ایوان صدر میں اقلیتوں کے دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے جدید ریاست کا تصور بیان کرتے ہوئے پاکستان کے سماجی ارتقاء پر بھی تبصرہ کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شرکائے تقریب سے خطاب میں کہا کہ عمران خان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اخلاقی اعتبار سے ترقی کر چکا ہے اب معاشی ترقی کرے گا۔ صدر مملکت کی بات کو وزیر اعظم کی گفتگو کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت اگر کسی سابق حکمران اور طاقتور سے اس کے معاملات کا جواب مانگے تو اسے انتقامی کارروائی کہا جاتا ہے، جو جتنا بڑا مجرم، جیل میں اسے اتنی زیادہ مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ انہوں نے اسلام کے سیاسی استعمال، زبردستی مذہب تبدیل کرانے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ جیسے معاملات پر اقلیتی اکابرین کو حکومتی عزم سے آگاہ کیا۔ صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا ان سے خدشات کے اس الائو پر پانی پڑا ہے جو ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کو جلا رہا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ سے قبل بعض حلقوں نے پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مظالم کا پروپیگنڈہ کر کے اس دورے کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ سندھ میں نوجوان ہندو خواتین کی مسلمان افراد سے شادیوں کا معاملہ جبری طور پر مذہب تبدیل کرانے کا واقعہ بنایا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل ایسی دو ہندو بہنیں جب مسلمان ہو کر اپنے شوہروں کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں تو عدالت نے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندوں سمیت سماجی سطح پر نیک نام افراد کو تحقیقات کے لیے کہا۔ ان کی تحقیقات میں یہ بات غلط ثابت ہوئی کہ لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا گیا۔ مغرب میں اسلاموفوبیا نے ایک ایسا ماحول بنا رکھا ہے کہ کسی مسلمان فرد یا مسلم ریاست پر بڑے سے بڑا الزام لگا دیا جائے تو اسے سچ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ حجاب اور پردے جیسے معاملات کو دہشت گردوں کی پہچان کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اسی طرح داڑھی رکھنے پر دہشت گرد کے القابات سننا پڑتے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر آئے روز حملے ہوتے ہیں۔ نیوزی لینڈ جیسے شائستہ اطوار اور امن پسند لوگوں کے ملک میں بھی انتہا پسند آدمی مسجد میں گھس کر فائرنگ کر دیتا ہے۔ ایسے ممالک میں جا کر جب کچھ لوگ فرضی واقعات سناتے ہیں اور پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کی داستانیں سناتے ہیں تو انہیں سچ مان لیا جاتا ہے۔ ان کہانیوں کا مقصد شہریت کا حصول، فنڈز حاصل کرنا اور بعض اوقات کسی دشمن کی چال کا حصہ دار بننا ہوتا ہے۔ کسی معاشرے کی ترقی کا انحصار اس ماڈل پر ہوتا ہے جس کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ہم قومی منصوبہ بندی کے عمل کو ہمیشہ تربیت کے لحاظ سے درست نہیں کر سکے۔ کیا اس بات میں کسی شک کی گنجائش ہے کہ جو قومیں طاقتور تصور کی جاتی ہیں وہ سب سے پہلے اپنی داخلی یکجہتی اور قومی اتحاد کو طاقت کا سرچشمہ بناتی ہیں۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے جھگڑتا ہو تو خاندان کمزور ہوتا ہے۔ ایک شہری دوسرے شہری کا بلا وجہ دشمن بن جائے تو ریاست کمزور ہوتی ہے۔ ریاست کو طاقتور بنانا ہے تو اسلحہ، گولہ بارود، افواج کی اپنی جگہ اہمیت مگر معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہوں تو ہر ستون ناپائیدار ہو جاتا ہے۔ کبھی الزام تعلیمی نصاب پر تھونپا جائے گا کہ وہ معاشرے کی اخلاقی اقدار کے مطابق نئی نسل کی تربیت نہیں کر سکا، کبھی والدین کا کردار تنقید کی زد میں آئے گا۔ اخلاقیات کا بیج سب سے پہلے فرد کے اندر اس کا خاندان رکھتا ہے۔ پھر تعلیم، اس کے بعد معاشرہ بتاتا ہے کہ سچ کیوں اچھا اور جھوٹ کیوں برا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ نرمی کیوں اچھی ہے اور ان کے ساتھ کس نوع کی زیادتی کیوں بری ہے۔ معاشرہ جمہوری اقدار کا تصور بھی فرد اور خاندان کے اندر رونما شائستگی، سیاسی شعور اور احساس ذمہ داری سے پروان چڑھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی سیاسی قیادت مسلسل بدعنوان اور بددیانت افراد کے ہاتھ میں رہے تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ معاشرے کے وہ ادارے جو خاندان، تعلیمی مرکز، سیاسی جماعت یا شعوری نشوونما کا مرکز کہلاتے ہیں وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ معاشی استحکام اور ترقی کا پھل ہمیشہ سماجی اخلاقیات کے درخت پر لگتا ہے۔ ہم برسہا برس سے دیکھ رہے ہیں کہ تھانوں میں شریف آدمی کو رسوا کیا جاتا ہے اور جرائم پیشہ افراد معزز بنے کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ لوگ دھڑلے سے قومی دولت لوٹتے ہیں اور جب ان سے کہا جائے کہ آمدن کے ذرائع بتائو تو غلط بیانی کرتے ہیں، جعلی دستاویزات بنائی جاتی ہیں، کروڑوں روپے فیس لینے والے وکلاء کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہی نہیں عوام سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ ملک کا نظام انصاف شفاف بنا دیا جائے گا۔ قرض سے قومی کی جان چھڑا دی جائے گی۔ روزگار عام ہوگا، قانون کا احترام یقینی ہو گا، کسان خوشحال اور مزدور آسودہ ہو گا مگر ایک بارش برستی ہے اور حکمرانوں کے وعدے ڈوب جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں معاشرے ترقی نہیں کرتے ترقی معکوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی بدعنوانی کے خاتمہ اور معاشی ترقی کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ بدعنوانی صرف قانونی جرم نہیں اخلاقیاتی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ عوام بدعنوانی کے خاتمہ کی کوششوں میں حکومت کی حمایت کر رہے ہیں غالباً صدر مملکت نے اسی بات کو اخلاقی ترقی سے تعبیر کر کے خوش آئند معاشی مستقبل کی بات کی ہے۔