کالم نگار

جمہوریت میں نظریاتی سیاست کی موت

بدھ 02 مئی 2018ء

جس سودی سرمایہ دارانہ معیشت نے اپنے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی باہم چپقلش کی بنیاد پر ایک شاندار جمہوری نظام کو تخلیق کیا ہے وہ اس قدر سادہ تھے کہ اس کے ذریعے کسی نظریاتی طاقت کا اقتدار پر قابض ہونے کا خواب پورا ہونے دیں گے؟ جمہوریت کی اس دہلیز پر گزشتہ سو سالوں میں ہر نظریے نے سسک سسک کر جان دی ہے۔ جتنی دیر دنیا میں اس جمہوری نظام کو مستحکم ہوئے ہوئی ہے تقریباً اتنا ہی عرصہ گزشتہ دو صدیوں کو متاثر کرنے والے کیمونزم کو اپنی ریاست قائم کرتے ہوئے گزرا
مزید پڑھیے


اٹھارویں ترمیم اور چیف جسٹس کا منصفانہ مشاہدہ؟

جمعرات 26 اپریل 2018ء
اُس دن ہم لفظوں سے روئے تھے۔ جس دن زور آور پارٹیوں نے ایوانوں کے اندر اپنی اکثریت کے زور پر اٹھارویں ترمیم کر ڈالی تھی اور اپنے لیڈروں کے نعرے لگائے تھے۔ بڑی پارٹی نے کہا..... بھٹو زندہ باد..... چھوٹی پارٹی نے کہا باچے خان زندہ باد۔ تیسری چھوٹی پارٹی نے کہا___ الطاف بھائی زندہ باد! ہماری پارٹی چپ رہی۔ مَیں نے قائداعظم کی تصویر کی طرف دیکھا۔ تصویر کی آنکھ میں نمی تھی___ تجھ پہ قربان میری آنکھ کے سارے آنسو؟ تعلیم ، ثقافت، سیاحت اور بہبود آبادی اور دیگر کچھ محکمہ جات صوبوں کے حوالے کر دینے سے
مزید پڑھیے