BN

یوسف سراج


نیا پاکستان درست مگر


ایک زمانے کے لیے جناب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی کہانی میں سبق ہے، گہرا ،گہربار، تابناک اور تابندہ سبق، ہر اس شخص کے لئے شاندار سبق کہ حکمرانی جسے نصیب ہو جائے اوراپنے دورِ اقتدار میں جو کچھ نیا ، کچھ اچھوتا او رکچھ سنہرا وہ کر دکھانا چاہتا ہو، خواب دیکھنے والے او ر سماج بدل دینے والے ہر حکمران کے لیے جنابِ عمر بن عبدالعزیز کے مختصرترین دورِ حکومت میں،کامرانی کے کئی نقش قدم اور سنگ ہائے میل ہیں ۔ وہ تمام کہانی پھر کبھی ، ایک بات البتہ آج ہی۔ اموی خلیفہ ہشام کے
جمعرات 16  اگست 2018ء

کیا عمران اپنی تقریر سے جیت سکے گا؟

هفته 28 جولائی 2018ء
یوسف سراج
انتخاب عمران نے جیت لیا اور فتح مندی کی پہلی تقریر (Victory Speech) سے اپنوں اور پرائیوں کے دل بھی اس نے جیت لیے۔ جذبات ، درد اور دانشمندی سے گندھی یہ عمران ہی کی ایک شاندار تقریر نہ تھی ،کہ عرصے بعد جوکسی متوقع پاکستانی وزیرِ اعظم کے لبوں سے نکل کے قوم کے دلوں میں اتر رہی تھی ،بلکہ یہ ہماری سیاسی تاریخ کی بھی ایک یادگار تقریر تھی ۔فی البدیہہ ، برجستہ ، رواں، مرتب اور پر مغز۔ بدن بولی جس میں معانی بھر رہی تھی اور لفظوں کا انتخاب اور لہجے کا اتار چڑھاؤ مل کے
مزید پڑھیے


خان کاکڑاامتحان

جمعه 27 جولائی 2018ء
یوسف سراج
یہ ایک نتھرے اور نکھرے دن کا آغاز ہے۔ دھرتی نے گویا خود کو دھو ڈالا ہے۔میر و سلطاں سے بیزار زمیں نے ایسی توانا انگڑائی لی ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کر کے رکھ دیا ہے۔ جھٹکا ایسا قیامت خیز تھا کہ بڑے بڑے دیوہیکل ہمالیہ بھی اس میں خود کو سنبھال نہیں سکے۔ عام انتخاب کہاں ، یہ توگویاکوئی آندھی اور طوفان تھا، جو جب تھما تو قافلے کی رفتار ہی نہیں ، سالارانِ قافلہ کی دستار بھی گم ہو چکی تھی ۔ بات دستار تک رہتی تو بھی کیا برا تھا، یہاں تو مگر
مزید پڑھیے


بے بی کی بے بسی

اتوار 08 جولائی 2018ء
یوسف سراج
دو بارشیں ہوئیں۔ ایک نے میاں شہباز شریف کا پیرس(لاہور) ڈبو دیا جبکہ دوسری نے میاں نواز شریف کی سول بالا دستی کی خواہش کا پارس گہنا دیا۔ایک نواز برادران ہی پرکیاموقوف ، عرصہ ہوا ہم مسلمانوں نے دعاؤں اور خواہشوں پر اکتفا کرنا شعار کر رکھاہے۔عرصہ ہو ا ہم نے یہ سوچنا چھوڑ دیاکہ نیلے آسمان تلے تنی خواہشوں کی ہر وہ رنگین چھتری کہ جسے قوتِ عمل کا سہار ا میسر نہ ہو،یہ کاغذی کشتی ہی ہوتی ہے ، جو کبھی دریا کے پار نہیں اتر سکتی ؎ کاغذ کے پھول سر پر سجا کے
مزید پڑھیے


روزہ جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں

بدھ 06 جون 2018ء
یوسف سراج
انسان نے اہرامِ مصر بنایا، کیسے بنایا؟ انسانی دانش آج تک یہ معمہ حل نہیں کر سکی۔ خالق نے کائنات بنائی اور اہرامِ مصر بنانے والا انسان بنایا۔ آدمی مگر خدا کو ماننے اور جاننے پر کم ہی آمادہ ہوتا ہے۔ انسان خالق کی وہ پیچیدہ مشین کہ خود جس کے اندرکئی کائناتیں ہنوز انسانی علم کی رسائی کے انتظار میں ہیں۔ یقینا انسان کے اندر خدا نے ایسے ایسے کرشمے بپا کر دئیے کہ اہلِ معرفت ، اہلِ دانش اور حتی کہ اہلِ سائنس بھی اگر انسان کے اندر جھانکیں تو خد ا
مزید پڑھیے



کیا روزے سے عمر بڑھ جاتی ہے؟

پیر 04 جون 2018ء
یوسف سراج
کبھی حیرت سے آدمی سوچتا ہے ۔ آخر کیا چیز مانع تھی کہ مسلمان سائنسی تحقیقات جاری رکھتے۔ کائنات اور اس کی ماہیت میں تدبر آخر انھی کی کتابِ ہدیٰ کابنیادی سبق ہی تو تھا۔ یہ مگر کیسی عجیب بات کہ یورپ کے اندھیروں میں اپنی تحقیقات سے علم و عقل کا چراغ جلانے والے مسلمان آج علمی اور انتظامی طور پر مغرب پر انحصار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے، مغرب آج کی تحقیقات کا قائد ہے۔ ہر طرح کی تحقیقات وہاں جاری رہتی ہیں۔ مسلمانوں کے طرزِ عمل اور مذہبی معاملات کے متعلق تحقیقات بھی ان کی دلچسپی کا ایک
مزید پڑھیے


خد اہمیں بھوکا کیوں رکھتاہے؟

اتوار 03 جون 2018ء
یوسف سراج
روزہ رکھ کے بھوکا رہنے کا،اس رب نے آخر کیوں حکم دیا، مخلوق کی بھوک کو قیامت کے دن جو اپنی بھوک قرار دے دے گا؟ پروردگار کی اپنی شان ہے ۔ قیامت کے دن وہ مگرفرمائے گا ،اے میرے بندے! میں بیمارپڑا تھا ، تجھے میری عیادت کی توفیق کیوں نہ ہوسکی؟ پروردگار پوچھے گا، میں بھوکا رہا، تو نے مجھے کھانا کیوں نہ دیا ؟ دریافت کیاجائے گا ، میرے بندے میں پیاسا تھا ، تو نے میر ی پیاس کیوں نہ بجھائی ؟ مارے حیرت کے جانے آدمی کا تب کیا حال ہو گا؎ سودا جو ترا حال ہے اتنا
مزید پڑھیے


بات کچھ جنت کی

بدھ 23 مئی 2018ء
یوسف سراج
منٹو نے اپنی کہانیوں میں کیا پیش کیا؟ عورت ، جنس ، شراب! یہ کیا بھئی ، یہ بھی کسی دانش ور کے کرنے کے کام ہیں۔ جنس ، شراب اور عورت! کتاب میں کچھ تو بلندی ہونی چاہئے ۔کتاب انسانوں میں جانوروں کے اوصاف پیدا کرنے کے لیے تھوڑی ہوتی ہے۔ کتاب کو شعور سے خطاب کرنا چاہئے۔شعور عطا کرنا چاہئے۔ کتاب میں ارفع انسانیت اور رفیع اصولوں کی بات ہونا چاہئے۔ منٹو کو تو کچھ لوگ بڑا ادیب مانتے ہیں۔ تو کیا ایک بڑے ادیب کو کچھ بہتر نہ سوجھنا چاہئے تھا۔ یعنی کچھ ذرا سا مختلف بھی؟ نہیں
مزید پڑھیے


انصاف کا نظام او رپولیس کا ظلم

اتوار 13 مئی 2018ء
یوسف سراج
زندگی کے طوفان کا بہاؤ اس قدر تیز ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنا کبھی تو برسوں تک ممکن ہی نہیں رہتا۔ جانے کیوں ہمارے دلوں میں ایسا کوئی خوف بیٹھ گیاہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے والازندگی سے ہی پیچھے رہ جائے گا۔بچپن کی پڑھی کہانیوں میں ایسی طلسم نگریوںکابھی تذکرہ ہوتاتھاکہ جہاں پیچھے مڑ کے دیکھنے والا پتھر کا ہو جاتا تھا، اور پھر جانے کتنی صدیوں تک وہ پتھر ہی کا رہتا تھا، تاآنکہ کوئی پتھروں کو انسان بنانے والا اسم یا وظیفہ لے کر ان میں دوبارہ زندگی پھونک دیتا۔خدا معلوم ہمارا آگے ہی آگے بڑھتے
مزید پڑھیے


سیاستِ موجودہ کی بیگمات کے آنسو!

بدھ 09 مئی 2018ء
یوسف سراج

شاعر کی نوکِ زبان پر بھی کبھی کیا کچھ اتر آتا ہے۔الہام قلم کی نوک پر ہوتا ہے۔ صحافت کے ایک استاد نے ایک بار ٹھیک یہی بات کہی ۔ لکھنے والے ہی اس کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ چند لفظوں میں زمانوں کی بات کہہ دینا، ایک شاعر پرکبھی یوں سہل ہو کے اتر آتا ہے کہ دوسرے جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔غزل اگرچہ کچھ دوستوں کو پسند نہ آئی ، غزل کے دو مصرعے اور کبھی ایک ہی ، حقائق کو یوں نچوڑ دیتے ہیں کہ پہروں آدمی کا دل آباد اور طبیعت شاد رہے۔کسی ایک
مزید پڑھیے