ڈاکٹر طاہر مسعود

سفر سے سیاست تک

پیر 21 مئی 2018ء
سفر کو وسیلہ ظفر یوں یہ تو نہیں کہا گیا کوئی نہ کوئی وجہ تو رہی ہوگی۔ ہمارے تارڑ صاحب کی ساری شہرت و ناموری اسی دور دراز کی مہم جوئی اور سفر ہی کی بدولت ہے۔ ہمیں یاد ہے ملک کے ایک مشہور ہفت روزے میں مدتوں پہلے، تارڑ صاحب کے سفر ناموں کے منظر عام پہ آنے سے بھی پہلے ایک صاحب کے جن کی تصویر کے ساتھ ان کے سفر نامے چھپنے شروع ہوئے تھے۔ تصویر میں وجیہہ و شکیل دکھتے تھے، نام بھی غالباً وجاہت علی تھا، اسم باسمہ تھے۔ یہ سفر نامہ پڑھنے والوں میں
مزید پڑھیے


چند روز دارالحکومت میں

جمعه 18 مئی 2018ء
ماہ صیام میں دو روز قبل ہم دارالحکومت کے نئے کشادہ ایئر پورٹ پر اترے تو آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا اور بارشوں نے موسم کو دل فریب بنا دیا تھا۔ سڑکیں بھیگی ہوئیں اور فضا میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو رچی بسی تھی۔ اخباری صفحات پہ اور ٹی وی چینلوں پہ سیاسی بیانات کی گھن گرج اور تجزیوں کا جو طوفان بپا رہتا ہے۔ اسلام آباد کی روز مرہ کی زندگی اس کے برعکس اوپر سے پرسکون اور شانت سی نظر آتی ہے۔ یہاں اولین ملاقات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی سے
مزید پڑھیے


غدّار کون؟ محب وطن کون؟

بدھ 16 مئی 2018ء
یہ شکوہ اکثر کیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں بڑی آسانی سے کسی کو بھی غداری کا سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ اچھی بات نہیں۔ فتویٰ کفر کا ہو یا سرٹیفکیٹ غداری کا‘ بنا تحقیق و تفتیش کے کسی کو بھی مورد الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے لیکن کیا یہ سوال قابل غور نہیں کہ غدار عموماً ’’ہم مسلمانوں ہی میں کیوں اور کیسے پیدا ہو جاتے ہیں؟ اس خطے میں انگریزوں نے مسلمان غداروں ہی کی مدد سے اپنی حکومت قائم کی۔ ہندوستان کو ہندوستان ہی کی تلوار سے فتح کیا۔ اور
مزید پڑھیے


زندگی سے تو مہرباں ہو گی

اتوار 13 مئی 2018ء
ایک آدمی کو کتنا جینا چاہیے؟ چاہتا تو یہ ہے کہ ہمیشہ جیے اور کبھی موت نہ آئے۔ فراعنہ مصر نے اپنی لاشوں کو اسی لیے حنوط کرایا تھا کہ دوبارہ جی اٹھیں گے اور امریکہ و یورپ کے بہت سے امیر کبیر لوگوں نے اس خوش گمانی کی بنا پر کہ جب انسان موت کو تسخیر کر لے گا‘ ان بیماریوں کا علاج دریافت کر لے گا‘ جس کے سبب سے انہیں موت آئی تو امکان ان کے زندہ ہو جانے کا روشن ہے۔ اپنی میتوںکو محفوظ کرا لیا ہے۔ لیکن عالمی شہرت یافتہ ماہر نباتیات اور سائنس داں
مزید پڑھیے


نجات دیدہ و دل کی گھڑی آنے والی ہے؟

جمعه 11 مئی 2018ء

یوں تو اس بدنصیب ملک کا کون ہے جو مقروض نہیں ۔ لیکن سب سے بڑا اور پہلا قرض عدالت عالیہ کے ذمے تھا سو لگتا ہے کہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب عدلیہ عظمیٰ قوم و ملک سے یہ فخر و انبساط کہہ سکے گی کہ وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا۔ تو یہ جو چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر جج صاحبان جن جن شخصیات اور اداروں سے حساب لے رہے ہیں اور بہت صحیح طور پر لے رہے ہیں۔ یہ اصل میں اپنا حساب چکانے ہی کی بے غرضانہ
مزید پڑھیے


میڈیا اور انسان:ایک معما ہیں

بدھ 09 مئی 2018ء

صحافت اور خبر نگاری کی کتابوں میں خبر کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ کوئی بھی غیر معمولی واقعہ خبر ہوتا ہے اور یہ تعریف جو لارڈ ناتھ کلف سے غلط طور پر موسوم کی گئی مگر ہرکس و ناکس کو یاد ہو گی کہ کتا آدمی کو کاٹ لے تو یہ معمول کا واقعہ ہونے کی وجہ سے خبر نہیں لیکن آدمی کتے کو کوٹ لے تو یہ خبر ہے۔ کوئی ذہین طالب علم پوچھ سکتا ہے کہ اگر عمران خان کو ان کا محبوب پالتو کتا جو سابق حکمران پرویز مشرف کا تحفۃً عطا کردہ ہے
مزید پڑھیے


خلائی مخلوق بمقابلہ زمینی مخلوق اعظم

اتوار 06 مئی 2018ء

معروف اینکر اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے برطرفی کے آرام دہ‘ پرآسائش دنوں میں میاں نوازشریف سے ایک طویل تر انٹرویو پے در پے نشستوں میں مکمل کیا تھا جو بعد میں ’’غدار کون؟‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا تھا۔ اتنی بہت سی ملاقاتوں اور نشستوں میں اگر آدمی ذہین ہوتو بھانپ ہی لیتا ہے کہ مخاطب و مجیب کی ذہنی فکری سطح کیا ہے؟ بھولا بھالا اور سادہ و معصوم ہے یا معصومیت و بھولپن فقط ایک ردا‘ ایک چادر ہے جس میں خود کو چھپا کر رکھا گیا ہے کہ دیکھنے والا اصلیت تک
مزید پڑھیے


وہ عورتیں کیوں رو رہی تھیں؟

جمعه 04 مئی 2018ء

پی ٹی آئی کا جلسہ جاری تھا، کوئی جلسے میں تھا یا میری طرح ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا ، سب جلسے میں عمران خان کی آمد کے منتظرتھے ،کراچی میں جونہی بلاول کا خطاب ختم ہوا کپتان لاہور میں اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دکھائی دیے، عمران خان کی طرف سے پی ٹی آئی کا گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کرنے کا اعلان سامنے آ چکا تھا، میری بھی ان نکات میں دلچسپی تھی، جونہی کپتان نے بولنا شروع کیا، میرے کان کھڑے ہوگئے،،، مگر یہ کیا، پی ٹی آئی کے چیئرمین نے شوکت خانم ہسپتال کی کہانی سنانا
مزید پڑھیے


باتیں سیاست دانوں کی 2

جمعه 04 مئی 2018ء

صدر جنرل ایوب خاں پہ ایک بڑا الزام عاید کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے باسٹھ کے آئین کی خلاف ورزی کی اور جب ان کا اقتدار پر رہنا ممکن نہ رہا تو اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کو منتقل کرنے کے بجائے اپنے چہیتے جرنیل آغا محمد یحییٰ خان کو دے دیا جس کی بے بصیرتی اور بے حمیتی سے ملک دولخت ہو گیا۔ تب قومی اسمبلی کے سپیکر ایک بنگالی سیاست داں عبدالجبار خان تھے اور ایوب خان بنگالیوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کے مطابق شیخ مجیب الرحمن کے خلاف
مزید پڑھیے


انور مقصود نے معافی کیوں مانگی؟

هفته 28 اپریل 2018ء

مزاح یوسفی میں ایک نہایت بلیغ فقرہ ملتا ہے کہ بات انہیں بُری لگی کیوں کہ سچی تھی۔ انور مقصود کے متنازعہ ویڈیو پر طوفان اٹھانے والوں کی بابت ہم یہ تو نہیں کہتے۔ البتہ ہمیں حیرت ضرور ہے کہ نوبت انور مقصود کے معافی مانگنے تک پہنچی کیوں۔ وہ کوئی دو چار برس سے تو لکھ نہیں رہے۔ لکھتے ہوئے انہیں پچاس برس سے اوپر ہونے کو آئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے معاشرے کے ہر طبقے کی کمزوریوں اور کج رویوں کو نشانہ بنایاہے۔ یہاں تک مختلف قومیتوں کو بھی معاف نہیں کیا۔ بہاریوں‘ بنگالیوں‘ پٹھانوں‘ میمنوں ‘
مزید پڑھیے