محمد عامر خاکوانی

ڈیجیٹل میڈیا کا نیا فیز

اتوار 20 مئی 2018ء
اخبارات آن لائن ہونے کے فائدے بھی ہوئے ہیں اور اکا دکا نقصان بھی سامنے ا ٓرہا ہے۔ پہلے عام طور پر ایک اخبار کا قاری برسوں تک بلکہ کبھی تو تاحیات وہی اخبار پڑھتا رہتا تھا۔ دفتر میں یا کسی کے گھر کوئی اور اخبار دیکھ لیا تو دیکھ لیا، ورنہ اس کا مبلغ علم اس کے پسندیدہ اخبار کے رپورٹروں کی خبروںاور کالم نگاروں کے کالموں تک محدود تھا۔ اب ہر اخبار آن لائن ہے، لوگ دفتر کے ڈیسک ٹاپ ، لیپ ٹاپ یا پھر اپنے سمارٹ فون کی مدد سے دیگر اخبارات بھی دیکھ لیتے ہیں۔ خاص
مزید پڑھیے


رمضان ریزولوشن

جمعه 18 مئی 2018ء
ہریکم جنوری سے پہلے میرے جیسے بے شمار لوگ نئے سال کے حوالے سے کئی عہد اور کمٹمنٹ کرتے ہیں۔ اسے نیوائیر ریزولوشن کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میںسب سے زیادہ عہد وزن کم کرنے کے کئے جاتے ہیں، لوگ اپنے آپ سے وعدے کرتے ہیں کہ اس سال ہم وزن گھٹائیں گے، کئی کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، میری طرح کی مثالیں زیادہ ہیں جن کا وزن چند کلو مزید بڑھ جائے۔اسی طرح سگریٹ چھوڑنے کا بھی بہت لوگ ارادہ کرتے ہیں، ایسے لوگ یقینا ہیںجوا پنے عہد پر قائم رہتے ہوئے زندگی بھر سگریٹ نہیں پیتے ، مگر
مزید پڑھیے


تولے گئے، ہلکے ثابت ہوئے

منگل 15 مئی 2018ء
پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ خاکسار کسی پر غداری کا لیبل لگانے کے قطعی حق میں نہیں۔ یہ ہمارا کا م نہیں۔حب الوطنی یا غیر محب الوطن کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا اخبارنویسوں کامعاملہ ہرگز نہیں۔ اس کے لئے ادارے موجود ہیں، عدالتیں آزاد اور نہایت فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ کسی پر الزام ہے تو قوانین موجود ہیں، ان کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،عدالت ہی الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین کر سکتی ہیں۔ صحافیوں کو اس بلیم گیم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ہاں ایشوز پر اپنانکتہ نظر بیان کرنا چاہیے۔ یہ
مزید پڑھیے


ایک غیر سیاسی لوک کہانی

اتوار 13 مئی 2018ء

سیاسی گرماگرمی چل رہی ہے، ایک دن میں دو دو تین تین جلسے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں سیاسی کالم ہی لکھنے پڑتے ہیں،منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے مگر ہم نے آج ایک لوک کہانی کا انتخاب کیا۔ معین نظامی صاحب فارسی زبان کے ممتاز سکالر، محقق ہونے کے ساتھ عمدہ شاعر اور متین دانشور ہیں۔اسی ہفتے ان کے چار شعری مجموعوں پر مشتمل کلیات بھی شائع ہوئی ہے۔معین نظامی کی سنجیدہ، فکر افروز تحریریں مختلف علمی، ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ نظامی صاحب ہمارے چینل کے مقبول مارننگ پروگرام’’ صبح نور‘‘ میں اکثر بیشتر شریک  ہوتے
مزید پڑھیے


جنوبی پنجاب صوبہ محاذنے کیا کھویا، کیا پایا

جمعه 11 مئی 2018ء

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی الگ پلیٹ فارم سے جدوجہد پہلے مرحلے پر ہی دم توڑ گئی، اس کے تمام عہدے دار اور ارکان اسمبلی پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس پر ہر ایک کی اپنی رائے ہوگی۔ تحریک انصاف کے حامی تو اسے تمت بالخیر (A Good End)ہی کہیں گے۔تحریک انصاف کی حریف جماعتیں ظاہر ہے اس فیصلے سے ناخوش اور برہم ہیں۔ سب سے شدید جھنجھلاہٹ اور تلملاہٹ مسلم لیگ ن کے اندر نظر آئی۔ میاں نواز شریف نے گزشتہ روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں خاصے سخت، چبھتے ہوئے طنزیہ جملے کہے۔ دو
مزید پڑھیے


اصل پریشانی کچھ اور ہے

منگل 08 مئی 2018ء

میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو کم از کم ایک کریڈٹ تو دینا پڑے گا کہ یہ پروپیگنڈہ وار کے ماسٹر ہیں۔ اپنے حوالے سے سنہری دھند میں لپٹا ایسا امیج بناتے ہیں کہ لوگ دم بخود، حیرت زدہ آنکھیں کھولے تکتے رہ جاتے ہیں ۔ سیاسی مخالفوں کے بارے میں ایسی ہنرمندی اور مہارت سے سیاہی آمیز پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ بے چارے بعد میں خواہ جتنا شور مچائیں، ان کی ایک نہ سنی جائے اور عوامی حلقوں میں ان کا مسخ شدہ مخصوص تاثر قائم ہوجائے ۔نوے کے عشرے میں مسلم لیگ نے یہ
مزید پڑھیے


پاکستان کو لیڈر چاہیے یامینیجر؟

جمعه 04 مئی 2018ء

عمران خان کی تقریر پر تبصرے، تجزیے ابھی چل رہے ہیں۔ سیاسی مخالفوں نے اپنے انداز میں گرہ لگائی، میاں نواز شریف نے تو لاہوری سٹائل کی ہلکی پھلکی جگت لگائی البتہ رانا ثنااللہ اور عابد شیرعلی نے ناشائستگی اور بدتہذیبی کی انتہا کر دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب، میاں شہباز شریف نے اپنے صوبائی وزیر کی بدزبانی کی معذرت کی ،مگر سچی بات ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ میاں نوازشریف کی ایک خوبی خاص طور سے بیان کی جاتی ہے کہ انہوںنے سیاست میں ارتقائی سفر طے کیا اور اگرچہ نوے کے عشرے
مزید پڑھیے


جلسہ اہم، تقریر غیر معمولی

منگل 01 مئی 2018ء

اتوار کی شام لاہور میں عمران خان کو دوبڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔وہ مینار پاکستان گرائونڈ میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب رہے۔تعداد کے لحاظ سے بہت بڑا اور متاثر کن جلسہ۔عمران خان کا اصل مقابلہ سات سال پہلے ان کے تیس اکتوبر2011 کو ہونے والے جلسہ سے تھا۔پانامہ کیس کے سپریم کورٹ میں سنے جانے سے پہلے عمران خان نے لاہور کی حدود میں مگر شہر سے تھوڑا باہراڈہ پلاٹ، رائے ونڈ روڈ پرخاصا بڑا جلسہ کیا تھا،مگر مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا ایک اور ہی نفسیاتی تاثر ہے۔ پی ٹی آئی کے بعض حامیوں کو خدشہ تھا
مزید پڑھیے


مثبت اقدام جسے سراہنا چاہیے

هفته 28 اپریل 2018ء

اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا، ہر جگہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے چند الفاظ میں سے ایک اسٹیبلشمنٹ ہے۔ ہمارے ہاںاس لفظ کی اکثر گردان ملتی ہے، پرو اسٹیبلشمنٹ ، اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاحات بھی بہت استعمال کی جاتی ہیں۔پاکستان میں عام طور پر اسٹیبلشمنٹ سے مرادفوج اور ایجنسیاں لی جاتی ہیں، اگرچہ اس اصطلاح کی کلاسیکل تعریف میںکبھی صرف فوج مراد نہیں لی جاتی۔ اس میں ٹاپ بیوروکریسی کے علاوہ ملک کے چوٹی کے بزنس مین اور ایک سطح پر میڈیا بھی شامل ہے۔ایک لحاظ سے یہ اعلیٰ ترین سول، ملٹری، کاروباری اشرافیہ کا امتزاج ہے۔ قومی
مزید پڑھیے


جنوبی پنجاب صوبہ کیوں بنانا چاہیے؟

جمعه 20 اپریل 2018ء

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبہ تحریک چلانے کا اعلان کیا تو اس نعرے کے حوالے سے ہمارے ہاں پھر وہی بحثیں شروع ہوگئیں، جن پر برسوں پہلے لمبے چوڑے سوال جواب ہوچکے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب کی تقسیم اور چھوٹے صوبے بنانے کا کیس اس قدر مضبوط ، مدلل اور ٹھوس ہے کہ اس کے خلاف دلائل دینا بچکانہ کاوش
مزید پڑھیے