لاہور (رانا محمد عظیم )حکومت کے خلا ف مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے بھی بڑی تحریک چلنے کا خدشہ ہے ، یہ تحریک مختلف سیاسی جماعتوں کے آ شیرباد سے ان تمام اداروں کی ٹریڈ یونینز ، مزدور چلا سکتے ہیں جن اداروں کی نجکاری کا حکومت فیصلہ کر چکی ہے ۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں اپوزیشن کی مختلف سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ متوقع نجکاری کی زد میں آ نے والے اداروں کی ٹریڈ یونین سے رابطے شروع کرد یئے ہیں ،سب سے زیادہ رابطے پیپلزپارٹی ، ن لیگ اور جماعت اسلامی کی جانب سے کئے جا رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں انہیں یقین دہانی کروا رہی ہیں کہ نجکاری کے خلاف تحریک میں ہم ان کا ساتھ دیں گے ، پچیس نومبر تک گرینڈ اجتماع اسلام آ باد میں ہو گا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شرکت کرینگے ، اس اجتماع کے بعد ضلعی سطح پر باقاعدہ حکو مت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گا ، احتجاج کو تیز کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتیں باقاعدہ بھاری فنڈنگ کرینگی ۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تحریک کو پہلے مرحلے میں ٹریڈ یونین کے ذمہ دار ان چلائیں گے اور جب یہ تحریک تیز ہو جائیگی تو اسے پر تشدد تحریک بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں کے کچھ افراد بھی اپنا حصہ ڈالیں گے ، تحریک کا رخ اسلام آ باد کی طرف کیا جائیگا اور اس کے بعد ان ٹریڈ یونینز کا متحدہ گرینڈ الائنس بنایا جائیگا ، یہ سب کچھ مختلف سیاسی جماعتیں کر رہی ہوں گی مگر فرنٹ پر مزدوروں کو رکھا جائیگا تا کہ کسی بھی ایسی صورتحال جس میں کسی بڑے حادثے یا حکومتی اداروں پر حملے کا مسئلہ ہو تو سیاسی جماعتوں کا نام سامنے نہ آ ئے اور یہ سب کچھ مزدوروں ، ٹریڈ یونین کے ذمہ ہی پڑے ۔