طلوع افغان کے ایڈیٹر عبدالحئی خان جیسے لوگ قابل ذکر ہیں۔سیرِ قندھار کے دوران اقبال اپنے دیگر ساتھیوں سمیت سب سے پہلے اس شہر کے مقدس اور تاریخی مقامۃ ’’خرقہ شریف‘‘ کی زیارت کیلئے گئے ۔ خرقہ شریف (چوغہ نبیﷺ)کے بارے میں مشہور ہے کہ
مزید پڑھیے



اقبالؒ کی افغانستان یاترا

بدھ 01 جولائی 2020ء
محمد حسین ہنز ل
لاہور اور کابل کے درمیان کئی دہائیوں پرمشتمل تنائو کے ماحول نے نہ صرف ان دو مسلم مملکتوں کے امن اور اکانومی کو نقصان پہنچایاہے بلکہ خدانخواستہ یہی تنائو برقرار رہا تو مستقبل میں یہ مزید خرابیوں کاباعث بن سکتاہے۔جنوبی ایشیاء کے یہ دونوں مسلم ممالک اگر ایک دوسرے کوخلوص دل سے تسلیم کر کے باہمی برادرانہ تعلقات استوار کرنے کا تہیہ کرلیں توپھر قابل رشک حد تک یہ دونوں امن اور خوشحالی کاگہوارہ بن سکتے ہیں۔میں جب بھی اسلام آباد اور کابل کے حکمران طبقے کے بیچ ’’ مَن مَن اور تُوتُو‘‘ کی کیفیت دیکھتاہوں تو مجھے مرحوم محمد
مزید پڑھیے


مثالی پولیس کی مثالی سزا

هفته 27 جون 2020ء
محمد حسین ہنز ل
ہم رائو انوار کے مظالم کارونا رو رہے تھے لیکن عامر تہکالی نامی نوجوان لڑکے کی عزت نفس کا جنازہ نکال کر پشاور پولیس نے رائوانوار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔رائو انوار نے کراچی میں جعلی پولیس مقابلوں کے دوران نقیب اللہ محسود سمیت سینکڑوں بے گناہ لوگوں کوبے دردی سے قتل کرکے یہ پیغام دیا تھاکہ پولیس کہیں بھی اورکسی وقت بھی ایک بے گناہ انسان کوجان سے مارسکتی ہیں ۔تاہم پچھلے دنوں پشاور میںعامر تہکالی کی عزت پر حملہ کرکے مملکت خداداد کی پولیس نے یہ ثابت کردیا کہ اس وردی میں ملبوس اہلکار بے گناہ انسان کی
مزید پڑھیے


بنتِ حوا! ہم شرمندہ ہیں…

منگل 23 جون 2020ء
محمد حسین ہنز ل
بظاہر تو ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایک مسلمان معاشرے کا حصہ ہیں -لیکن ہم اگرچند سیکنڈ کے لئے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت فرمالیں تو یہ حقیقت بہت جلد ہم پرعیاں ہو جائے گی کہ ہم ہر حوالے سے قابل رحم مسلمان ہیں ۔ ہمسایوں کے حقوق ، شفاف لین دین ، اخوت ، سچائی اور دیانت کی دھجیاں اڑانے میں ہم ویسے بھی طاق ہیں لیکن حوا کی وہ بیٹی بھی ہم سے سنبھال نہیں ہو پارہی جو ایک بیوی کی صورت میں ہمارے گھر وں کی ایک وفادار نگران کا فریضہ سر انجام
مزید پڑھیے


محو حیرت ہوں کہ دنیا

اتوار 14 جون 2020ء
محمد حسین ہنز ل
انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے آنے سے پہلے ہماری دنیا ایک مستورالحال دنیا تھی ۔ ایک علاقے کے لوگوںکے رسم ورواج اور طرز معاشرت دوسرے علاقے کے لوگوں پر آشکار نہیںتھی ۔ہم نے نام تو بے شمار مذاہب کا سناتھا لیکن اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے نظریات ہم نابلد ہوتے تھے۔ہمارے بیچ بس وہی زیادہ باخبروہی لوگ ہوتے تھے جو کتابوں ، اخبارات یا ریڈیو کے ذریعے دوسری دنیا کے لوگوں کے مذہب اور طرز معاشرت کے بارے میں کچھ پڑھتے یاسنتے تھے ۔ کیمرے کی آنکھ ہر جگہ موجودنہیں تھی
مزید پڑھیے


ایک بے حِس قوم کا کورونا سے مقابلہ

جمعرات 11 جون 2020ء
محمد حسین ہنز ل
کورونا کے مہلک وائرس کے ہاتھوں دنیا بھر میں جانی اور معاشی نقصانات کا سلسلہ تھمنے کی بجائے بدستورجاری ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ آفت مزید کتنی انسانی جانوں کو نگل لے گی اور دنیاکومزیداس سے کتنے ٹریلین ڈالر کا مالی نقصان ہوگا۔ترقی پذیر ملکوں میں چند ایک ممالک کے سوا باقی ملکوں میں اس وبا سے نقصانات ضرور ہوئے ہیں تاہم یورپ اور امریکہ کی نسبت یہ نقصانات اب بھی بہت کم ہیں۔لیکن بدقسمتی سے ان چند ملکوں میںپاکستان بھی اب شامل ہوگیاہے جہاں ہرروز سترسے سوافرادکے درمیان لوگ ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں متاثر ہورہے ہیں۔ پاکستان
مزید پڑھیے