لندن (صباح نیوز) تین سال سے مالیاتی نظم و ضبط پر کاربند بڑی آئل کمپنیاں اور ان کے بورڈز اخراجات ، پیداوار اور ذخائر میں اضافے کے حوالے سے شدید دبائو میں ہیں۔خام تیل جو چند سال قبل 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ نرخوں پر فروخت ہورہا تھا اچانک 24 ماہ سے بھی کم عرصے میں 30 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی نیچے آیا جس نے اس انڈسٹری اور بین الاقوامی معیشت و معاشی سرگرمیوں کو بری طرح ہلا دیا،جس کے باعث کمپنیوں نے اپنے اخراجات میں کمی کا ضابطہ اپنایا تاہم اب اخراجات میں اضافے کا رجحان نظر آرہا ہے ۔بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے جولائی میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دنیا کی پانچ بڑی آئل کمپنیاں رواں سال (2018 ) کی نسبت آئندہ سال 2019 کے دوران اپنے اخراجات میں 5 فیصد اضافہ کریں گی۔ا نہوں نے کہا کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث بڑی آئل کمپنیوں کے منافع میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث وہاں اضافی اخراجات کا رجحان دیکھا جا رہا ہے ۔