BN

ناصرخان


جو ملے تھے راہ میں!


غالباً 82ء یا 83ء کی بات ہے ۔ روزنامہ وفاق میں ایک سینئر صحافی اکرام رانا صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ مجھے مسکین حجازی صاحب سے پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت میں ایک کام تھا۔ وہ مجھے اپنے سکوٹر پر یونیورسٹی لے گئے۔ حجازی صاحب نے مجھے وارث میر صاحب ملوادیا اور اُن سے جو پوچھنا تھا پوچھ لیا ۔ اکرام رانا صاحب پنجابی بہت اچھی بولتے تھے۔ ’’چل تینو اپنا دفتر وکھانا واں‘‘ اور ہم پینوراما پہنچ گئے۔ سیڑھیاں اُتر کر بیسمنٹ میں پہنچے تو حیران ہی رہ گیا۔ اُن کا ایک کتب خانہ ، حُقہ اور ٹھنڈا یخ دفتر دیکھ
اتوار 12  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

نہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے!

اتوار 05  ستمبر 2021ء
ناصر خان
ہمارے ہاں تاریخ مسلسل دہرائی جارہی ہے مگر کیا مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگ جائے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے کی طرح کاسٹیوم … انیس بیس کے فرق کے ساتھ بدل بدل کر یہ سارے کردار سٹیج پر آرہے ہیں۔ اپنا کردار عین غین کی حد تک ادا کرتے ہیں اور بس۔ سب کچھ ہے مگر کچھ بھی نہیں ۔جمہوریت تو جنہوں نے ایجاد کی، اُن کے ہاں بھی نہیں تو پھر کیسا شکوہ، کہاں کی شکایت؟ یہاں جمہوریت ٹیسٹ میچ جیسی ہو کہ ٹی ٹونٹی کی طرح، بال ٹو بال رننگ کمنٹری کا کلچر بن سا
مزید پڑھیے


Where is the Beef?

اتوار 29  اگست 2021ء
ناصر خان
سوچ رہا تھا کہ منٹو کے افسانے پر بڑا کچھ کہا اور لکھا گیا کیوں نہ اس کے فلمی سفر پر کوئی بات کی جائے۔ اس کے متوازی خیال یہ بھی تھا کہ اپنے پسندیدہ اسلامی سکالرز میں سے ایک ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی اسلام پر ریسرچ کو موضوع بنایا جائے مگر ۔ مگر ایک خبر نے توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کی جگہ عامر جان کی پوسٹنگ کی خبر ۔ گئے وقتوں میں یہ ٹرانسفرز اور پوسٹنگ اتنی اہم نہ ہوا کرتی تھی۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو پنجاب
مزید پڑھیے


جلا وطن

اتوار 25 جولائی 2021ء
ناصرخان
80 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن ہر پاکستانی کے لیے گھر بیٹھے واحد تفریح تھی۔ پی ٹی وی کے ڈرامے بے حد مقبول تھے۔ محمد نثار حسین کے لانگ پلے حیران کردیتے تھے۔ مردمومن مرد حق کا عہد تھا۔ سیاسی جبر اور حبس عروج پر تھا۔ پی ٹی وی پر جو کچھ بولا اورسنایا جاتا تھا اس پر سنسر کی ننگی تلوار ہر وقت لٹکتی رہتی تھی۔ بات کہنی اور کرنی بہت مشکل تھا۔ٹی وی پر ایک لانگ پلے دیکھا اور سْنا اور حیران رہ گئے وہ سب جو جبر کے موسم سے آگاہ تھے۔ ڈرامے
مزید پڑھیے


پاکستان کی سلامتی کا نیا تصور!

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
ناصرخان
ایک انٹرویو کنڈکٹ کیاگیا۔ اس میں فوج کے ریٹائرڈ جنرلز بھی شامل تھے، دانشور بھی، میڈیا پنڈت بھی اور سوچنے والے سیاستدان بھی۔ کچھ دانش ور ٹائپ بیوروکریٹ بھی شامل تھے۔ پوچھا گیا ملکی سلامتی کا جدید تصور کیا ہے؟ حیرت انگیز طور پر صرف پانچ فیصد درست کے قریب جواب دے سکے۔ تو ضرورت ہے سلامتی کے بدلتے ہوئے تصورات پر آگاہی کی۔ مگر یہ کون کرے گا؟ جس کو پوچھو وہ کہتا ہے ’’اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات … اس بنا پر فکر عالم کہ کیا کریں؟ … ان ہی صفحات پر بات ہوتی رہتی ہے
مزید پڑھیے



کیا علم تمہیں سایہ اوڑھنے والو!

اتوار 30  اگست 2020ء
ناصرخان
مسلم امہ کی تعداد کتنی ہے؟ یہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہے؟ اس پر دانشور جو بھی کہے کچھ اہل نذر کا کچھ اور خیال بھی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہو رہا ہے’’اے محمدؐ اپنی امت سے کہہ دو کہ میں تم کو ظلمت کفر سے نکال کر نور اور سلام سے مشرف کیا۔ میں اس کا اجر نہیں چاہتا مگر اہل بیت کی دوستی۔ اور وہی آقائے دو جہاں جن کی وجہ سے ہم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ وہ جو اللہ کا پیغام ہم تک لائے۔ وہ ہی فرما رہے ہیں‘‘ حسین منی و انا من
مزید پڑھیے


ڈاکٹر ارسلان سے افتخار چودھری تک

هفته 15  اگست 2020ء
ناصرخان
ان سے ملئے…یہ شیخ زید ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں اور لاہور میں اکیلے ہی رہتے ہیں۔ سی ایس ایس کرنا چاہتے ہیں۔ آپ انہیں کرنٹ افیئرز اور پاک اسٹڈیز پر گائیڈ کر دیں۔حسن نثار صاحب بولتے جا رہے تھے اور میں حیرت سے اس خوبصورت نوجوان کو دیکھ رہا تھا۔ کھلتا ہوا رنگ‘ فربہی کی طرف مائل جسم۔ چہرے پر ایک مؤدب سا تاثر‘ سلور فریم کی خوبصورت عینک اور ذرا لاپرواہ مگر قیمتی کپڑے۔مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ ان دنوں میں نے نیا نیا ایک روزنامہ بھی جائن کیا تھا ۔ میری ایم فل کی کلاس بھی تھی
مزید پڑھیے


روک سکو تو روک لو!

جمعرات 13  اگست 2020ء
ناصرخان
مریم نواز بے نظیر تو نہیں بن سکتیں مگر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ اس سارے شو کے پس منظر میں جو میوزک اوورلیپ کر رہا تھا اس کے بول تھے ’’روک سکو تو روک لو‘‘۔ شیکسپیئر کا ایک مکالمہ بہت خوبصورت ہے"There is a method in madness." پاگل پن میں بھی ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ یہ جو مریم نواز عرف مسلم لیگ (ن) کا شو تھا یہ نہ تو پرویز رشید کی اینٹی اسٹیبشلمنٹ تربیت کا اعجاز تھا اور نہ ہی کوئی مارکس، مائو اور لینن کے نظریات کا اثر تھا۔ ایک خالصتاً سرمایہ دار سیاستدان
مزید پڑھیے


خود کشی پر آمادہ بھارت!

اتوار 09  اگست 2020ء
ناصرخان
طے تو یہ تھا آج لکھا جائے گا چاہ بہار پر، چین، ایران اور بھارت پر اور اس کے خطے پر اثرات پر۔ مگر بھارت کا جنگی جنون اس قدر احمقانہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی حکومت اس طرح بھی خطے کو اور اپنے عوام کو جنگ اور بھوک کی طرف دھکیل سکتی ہے؟ 2017ء کی بات ہے ، اس وقت بھارت کا چیف آف آرمی سٹاف جنرل بپن راوت تھا۔ اس وقت وہ چیف آف ڈیفنس سٹاف ہے۔ تین سال قبل بھی بھارت کا چین کے ساتھ تنائو چل رہا تھا۔ جنرل صاحب میڈیا سے بات
مزید پڑھیے


ہم نے کیا کھویا؟ ہم نے کیا پایا؟

بدھ 05  اگست 2020ء
ناصرخان
قائداعظم سے عمران خان تک … ایک پوری تاریخ ہے کشمیر کی۔ درمیان میں 1971ء اور ڈھاکہ بھی آتے ہیں۔ اگر دو رقیب ملکوں کے درمیان سکور کارڈ تیار کیا جائے تو جمع تفریق میں کیا جواب آئے گاـ؟ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیونکر بن گیا؟ جب پاکستان بنا تو ہم پر کتنا قرضہ تھا۔ آج ہمارا ہر نومولود پیدا ہونے سے پہلے ہی مقروض ہوتا ہے۔ ہم کشمیر کا قرض کیا چکاتے، ہم تو اپنا قبضہ بھی قائم نہ رکھ سکے اور بنگالی بھائی ناراض ہوکر الگ ہوگئے۔ کیوں؟ کیسے؟ ہمیں رک کر دوبارہ میزانیہ بنانا ہوگا۔ ہم نے
مزید پڑھیے








اہم خبریں