BN

ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری


سالِ نو۔۔۔2021ء


زمین کے گرد سورج کا ایک اور چکر،جو کہ 365دن ، 5گھنٹے،48منٹ اور46سیکنڈ میں مکمل ہوتا ہے،گذشتہ شب پایۂ تکمیل کو پہنچا،یوں سالِ نو 2021ء کی،دُھند میں لپٹی اور سردی میں ٹھٹھرتی ہوئی نئی صبح۔۔۔نئی امیدوں، آرزوؤں،ولولوں اور امنگوں کے ساتھ جلوہ گر ہے،جس کی تمام قارئین کو مبارکباد۔ویسے نئے سال کی ابتدا پر "Happy New Year"کی رسم نجانے کتنی قدیم ہے،لیکن اب تو دنیا کی ہر سوسائٹی ہی تقریباً اس کو اپنا چکی ہے،کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے سے،پتہ نہیں کچھ فرق پڑتا ہے یا نہیں ، سوشل میڈیا کے سَیل رواں کے آگے،ہماری روایت شاید بند نہ
جمعه 01 جنوری 2021ء مزید پڑھیے

زُہَیربن اَبی سُلْمٰی

پیر 28 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
گزشتہ روز کسی تحریر میں کمپوزر کی غلطی سے’’زُہَیر‘‘ کومسلسل ’’ظہیر‘‘ ہی لکھا گیا،آج کل چونکہ کا تب اور کمپوزر کو بہت سے خون معاف ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ’’پروف ریڈرز‘‘کو بھی۔۔۔، کچھ رہی سہی کسر ہمارے انگلش میڈیم بچوں نے نکال دی ہے،جن کے ہاں ض، ظ اور ذ کا کوئی فرق باقی نہیں رہا،وہ مضبوط کو’’مظبوت‘‘ بھی لکھ سکتے ہیں اور’’مظبوط‘‘بھی۔۔۔،ورنہ پرانے اساتذہ کے ہاںتو ایسی کبیرہ غلطی کی کوئی گنجائش نہ ہوتی تھی،اور دوسری بات یہ کہ لفظ لکھنے یا ٹائپ کرنے والے کو کیا پتہ کہ وہ کس کے نام کے ساتھ کیا سلوک
مزید پڑھیے


امام غزالیؒ کی روحانی سرگذشت

جمعه 25 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
دنیاوی علائق اور ترکِ دنیا کے حوالے سے علماء اور صوفیاء کے عجیب و غریب واقعات ہیں،لیکن امام غزالیؒ کی یہ بے تعلقی بالکل انوکھی اور منفرد نوعیت کی تھی،بغداد کے مدرسہ نظامیہ کا صدر نشین ہونا ،اس عہد کا سب سے بڑا علمی اعزاز تھا،جوآپ کومحض 34سال کی عمر میں میسر آگیا،حالانکہ اس دور کے بعض بڑے بڑے صاحبانِ فکر و فن نے اس کی آرزو میں اپنی عمریں صَرف کر دی،لیکن وہ اس منصب کی حسرت۔۔۔دل کی دل میں لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔اس عظیم ذمہ داری کو سنبھالنے کے بعد،اس منصب پر آپ کے علم
مزید پڑھیے


’’امام غزالی ؒ کی برسی‘‘

پیر 21 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
ایک روز قبل روزنامہ 92نیوز کے سرورق پر امام غزالیؒکی 909ویں برسی کی خبر پڑھی تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ سیاست اور پھر میڈیا کی’’آپا دھاپی اور ہڑ بونگ‘‘میں ایسی نابغہ روزگار ہستیوں کی طرف توجہ کی گنجائش ہی کہاں رہی ہے‘یہاں تک بڑی بڑی جامعات اور معروف دانشگاہیی بھی‘اب ایسی شخصیات اوران کے ان خاص ایام سے بے نیاز اور قدرے لاتعلق ہی رہتی ہیں۔امام غزالیؒ جب ظاہری علم کی گھٹن اور عجب سے تنگ آ کر،جامعہ نظامیہ بغداد کی چانسلر شپ کو خیر باد کہہ کر،بغداد سے نکل رہے تھے۔تو عین اسی وقت والدہ کی نصیحت
مزید پڑھیے


قاضی محمد فضل رسول حیدر ؒ کا سانحہ ارتحال

جمعه 18 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
دینی اور روحانی اہمیت کے حامل،وہ چند معتبر گھرانے، جن کی محبتیں مجھے آبائی طور پر ورثے میں میسر آئیں،ان میں ایک اہم ترین خانوادہ۔۔حضرت محدّثِ اعظم پاکستان مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد چشتی قادری رضوی ؒ کا ہے،جن کے نبیرۂ عُظمیٰ کی جلیل القدر ہستی اور آپؒ کے جانشینِ اوّل و سجادہ نشین صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول حیدر رضویؒ،دو روز قبل دنیائے فانی سے رحلت فرما کر،اپنے عظیم والدِ گرامیؒ کے پہلو میں آسودہ ہوگئے۔ آسمان اُن کی لحد پہ شبنم افشانی کرے سبزۂ نورستہ اُس گھر کی نگہبانی کرے صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول حیدرؒ انتہائی خلیق، تقویٰ و
مزید پڑھیے



شاہیں کا جہاں اور ہے…

پیر 14 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
ہمارے ایک صوفی دانشور کے بقول، ایک گدھ، شاہین کا دوست بن گیا، طویل مصاحبت اور ہم رکابی کے بعد ایک دن دونوں افق پر بلند ہوئے، فضائوں کو چیرتے اور بلندیوں کو سر کرتے ہوئے، زمین سے بے خبر اور آسمانوں سے بے نیاز…مسلسل مصروفِ پرواز۔ دیکھنے والے بڑے حیران ہوئے کہ یہ دونوں ہم فطرت، ہم جنس اور ہم مزاج تو نہیں ہیں، ہم پرواز کیسے ہو گئے؟ شاہین نے گدھ سے کہا:’’دیکھو، اس دنیا میں ذوقِ پرواز‘‘ کے علاوہ اور کوئی بات باعثِ فخر اور لائقِ اعزاز نہیں، گدھ بھی تکلفاً یہی کہتا رہا کہ ہاں…مجھے بھی
مزید پڑھیے


پیر نور الحق قادری ۔۔۔ ’’مردِ کوہستانی‘‘

جمعه 11 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
علامہ اقبال کی حیاتِ ظاہری کے آخری سالوں میں ان کا شعری مجموعہ’’ضرب کلیم‘‘شائع ہوا،جس کی نظمیں خاص اسلوب اور اندازِ بیان کی حامل ہوئیں،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح۔۔۔باطل افکار و نظریات اور طاغوتی طاقتوں پرضرب کاری،کتاب کے زور دار اسلوبِ بیان میں شعریت یا تغزل کم اور فلسفہ اور حکمت زیادہ،بعض نظمیں اور اشعار تو الہامی درجے کے محسوس ہوتے،از خود اقبال اپنی عمر کے پختہ حصے اور فن کے اُس اعلیٰ درجے پر تھے کہ جہاں خیالات کی گہرائی اور فکر کی پختگی اپنے نقطۂ کمال پر ہو،ضرب کلیم کے اختتامی حصّے میں’’محراب گُل افغان کے افکار‘‘کے
مزید پڑھیے


مقامات ولایت و روحانیت

پیر 07 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
مجھے اپنے طبعی شغف اور منصبی فرائض کے سبب مزاراتِ مقدسہ کی حاضری کا شرف اور صاحبانِ طریقت واہالیانِ سجادہ سے رابطہ میسر رہتا ہے،بایں وجہ اکثر جاننے والے کسی صاحبِ ولایت و روحانیت کے بارے میں استفسار کرتے اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں،کہ آیا کبھی کسی بزرگ یا روحانی شخصیت سے ملاقات میسر ہوئی۔۔۔میں چونکہ اس راستے کا زیادہ سنجیدہ مسافر نہیں ہوں،اس لیے لوگوں کی تشنگی دور نہیں کرپاتا۔تاہم ہر انسان کی طرح مجھے بھی زندگی میں بعض اوقات سخت مراحل درپیش ہوجاتے ہیں،تو ایسے میں وہ بابرکت مقامات اور مقدس ہستیاں،جن کے زیرِسایہ زندگی بسر کرنے
مزید پڑھیے


’’مدح گوئی ‘‘۔۔۔چند ضمنی مباحث

جمعه 04 دسمبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
گذشتہ کالم کنو ر مہندر سنگھ بیدی اور دِلّو رام کوثری کی نعت گوئی اور نعتیہ شاعری سے متعلق شائع ہوا،تو قارئین،جن میں بالخصوص ایک معروف دینی درسگاہ کے شیخ الجامعہ بھی شامل ہیں،نے بھی کچھ استفسارات فرمائے۔شاید انہوں نے سوچا ہو کہ’’غیرمسلموں کی نعت گوئی‘‘کو زیادہ اہمیت دے دی گئی،ویسے تو یہ ایک مستقل موضوع ہے، جس پر محققین نے کافی کام کیا ہے اور میرے قلم کے جِلو میں حکومت پنجاب کے’’ہفتہ شانِ رحمۃٌ للعالمینﷺ‘‘کے حوالے سے آیا،جس میں بین المذاہب’’عالمی مشائخ و علماء کنونشن‘‘کے موقع پر دیگر مذاہب کے مذہبی زعماء بارگاہِ تاجدارِ ختمی مرتبت ﷺمیں مدح
مزید پڑھیے


دِلّورام کوثری اور کنور مِہندر سنگھ بیدی

پیر 30 نومبر 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
حکومت پنجاب کی طرف سے ’’ہفتہ شانِ رحمۃ للعالمین‘‘ کے سلسلے کی سب سے نمائندہ تقریب بین المذاہب ’’عالمی مشائخ و علمأ کنونشن‘‘تھا،جس میں معتبر سجادہ گان، معروف علمأ،اکابر مشائخ،معاصر اسلامی دنیا کے مقتدر سکالرز اورمذاہب ِ عالم کے قائدین شریک ہوئے، جن میں بطورِ خاص آرچ بشپ سبسٹین فرانسس شاہ بشپ آف لاہور، گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے مرکزی قائد سردار بشن سنگھ اور ہندولیڈر ڈاکٹر منور چاند شامل تھے:اگر کوئی غیر مسلم ہے اور پھر بھی میرے آقاؐ کی تعظیم اور آپ ؐ سے عقیدت و ارادت کا ناطہ اور پیرایہ رکھتا ہے،تو اس کا اچھا لگنا ایک
مزید پڑھیے








اہم خبریں