BN

محمد حیدر امین


انرجی ایمرجنسی کی ضرورت


پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی صورتحال سنبھل نہیں پا رہی۔ ڈالر اوپر جا رہا ہے اسٹاک مارکیٹ گرتی چلی جا رہی ہے اورمہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت مہنگائی 30 فیصد کے قریب ہے اور فی الحال کوئی سرا نظر نہیں آرہا کہ صورتحال بہتر ہو۔ پچھلے دو تین مہینوںسے صورتحال زیادہ خراب ہو گئی ہے- ابھی یکم اگست کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پر 10روپے اضافہ کرنا ہو گا۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم نہ ہوئیں توتیل کی قیمتیں مزید بڑھانا پڑینگی۔ بجلی کے ٹیرف بڑھانے ہیں، گیس کے نرخ بڑھنے
جمعه 29 جولائی 2022ء مزید پڑھیے

تشویشناک معاشی صورتحال

جمعه 22 جولائی 2022ء
محمد حیدر امین
ملکی معیشت کی صورتحال میں دن بدن تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے،مارکیٹ سے مسلسل منفی خبریں مل رہی ہیں،ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور روز بروز ہو رہی ہے۔ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے،اس وقت ڈالر 228 تک جا پہنچ چکا ہے ۔شہباز حکومت کو تین ماہ ہو چکے اس دوران پٹرول بڑھا، ڈیزل بڑھا، ڈالر بڑھا، گیس بڑھی، بجلی بڑھی لیکن معیشت نہ سدھری۔ موجودہ حکومت کے دوران ڈالر اب تک40روپے بڑھ چکا ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے جتنی بھی
مزید پڑھیے


عوام کی حکومت سے غربت‘ مہنگائی کم کرنے کی توقع

جمعه 20 مئی 2022ء
محمد حیدر امین
پاکستان میں کئی ناقدین بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے یہ بل مزید بڑھ گیا ہے۔ ''پیٹرولیم مصنوعات کا بل سات اعشاریہ پانچ بلین ڈالر سے 15 بلین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔ اور یہ صرف مالی سال 2022 کے پہلے نو مہینوں کی کہانی ہے۔ دسویں مہینے میں ہمارا تجارتی خسارہ اور بھی بہت بڑھ گیا ہے، جو تقریباً 40 بلین ڈالرز کے قریب ہو گیا ہے-پاکستان کی برآمدات 1990 میں جی ڈی پی کا سولہ فیصد تھیں،
مزید پڑھیے


کیا نجکاری درست اور بہتر فیصلہ ہے

جمعه 25 فروری 2022ء
محمد حیدر امین
پاکستان کا تجارتی خسارہ یعنی امپورٹ اور ایکسپورٹ بہت بڑا معاشی سر درد بنتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر پر بوجھ پڑ رہا ہے۔ امپورٹ ایکسپورٹ میں فرق بڑھتا جا رہا ہے، تجارتی خسارہ میں اس مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 106 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ ساڑھے25 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ ہم وہ چیزیں امپورٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک پر بوجھ بڑھ رہا ہے ہمارا ملک اس قسم کی پر تعیش اشیا کو امپورٹ کو ایفورڈ نہیں کرسکتا ۔مثال کے طور پر پہلے چھ ماہ
مزید پڑھیے


عوام کو کیا ریلیف ملا؟

جمعه 11 فروری 2022ء
محمد حیدر امین
لوگوں اور ماہرین معاشیات کے تحفظات ڈراور خدشات درست ثابت ہوئے ‘آئی ایم ایف نے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کو تعمیراتی سرگرمیوں پر اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے وزیر اعظم کی سستے گھر اسکیم کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ جو سب سڈی دی جا رہی ہے ‘وہ ختم کی جائے‘ دوسری جانب ورلڈ بینک وزیر اعظم کی سستے گھر اسکیم کو سپورٹ کر رہا ہے۔نہیں لگتا کہ وزیر اعظم یہ دبائو قبول کرینگے کیونکہ وزیر
مزید پڑھیے



کشکول سنبھال کر رکھنا ہوگا

جمعه 28 جنوری 2022ء
محمد حیدر امین
پاکستانی خزانہ اور اس سے منسلک معیشت کی حالت اس وقت تشویشناک ہے۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں بجٹ خسارہ1800ارب روپے ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ خسارہ29 فیصد بڑھ چکا ہے یعنی ہمارا خرچہ آمدن سے زیادہ ہے ۔اس بار یہ خرچہ مزید بڑھ گیا ہے ۔حکومت کی طرف سے ترقیاتی اخراجات کم کئے گئے ہیں ۔9سو ارب ترقیاتی اخراجات تھے ،جو اب 700 ارب کر دیے گئے یعنی 200 ارب کم کردیے گئے ۔ریونیو کے نئے اہداف حاصل کئے گئے ہیں ۔حکومت اپنی آمدن میں اضافے کیلئے کوشش کر رہی ہے لیکن اخراجات قابو
مزید پڑھیے


نیا سال نئے چیلنج

جمعه 07 جنوری 2022ء
محمد حیدر امین
پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضے تشویش ناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ادارے اربوں روپے کے خسارے پر چل رہے ہیں۔امیر اور غریب کے درمیان فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا سکا۔ جس کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ ہر سال بڑھتا ہی رہا ہے۔ مستحکم معیشت کی دو بنیادیں صنعت اور زراعت کی پیداوار زوال پذیر رہی ہے۔ ماضی کی ناکام معاشی پالیسیوں کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے بھی مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔ پاکستان
مزید پڑھیے


آئی ایم ایف معاہدہ :کوئی شرط پاکستان کے حق میں نہیں

جمعه 24 دسمبر 2021ء
محمد حیدر امین
پاکستان آئی ایم کی شرائط پوری کرنے کیلئے مسلسل تیاریاں کر رہا ہے اسی لئے خبریں یہ ہیں کہ پاکستان کو اس مالی سال میں اپنے محصولات میں مزید350 ارب روپے کا اضافہ کرنا ہے یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب مختلف اشیا میں جو ٹیکس کی چھوٹ ہے انہیں ختم کردیا جائے اور بہت سی اشیا ایسی ہیں جن میں سیلز ٹیکس نہیں ہے ان میں 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جا جا رہا ہے کہ سیلز ٹیکس کا اطلاق عام استعمال کی چیزوں پر بھی ہو گا اسی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ مہنگائی کا
مزید پڑھیے


روشنی کی کرن

جمعه 10 دسمبر 2021ء
محمد حیدر امین
پاکستانی عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ ایک ہی خواہش کرتے ہیں کہ کسی طرح پاکستان میں مہنگائی کم ہو جائے نہ صرف عوام بلکہ حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ مہنگائی کم کرنے کا کوئی سرا ہاتھ جائے۔ اس پریشان کن لمحات میں تھوڑی سی روشنی دکھائی دی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں جو ان حالات میں خدائی سہارے سے کسی صورت کم نہیں دنیا بھر کیلئے یہ اچھی خبر ہے لیکن پاکستانیوں کیلئے اس سے اچھی خبر فی الحال نہیں ہو سکتی ۔پچھلے ہفتے امریکہ اور چین سمیت چند
مزید پڑھیے


نچلے طبقے کی آمدن میں اضافہ ضروری

جمعه 03 دسمبر 2021ء
محمد حیدر امین
وطن عزیز میں اس وقت مہنگائی عروج کو چھو رہی ہے۔ اشیاء خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں اور عوام الناس اس میں اپنے ا پنے زاویہ فکر وسوچ کے لحاظ سے تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔ مہنگائی سے مراد ہے اشیاء کی قیمتوں کا آمدن کے مقابلے میں بڑھ جانا یعنی آمدن اتنی ہی رہے یا اس نسبت سے نہ بڑھے جس نسبت سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں۔معاشیات کی زبان میں اس کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ زر کی بہت زیادہ مقدار کے مقابلے میں اشیاکی بہت تھوڑی مقدار کا حاصل ہونا۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں