BN

محمد حیدر امین


مضبوط زرعی ملک یا مفلوک زرعی ملک


پاکستان کی ہمیشہ سے پہچان ایک زرعی ملک کے طورپر رہی ہے،ملک کا 28 فیصد رقبہ زرعی اراضی پر مشتمل ہے،اس ملک میں چار موسم ہیں،ربیع اور خریف کی فصلیں سونا اور چاندی کہلاتی ہیں،کپاس چاندی اور گندم کو سونا کہا جاتا ہے پاکستان کی 45 فیصد آبادی براہ راست کاشتکاری سے منسلک ہے،مجموعی قومی پیدار میں زراعت کا حصہ 21 فیصد ہے یعنی زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کوئی وقت تھا کہ پاکستان ایک زرعی قوت تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے،ان دنوں زرعی معیشت بحران کا شکار ہے،چینی اور گندم ایکسپورٹ
جمعه 20 نومبر 2020ء

حکومت عوام کے غصے کی فکر کرے

جمعه 13 نومبر 2020ء
محمد حیدر امین
پاکستان میں معاشی ترقی کی پیمائش کیلئے غربت میں کمی‘ بیروزگاری میں کمی‘ دولت کی عدم مساوات کی بنیاد پر دنیا میں رائج کسی بھی قدر آلہ پیمائش چاہے وہ بنیادی ضروریات کا نظریہ ہو‘ معیار زندگی کا انڈکس ہو‘ فلاح و بہبود کا پیمانہ معاشی ترقی ہو‘یا انسانی ترقی کا انڈکس ہو تو ہمیں معلوم ہوگا کہ عوام غربت کے منحوس چکر میں بْری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ عوام کی اکثریت کو نہ تو پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہے اور نہ ہی انہیں تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا اور پہننے کیلئے صاف پانی میسر ہے،معاشی ترقی سے مراد ایسا
مزید پڑھیے


عام آدمی کو ریلیف کب ملے گا

جمعه 06 نومبر 2020ء
محمد حیدر امین
وزیراعظم عمران خان نے ملک میں صنعتکاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لئے ہر قسم کی صنعتوں کے لئے بجلی کے ’ ’پیک آور‘ نرخ ختم کرنے اور اضافی بجلی کے استعمال پر 25 فیصدرعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔چھوٹی صنعتوں کوپچھلے سال کے مقابلے میں اضافی بجلی استعمال کرنے پر50 فیصد رعایت دی جا ئے گی جبکہ تمام صنعتوں کو اگلے تین سال تک اضافی بجلی 25 فیصد کم ریٹ پر فراہم کی جائے گی اور کوئی پیک آور نہیں ہوگا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پیکیج کے اعلان سے صنعتی ترقی میں اضافہ
مزید پڑھیے


ایف اے ٹی ایف۔ پاکستان کی آزمائش

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
پاکستان بلیک لسٹ میں جانے سے تو بچ گیا لیکن گرے لسٹ سے جان نہیں چھڑا سکا۔گرے لسٹ دراصل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ایک وقتی یا عبوری فہرست ہوتی ہے، جس میں ان ممالک کو رکھا جاتا ہے، جن پرمنی لانڈرنگ نہ روکنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جونہی یہ اندیشہ دور ہو جائے، ملک کا نام فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور زیرِ نگرانی یعنی 'گرے لسٹ' میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ادارے کے صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جن 27 سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کہا گیا تھا ان
مزید پڑھیے


نیا پاکستان انقلابی فیصلوں کا منتظر ہے

جمعه 23 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
وزیراعظم نے ایک روزہ دورہ لاہور کے دوران مہنگائی کا ایک بار پھرسخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔ گندم اور اشیائے ضروریہ کی خریداری کو منصوبہ بندی کے تحت یقینی بنایا جائے تا کہ مہنگائی نہ ہو۔ عوام کے لیے ہونے والی مہنگائی کی وجہ سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔وزیراعظم کے بار بار نوٹس لینے کے با وجود ملک میں مسلسل ساتویں ہفتے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔یہ وزیر اعظم کا گیارہواں نوٹس تھا، جس کے بعدگزشتہ ایک ہفتے میں چینی، آٹا،مرغی،انڈے
مزید پڑھیے



کیاسب اچھا ہے؟

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
کئی دہائیوں سے پاکستانی معیشت کو ایک طرف قرضوں اور سود کی ادائیگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کمر توڑ رہا ہے،دوسری جانب کالے دھن کی معیشت اسے اندر سے کھائے چلی جا رہی ہے۔ماہرین معیشت کے پاس معیشت کو اس سود کے چنگل سے نکالنے کا کوئی حل نہیں ۔73برس میں کئی حکومتیں بدل چکیں بہت سے وزرائے خزانہ اپنی باریاں لگا چکے لیکن نہ تو محنت کشوں کی حالت بہتر ہو ئی نہ ہی ملک سے قرضوں کا بوجھ اتر سکا۔کالے دھن کے معیشت میں سرایت کر جانے کی وجہ سے جہاں معیشت کا کردار
مزید پڑھیے


رکاوٹ کہاں ہے؟

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
کسی بھی ملک کی معاشی بہتری جانچنے کے دو پیمانے ہوتے ہیں‘ لوگوں کی انکم بڑھ جائے یا عام استعمال کی چیزیں سستی ہوں۔وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے یہی کہتے رہے ہیں کہ غریبوں کا معیار زندگی بلند اور غربت ختم کرنی ہے۔ وہ اس سلسلے میں ہمیشہ چین کی مثال دیتے ہیں،چین70کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکال چکا ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیر اعظم نے 2سنہری خواب دکھائے۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا دعویٰ ،اس تواتر سے ہوا کہ لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دے
مزید پڑھیے


سفر جاری ہے

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
قومی اور بین الاقوامی اقتصادی اشاریوں کے مطابق پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب رواں دواں ہے لیکن اس کی مکمل بحالی میں ابھی وقت لگے گا۔ حکومت کا پہلا سال تو یہ دیکھنے میں گزر گیا کہ پچھلی حکومتوں نے جو قرضے لیے انہیں واپس کیسے کیا جائے۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن حکومت نے کسی نہ کسی طرح قرضے واپس بھی کئے اور ملک بھی چلایا لیکن اس دوران معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے۔مہنگائی بڑھی‘ مزید قرضے لئے گئے، یہی وجہ تھی کہ ٹیکس کے جو اہداف رکھے گئے تھے وہ پورے نہ ہو
مزید پڑھیے