BN

ناصرمحمود


قِصّہ ایک عطرِ کم یاب کا


مجھے آج وہ بابا جی یاد آرہے ہیںجو جامع مسجد میں نمازیوں کو عطر لگایا کرتے تھے۔۔بھئی بظاہر بھلا سا لیکن کیا وحشت ناک انداز تھا اُن بابا جی کا۔۔یہ تذکرہ ہمارے سابقہ محلّے کا ہے جہاں ہم کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ اب سچ پوچھئے تو اس محلے کو چھوڑنے کا سبب بھی یہی نیک سیرت مردِبزرگ ہی تھے۔ محلے کے بیچ میں جامع مسجد واقع تھی جہاں ہم جمعہ پڑھنے کے لئے حاضر ہوتے۔یہ بزرگ بڑی باقاعدگی سے وہاں تشریف لاتے۔ان کے پاس ہمیشہ رنگین کڑھائی داررومال میں لپٹی ایک چھوٹی سی عطّرکی شیشی ہوتی۔یہ صاحب
پیر 05 اپریل 2021ء

بادہ نوشی ہے بادہ پیمائی

هفته 03 اپریل 2021ء
ناصرمحمود
وطنِ عزیز میں موسمِ بہار بھی کسی غریب کی جوانی کی مانند آتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا اور گزر جاتا ہے۔ ایک تو موسمِ سرما اور گرما میں گھرے اس موسم کا عرصہ چند ایّام میں محدود ہوتا ہے یعنی صرف چند ہفتے ۔۔ اور دوسرے آج کی مصروف زندگی اور خاص طور پر چند حقیقی اور زیادہ تر خود ساختہ مسائل و تفکّرات کے انبار کی موجودگی میں کسے فُرصت ہے کہ وہ موسمِ بہار کی لطافتوں اور رنگینیوں سے لُطف اندوز ہو سکے۔ بیزار طبعوں کو تو ویسے بھی موسمِ گُل کی اٹھکیلیاں کب راس
مزید پڑھیے