اگر ہم تاریخ پر غور کریں تو قبل از اسلام عرب کے لوگ سال میں خوشی کے جو دو تہوار مناتے تھے ، ان میں سے ایک کا نام ’’ عکاظ ‘‘ اور دوسرے کا نام ’’ محنہ ‘‘ تھا۔ یہ تہوار ایک میلے کی شکل میں ہوتے تھے اور عرب ثقافت میں ان کا بھرپور اظہار ہوتا تھا ۔ سرکار دو عالمؐ جب مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے پوچھا خوشی کے ان دنوں میں آپ کیا کرتے ہیں تو عرض کیا گیا ہم کھیلتے ہیں، کودتے ہیں ‘نئے کپڑے پہنتے ہیں اور کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان دونوں دنوں کے بدلے دو عیدین دی جاتی ہیں۔ چنانچہ ۲؁ھ سے عید الفطر کا آغاز ہوا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ سرکار مدینہؐ نے اہل مدینہ کی ثقافتی تفریح کا نہ صرف خیال رکھا ، اس سے کہیں بہتر اسلامی ثقافتی تہوار دیئے اور اس بات کا خصوصی اہتمام فرمایا کہ یتیم مسکین اور غریب بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوں ۔ بزرگ کہتے ہیں کہ عید پر پانچ چیزوں کا اہتمام ضروری ہے ۔نہا دھو کر صاف ستھرا لباس پہننا، گھر میں اچھا طعام پکانا، خوشبو لگانا، معانقہ کرنا اور مسکراہٹیں بکھیرنا، بزرگوں اور غمزدہ لوگوں کے پاس خود چل کر جانا۔ آج بھی وسیب کی سندھ اور بلوچستان کی تہذیبی ، ثقافتی ،جغرافیائی اور تاریخی سانجھ موجود ہے ۔ آج بھی نشتر ہسپتال ملتان، وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور، ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ غازی خان اور شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان میں سب سے زیادہ مریض بلوچستان سے آتے ہیں ۔ پھر کون ہے جووسیب اور بلوچستان کی سانجھ کو توڑنا چاہتا ہے ؟ اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔عید جو خوشیوں کا نام ہے ، خوشبوؤں کا نام ہے ،آرزؤں اور تمناؤں کانام ہے۔ ایک دوسرے ملنے اور ایک دوسرے سے محبت کا نام ہے جن لوگوں نے اس عید سعید پر یہ عمل دہرایا وہ حقیقی طور پر داد تحسین کے مستحق ہیں ۔ عید کے چاند کے سلسلے میں فواد چودھری صاحب کی سائنس بھی در آئی اور مسئلہ سلجھنے کے بجائے اُلجھا دیا ۔ ہمارے علماء کرام اور رویت ہلال کمیٹی یہ مسئلہ حل نہیں کر سکی ۔ اس بارے مسلم سائنسدانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کہ مسئلہ صرف عید کے چاند کا نہیں بلکہ پورے ہجری کیلنڈر کا ہے۔ کائنات کا پورا نظام تقویم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس میں ایک پل آگے پیچھے نہیں ۔ ماہ و سال کے ساتھ ساتھ ایک ایک دن اور ایک سکینڈ کی درستی ہمارے کیلنڈر کی درستی سے وابستہ ہے ۔ اگر یہ درست نہ ہو تو زمانہ اسے ناکام کیلنڈر کہے گا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عید کے بہت سے فرائض اور لوازمات ہیں ۔ ہم غریب کے بچے کو عید کی خوشیوں میں شریک کر سکتے ہیں اور اس بار جو یہ عمل سر انجام نہیں دے سکے امید ہے اگلی عید پر غریبوں اور ضرورتمندوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے ساتھ شامل رکھیں گے ۔ غریب اور پڑوسی ، بے سہارا، نادار اور یتیم ہمسائے کا ہم خیال رکھیں تو عید کی خوشی حقیقی خوشی ہو سکتی ہے اور ہر ضرورت مند کو ہر پل خیال رکھیں تو ہر پل عید کا پل ہو سکتا ہے ۔ دکھاوے اور رسمی رکھ رکھاؤ کی نہیں عید پر عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ، کیا اس طرف توجہ ہو گی ؟ یہ بھی تو سچ ہے کہ عید خوشی کے دن کا نام ہے ، حقیقی خوشی تب ہوتی ہے جب خوشحالی ہو گی مگر ہمارے ملک کی بہت بڑی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ ‘ ہمارے ملک کے سرمایہ داروں نے میٹھی عیدکے آنے سے پہلے جس طرح چینی کا بحران پیدا کیا اور غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرے ہوئے غریبوں پر مہنگائی کے بم برسائے اور جس طرح سرمایہ داروں نے غریبوں کا خون نچوڑاپوری دنیا میں شاید اس کی مثال نہ ملے ۔ کراچی اسلام آباد اور لاہور کے امراء کیلئے ایسے پوش علاقے بھی موجود ہیں ‘ جہاں غرباء اور خیرات مانگنے والوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے ‘ اور اگر کوئی مسکین اور یتیم بھکاری بھٹک کراس طرف چلا بھی جائے تو اس مقصد کیلئے رکھے گئے گن مین اسے بھگا دیتے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق ایسی ہی مارکیٹوں سے اس مرتبہ عید پر امراء نے ایک سو چالیس ارب کی شاپنگ کر ڈالی‘ اگر یہی امراء اپنے فضول شاپنگ کا صرف پانچ فیصد ہی پس انداز کر کے غریبوں کو دیدیتے تو غریبوں کی عید ہو جاتی‘ کہا جاتا ہے کہ عید خوشی کا نام ہے اور خوشی احساس کا نام ہے۔احساس یہ ہے کہ سرکار آقائے نامدارؐ عید پڑھنے جا رہے ہیں ‘ ایک ہاتھ کی انگلی کو پیارے نواسے حسین اور دوسری کو حسن نے تھاما ہوا ہے ‘ راستے میں میل کچیلے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچہ رو رہاہے ‘ آپ فوراً رُک جاتے ہیں ‘ بچے کو گودمیں لیکر پیار کرتے ہیں ‘ رونے کا ماجراء پوچھتے ہیں ‘ بچہ کپکپاتے ہونٹوں کوجنبش دیکر کہتا ہے میں یتیم ہوں‘ آپ کی آنکھوں میں آنسورواں ہو جاتے ہیں ‘ آپ عید گاہ نہیں جاتے‘ واپس گھر تشریف لاتے ہیں ‘بچے کو نہلاتے ہیں نئے کپڑے پہناتے ہیں ‘ بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اور اس وقت تک نماز ادا نہیں فرماتے جب تک رونے والا بچہ مسکرایا نہیں؟ عید کا لغوی معنی خوشی ہے ‘ خوشی احساس کا نام ہے مگر افسوس کہ آج ہمیں کسی چیز کا کوئی احساس نہیں‘ اگر احساس ہوتا تو آج غریب آبادی خوشیوں سے محروم نہ ہوتی‘ دنیا کی کثیر آبادی کیلئے عید کا دن بھی عید کا دن نہیں جبکہ امراء کیلئے ہر دن روز عید ہے ‘ غریب آج بھی غریب تر اور امیر آج بھی امیر تر ہو رہاہے ‘ خوراک کے گودام بھرے ہیں مگر غریب کا پیٹ خالی ہے ‘ پوری دنیا میں رائج طبقاتی سسٹم میں کائنات کے امن و سکون کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ‘ سندھ کے عظیم شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی سئیں کا ایک شعر اس طرح ہے کہ ’’بکھ بچھڑو ٹول‘ دانا نہ دانا کرے‘‘ یعنی بھوک ایسا ظالم لشکر ہے جو سمجھدار کو پاگل بنا دیتا ہے ۔ بھوک کی وجہ سے ہمارے ہاں چور ڈاکو پیدا ہو رہے ہیں ۔