وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ وفاقی حکومت سے شاکی ہیں۔ ان کے بقول کورونا وائرس جیسی عالمی وبا سے مقابلے کے لیے صوبہ سندھ کو وفاق سے وہ تعاون حاصل نہیں جس کی ان حالات میں ضرورت ہے۔ ان کی یہ شکایت بھی قابل غور ہے کہ وفاقی حکومت، خصوصاً وزیراعظم عمران خان، وبا کے پھیلائوکوروکنے کی حکمت عملی ، یعنی کے تالابندی ،کے بھی پوری طرح قائل نہیں۔ اسی لیے اہم ترین حکومتی اجلاسوں میں متفقہ طور پر ’’لاک ڈائون ‘‘کا فیصلہ ہوتا ہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد وفاق کی طرف سے اس معاملے پر متضاد اشارے ملنے شروع ہوجاتے ہیں، یعنی کہ تالا بندی کے دورانیہ میں توسیع کے ساتھ ہی مختلف پیداواری اور خدمات کے شعبوں کو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ غرض کورونا وائرس سے مقابلے کی حکمت عملی چوں چوں کا مربہ بن جانے کی وجہ سے مطلوبہ نتائیج نہیں دے پارہی۔ دوسری طرف حکمراں جماعت کے وزرا اور رہنماء مسلسل یہ الزام لگا رہے ہیں کہ حکومت سندھ وبا کے معاملے پر نہ صرف منفی سیاست کررہی ہے بلکہ ملک میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی بھی ذمہ دار ہے۔ وفاقی حکومت جہاں عوام کو سماجی اور جسمانی فاصلے رکھنے کا درس دے رہی ہے، وہیں اس کا کہنا ہے کہ طویل عرصے کے لیے معاشی سرگرمیوں کوبند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یومیہ اجرت اور کم آمدنی والے افراد بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے احتیاط اور روزگار کے تقاضوں میں توازن ضروری ہے، جس کا اظہار وزیراعظم ہر موقع پر کرتے رہتے ہیں۔ان آزمائش کے دنوں میں بھی وفاق اور صوبہ سندھ کی حکمت عملی پر چپقلش پاکستانی سیاست میں مزید تلخیاں گھول رہی ہے جس کی وجہ سے وبا سے نمٹنے کا ایجنڈا کم از کم میڈیا کی حد تک تواکثر پیچھے چلا جاتا ہے۔ قومی سطح پر جب وفاق بامقابلہ صوبہ سندھ سرخیوں میں ہو اور یار لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوں کہ کس فریق کی کارکردگی مبینہ طور پر بہتر یا خراب ہے تو یقینا اس انتہائی پیچیدہ مسلے سے نمٹنے کا یہ غیرسنجیدہ رویہ ہے۔ ناقدین کو یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ نہ وزیراعظم چاہیں گے کہ پاکستان میں کورونا وائرس آگ کی طرح پھیلے اور نہ وزیراعلی سندھ کی خواہش ہے کہ لوگ بے روزگاری کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار ہوں۔ اپنے اپنے طریقے سے وفاق اور صوبہ سندھ دونوں ہی کورونا وائرس کی روک تھام اور اس کے منفی سماجی و معاشی اثرات زائل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن ان کی حکمت عملی اور بیانیے کے فرق نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان پہلے سے پائی جانے والی بداعتمادی کی خلیج کو مزید گہرا اور وسیع کردیا ہے۔ ایک تلخ حقیقت اگر یہ ہے کہ دونوں ہی سیاسی قوتیں مشکل دنوں میں بھی اپنے مفادات سے بلند ہو کر سوچنے میں ناکام ہیں، تو وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس وبا اور اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کا کوئی تیر بہدف نسخہ نہیں ہے۔سیاسی مفاد سے بلند ہوکر سوچ نہ پانا یقیناباعث تنقید ہے لیکن کورونا وائرس کے سامنے بے بسی سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستان کیا، دنیا کی مظبوط ترین معیشتوں کے پاس اس وبا کے خاتمے کے لیے نہ اب تک کوئی ویکسین ہے اور نہ اس کے معاشی اور سماجی نقصانات سے بچنے کا واضح طریقہ کار۔ یہ وبا مغربی ممالک بشمول امریکہ، برطانیہ اور اٹلی کے جدید اور ترقی یافتہ نظام صحت کے ساتھ ان کی معیشتوں کو بھی گھٹنوں پر لے آئی ہے۔ ہمارے ہمسائے، بشمول چین اور ایران اور دیگر ایشیائی ممالک بھی اس وبا کے ہاتھوں کم زخم خوردہ ہیں۔ تو جب وبا عالمگیر ہے تو فی الحال یہ بحث بے معنی ہے کہ کورونا سے مقابلے میں سندھ وفاق سے بازی لے گیا یا وفاق اور اس سے منسلک صوبائی حکومتیں، سندھ سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ایک جاری بحران کے دنوں میں حکمت عملی اور کارکردگی کے سطحی موازنے سے کبھی بھی درست نتائج نہیں حاصل کیے جاسکتے جو مستقبل کے لیے قابل عمل راہ دکھانے میں مددگار ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے روائتی اور سماجی میڈیا پر زیادہ تر بحث اسی عامیانہ پیرائے میں ہورہی ہے جو سیاسی اختلافات کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ ہمارے بہت سے صحافی، تجزیہ نگار و تجزیہ کار یا تو معاملے کو وفاق کا چشمہ لگا کر دیکھ رہے ہیں یا پھر سندھ کا اور ان چشموں کی خوبی یا خامی یہ ہے کہ ان کے ساتھ یا تو ہر چیز خوشنما دکھائی دیتی ہے یا بدنما۔ اس لیے ہمارے ہاں قومی بیانیے کی لڑائی میں معروضیت کم اور موضوعیت زیادہ ہے جبکہ معلوماتی و تجزیاتی بحث نہ ہونے کے برابر۔ مراد علی شاہ نے اپریل 29 کو چند صحافیوں کے ساتھ نشست میں طاقت کے ایوانوں میں کورونا وائرس پر پائے جانے والے مخمصے کو بڑی سادگی و صفائی سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی کو یہ نہیں پتہ کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں یا صیح!۔۔۔ہو سکتا ہے کہ جو آدھی چیزیں ہم کر رہے ہوں وہ غلط ہوں۔۔۔ لیکن ہم وہ کررہے ہیں جوباقی دنیا میں ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘‘اور یہی ایماندارنہ بیان ہے جس کا اطلاق وفاقی حکومت کے سورماوں پر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ کورونا وائرس جیسی وبا کا سامنا جدید دنیا کو تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے اور اس کے مقابلے اور معاشی وسماجی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہر ملک کو تجربات کی بھٹی سے گزرنا بھی ہوگا اور غلطیوں سے سیکھنا بھی ہوگا۔ اور یہ چند دن کا کھیل نہیں بلکہ کم از کم ڈیڑھ دو سال کی کڑی آزمائش ہے۔اس گمبھیر چیلنج سے نمٹنے کی اولین شرط یہ ہے کہ قومی قیادت کم از کم وبا کے معاملے پر اختلافات کی بیماری کا شکار نہ ہو بلکہ متفقہ حکمت عملی اور بیانیہ اپنانے کی کوشش کرے جس کے ذریعے ویکسین دریافت ہونے تک زندگیاں بھی بچائی جاسکیں اور معیشت کی گاڑی بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ چلتی رہے۔ ارباب اختیار کی طرف سے دئیے جانے والے متضاد بیانات اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات، شکوے و شکایتیں کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی جدوجہد کو کمزور کرتے ہیں۔ مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کی قیادت کو سیاسی بالغ نظری اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، لیکن کیا وہ اس کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں ؟یہ سوالیہ نشان ہے۔اور کورونا وائرس کے خلاف لڑائی صرف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا اس میں کردار ہے، جس میں ماہرین کے مشوروں اور حکومتی احکامات کو ماننا اولین شرط ہے۔ کورونا وائرس پر بھی حضرت انسان غالب آئے گا بالکل اسی طرح جیسے اس سے پہلے کی وبائوں اور بیماریوں پر آیا لیکن اس کی ویکسین دریافت ہونے تک احتیاط اور ایک دوسرے سے تعاون فرض ہے۔