BN

سپریم کورٹ


قانون کے طالبعلموں کیلئے میرٹ بنانے کا اختیار ایچ ای سی اور پاکستان بار کونسل کا ہے :سپریم کورٹ

منگل 24 نومبر 2020ء
اسلام آباد (خبر نگار)عدالت عظمیٰ نے قانون کی تعلیم میں اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانون کے سٹوڈنٹس کیلئے میرٹ میں کمی وبیشی کرنا پاکستان بار کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی )کا اختیار ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نئے رجسٹرڈ ہونے والے وکلا کو پریکٹس کرنے کی عبوری اجازت دیدی لیکن کورونا وبا کے باعث بغیر انٹری ٹیسٹ اور لا گیٹ ٹیسٹ میں 50 فیصد سے کم نمبر لینے والے وکلا کو ووٹ کا حق دینے کے بارے میں صوبائی بار
مزید پڑھیے


بیوروکریسی جو چاہے کرے، قاعدہ قانون بھی نہیں دیکھتی: سپریم کورٹ؛ محکمہ سیاحت سندھ میں کرپشن کے ملز م کی ضمانت

جمعه 06 نومبر 2020ء
اسلام آباد(خبر نگار)سپریم کورٹ نے محکمہ آبپاشی حکومت سندھ اور ریونیو بورڈ کے درمیان اراضی کے تنازع کا مقدمہ نمٹاتے ہوئے کلیکٹر لینڈ کو بھیج دیا ۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کلکٹر لینڈ کو معاملہ قانون کے مطابق حل کرنے کی ہدایت کی جبکہ اراضی سے متعلق صوبے کے قوانین میں غیر معروف الفاظ کے استعمال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ الفاظ کو عام فہم بنانے کی ہدایت کی۔سینئر ممبر ریونیوبورڈ سندھ کی طرف سے محکمہ آبپاشی کے پلانٹس کی اراضی سندھ حکومت کی ملکیت میں دینے سے متعلق محکمہ آبپاشی سندھ
مزید پڑھیے


سپریم کورٹ: گیس سیس فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں مسترد،وصولی60اقساط میں کرنے کاحکم

منگل 03 نومبر 2020ء
اسلام آباد(خبر نگار)سپریم کورٹ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف دائر نظرثانی کی تمام درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جی آئی ڈی سی کی مد میں بقایاجات 24 کے بجائے 60 برابر اقساط میں وصول کرنے اور عدالتی فیصلے کے بعد حکومت کی طرف سے گیس انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی۔ وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیئے کہ خیبرپختونخوا میں قدرتی گیس کی پیداوار سرپلس ہے ، قانون یہ کہتا ہے کہ جہاں سے گیس پیدا ہوگی
مزید پڑھیے


سپریم کورٹ بار الیکشن ، پی ڈی ایم کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
لاہور(نامہ نگارخصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے نامزداورپی ڈی ایم کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کلین سویپ کردیا۔ انڈی پینڈنٹ گروپ کے عبداللطیف آفریدی سپریم کورٹ بار کے صدر اوراحمد شہزاد فاروق رانا بھاری اکثریت سے سیکرٹری منتخب ہوگئے ۔عبداللطیف آفریدی اے این پی جبکہ احمد شہزاد فاروق رانا پیپلزپارٹی کے رکن ہیں۔غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق عبداللطیف آفریدی نے 1229 ووٹ حاصل کیے جبکہ مدمقابل عبدالستارخان 930 ووٹ حاصل کرسکے ۔انتخابات میں ملک بھر سے سپریم کورٹ کے لائسنس یافتہ وکلا نے حق رائے دہی استعمال کیا۔
مزید پڑھیے


ہائیکورٹس میں تعیناتیاں چیف جسٹس، ججز کا انتظامی اختیار : سپریم کورٹ: 3رکنی بنچ کا فیصلہ غیر موثرہوگیا

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
اسلام آباد(خبر نگار)عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹس میں تعیناتیاں متعلقہ چیف جسٹس اور ججوں کا انتظامی اختیار ہے ۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب ،جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے مختلف ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور ججوں کے انتظامی اختیار سے متعلق مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جج صاحبان کے انتظامی احکامات ادارے کے فیصلے تصور کیے جا ئینگے ۔ لارجر بینچ کے فیصلے سے سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کا
مزید پڑھیے



سپریم کورٹ بار الیکشن آج لاہور میں بڑا انتخابی دنگل ہو گا

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
لاہور،اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی،خبر نگار) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات آج ہونگے ۔ تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔سپریم کورٹ بار الیکشن کا سب سے بڑا انتخابی دنگل لاہور میں ہو گا ۔سپریم کورٹ بار الیکشن کے تین اہم عہدوں کیلئے 7 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا ۔ الیکشن میں لاہور سمیت ملک بھر کے 3177 ووٹرز ووکلا اپنا رائے حق دہی استعمال کریں گے ۔سپریم کورٹ بار کے وکلاکی سب سے زیادہ تعداد 1329 کا تعلق لاہور سے ہے ۔ ملتان کے 207 ،اسلام آباد راولپنڈی کے 518 اور بہاولپور کے 93وکلاحق رائے دہی استعمال کریں گے ۔صدر
مزید پڑھیے


سپریم کورٹ کا نیب ملزمان کو طویل حراست میں رکھنے کا نوٹس: ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات طلب

هفته 24 اکتوبر 2020ء
اسلام آباد (خبر نگار) عدالت عظمیٰ نے نیب کی طرف سے ملزمان کو لمبے عرصے تک مقدمہ چلائے بغیر زیر حراست رکھنے کا نوٹس لیتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ ملزمان کو طویل عرصہ تک حراست میں رکھنا ناانصافی ہے ۔عدالت نے ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران ملزم کو 14مہینے جیل میں رکھنے پر سوالات اٹھائے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پرتشدد جرائم اور وائٹ کالرکرائم میں ملوث ملزمان میں فرق کرنا ہوگا۔عدالت نے محمد اجمل کے ریفرنس سے متعلق احتساب عدالت لاہور سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات طلب کیں۔
مزید پڑھیے


جسٹس فائز عیسی ٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس غیرآئینی، حکومت کی بدنیتی ثابت نہیں ہوسکی: سپریم کورٹ: تفصیلی فیصلہ جاری

هفته 24 اکتوبر 2020ء

اسلام آباد (خبرنگار) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیدیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے ریفرنس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس بنانے میں بدنیتی ثابت نہیں ہوئی لیکن ریفرنس بنانے کے عمل میں آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔تفصیلی فیصلے میں صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی 11 وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ 177صفحات پر تفصیلی فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے جبکہ جسٹس فیصل عرب نے 23 اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے 24صفحات پر اپنا
مزید پڑھیے


وفاق اپنا ایک بھی کام نہیں کررہا، کے الیکٹرک کے تانے بانے ممبئی سے نکلیں گے : چیف جسٹس

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
اسلام آباد(خبر نگار)عدالت عظمیٰ نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ وفاق اپنی ذمہ داری کا ایک کام بھی نہیں کر رہا ، ایک محکمہ نہیں تمام محکموں کا یہی حال ہے ۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تمام اداروں کو اربوں روپے ادا کیے جارہے ہیں، بدلے میں وہ عوام کی سہولت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟۔تین رکنی بینچ نے سندھ میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق بار بار ہدایات کے باوجود کے الیکٹرک کی کارکردگی بہتر نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرائیوٹ کمپنیاں
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کی وکلا کنونشن میں شرکت ، سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

منگل 13 اکتوبر 2020ء

اسلام آباد(خبر نگار)عدالت عظمیٰ نے مبینہ طور پرایک سیاسی جماعت کے وکلا ونگ کی تقریب پر ریاست کے وسائل کے استعمال اور اس میں وزیر اعظم کی شرکت کاازخود نوٹس لے کر وزیر اعظم کو نوٹس جاری کردیا ہے ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے جائیداد کے ایک تنازع سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل رفاقت حسین شاہ کی نشاندہی پر مبینہ طور پر ریاست کے وسائل کے غلط استعمال کا نوٹس لیا اور سوال اٹھایا کہ کیا ایک مخصوص سیاسی جماعت کے وکلا کی تقریب میں وزیر اعظم کی شرکت اور اس پر
مزید پڑھیے