BN

ملیحہ ہاشمی


صحافتی اقدار کا جنازہ!!


"بادشاہ کا وزیر کون؟ جی حضور، جی حضور"۔ یہ ہمارے بچپن میں سب سے زیادہ مقبول کھیل کا مشہور فقرہ ہوا کرتا تھا، جسے ہم بچپن میں تو محض کھیل ہی گردانتے تھے لیکن جیسے ہی ہوش سنبھالا تو اقتدار کے ایوانوں کو اس کی زندہ جاوید مثال کے مصداق پایا۔ہر دور میں ہم نے دیکھا کہ حکومت خواہ کسی بھی جماعت کی کیوں نہ ہو، ہر صحیح، غلط، نیم صحیح، نیم غلط فیصلے پر ہمیں "جی حضور" کہنے والے سیاسی کردار ترقی کی منازل سرعت سے طے کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان میں کچھ سیاسی وزیر ہوا کرتے تھے
اتوار 22 نومبر 2020ء

پاکستان کا بیانیہ جیت گیا!!

اتوار 15 نومبر 2020ء
ملیحہ ہاشمی
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا زندگی کا سفر بھی عجیب ہے۔ انسان یہ تو یاد رکھتا ہے کہ اس کا کون سا حق کس نے ادا نہ کیا لیکن یہ بہت آسانی سے فراموش کر دیتا ہے کہ اس نے کس کس کا حق ادا کرنے میں کہاں کہاں کوتاہی برتی۔ اب پاکستان کی سیاست کی ہی مثال لے لیجئے۔ ہم آئے دن سیاستدانوں سے یہ سنتے رہتے ہیں کہ پاکستان نے ان کو کیا نہیں دیا۔ پاکستانی عوام کو ان کی مزید تابعداری کیسے کرنی چاہئے اور بلخصوص پاکستان
مزید پڑھیے


خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوئہ دانش فرنگ

اتوار 08 نومبر 2020ء
ملیحہ ہاشمی
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر شاعرِ مشرق، علامہ اقبال نے آج سے 143 سال قبل سیالکوٹ میں جنم لیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ صدیوں تک اپنی سوچ اور فکری قابلیت کی شمع جلا جائے گا۔ اپنی نوجوان نسل کی سمت درست کرنے اور قوم کو اپنی مشرقی روایات کو سمجھانے اور مغرب سے بیجا مرعوب نہ ہونے دینے کے لئے سرگرم رہے گا۔ اقبال اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس مٹی کی خدمت میں صرف کر گئے۔ ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا، اپنی
مزید پڑھیے


معاف کیجیے گا، زبان پھسل گئی

اتوار 01 نومبر 2020ء
ملیحہ ہاشمی
معاف کیجئے گا زبان پھسل گئی تھی۔ کیا کیجئے صاحب، آج کل کا دور ہی ایسا ہے کہ یہ کمبخت زبان بے لگام گھوڑے کی مانند ذاتی مفادات اور قومی مفاد کی جنگ میں بار بار بے قابو ہو کر اپنے ہی نشیمن پر بجلیاں گرانے کے درپے ہے۔ خود کو سرزنش کرنے کا سوچا تو دل نے دلاسہ دیا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ آج کل زبان پھسلنا ہر دوسرے بندے کا سیاسی مشغلہ ٹھہرا۔ گزشتہ ہفتے اویس نورانی کے بلوچستان کو الگ ریاست بنانے کے بھارت پسند مطالبے اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی، سردار ایاز صادق کے پلوامہ
مزید پڑھیے


الٹا چو ر کوتوال کو ڈانٹے!!!

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
ملیحہ ہاشمی
سیاست دوستو ایک ایسا میدان ہے جس پر دوڑنے والے گھوڑے کبھی بھی سو فیصد دوستانہ مراسم پر نہیں دوڑ سکتے اور جہاں دوڑتے ہیں، اسے کچھ بھی کہا جا سکتا ہے، "سیاست" نہیں۔ پاکستان میں پچھلے 73 سال میں سیاست نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ جو کبھی بادشاہ "تخت نشیں" کی صورت دکھتے تھے، وہ اسمبلی کی شکل دیکھنے کو ترستے ہوئے بھی پائے گئے۔ اونچ نیچ زندگی کا حصہ اور سیاست کا ازلی مقدر ہوا کرتی ہے۔لیکن اگر پاکستان کی موجودہ صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو نتیجہ بدبودار سازشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک
مزید پڑھیے



ابن مریم ہوا کرے کوئی

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
ملیحہ ہاشمی
ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ ’’غلط‘‘ کہتے ہیں۔ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا نہیں، ہونا چاہئے۔ پاکستان کی سیاست شطرنج کی ایسی دلچسپ بازی ہے کہ کل کے حریف آج مہرباں ٹھہرے۔ کل تک ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور ایک دوسرے کے گریباں چاک کرنے کے خواہاں، ایک دوسرے پر کرپشن کیسز بنانے والے آج ایک دوسرے کو بچانے کی تگ و دو کرتے پریشان حال دکھائی دیتے ہیں۔کل تک عوام کو ایک دوسرے کے پتے کاٹنے والے آج ایک کشتی میں سوار
مزید پڑھیے