اسلام آباد(سپیشل رپورٹر،این این آئی) اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں اقتصادی صورتحال پر حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ کے ایک بار پھر ایوان میں مسٹر ٹین پرسنٹ کے ریمارکس پر حکومت اپوزیشن میں کشیدگی اور تنائوکی صورتحال پیداہوگئی ۔ راجہ پرویز اشرفنے کہا کہاس کے باوجود کہپارلیمنٹ کااجلاس ہورہاہے ، حکومت ایوان کا ماحول بہتر بنانے کی کوشش نہیں کررہی ۔گزشتہ روز بھی ایوان میں اقتصادی حالات پر بحث کی گئی، مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے واضح کیا کہ معاشی طورپر اصلاح احوال کرنی ہے تو حکمرانوں کو جانا پڑ یگا۔ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے پر اعتراض نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی من و عن شرائطکو تسلیم کرنے پر ہے ۔ حکومت کے انتقامی ایجنڈے کی وجہ سے ہر کوئی ملک سے سرمایہ نکال رہا ، حکومت آٹا اور چینی مافیا کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے ۔ مولانا اسعد محمود نے کہاکہ سازش کے ذریعے ان حکمرانوں کو لایا گیا ۔ یقیناً اقتصادی حالات پر بلاول اور شاہد خاقان عباسیکی باتیں تقاریر کی حد تک تسلیم کرتا ہوں مگر ان کوحکومت کیخلاف میدان میں بھی آنااورقوم کا ساتھ دیناہوگا۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ معیشت کے معاملے پرسیاست نہ کی جائے کیونکہ اب وقت ہوش کرنے کا ہے ،حکومت اور اپوزیشن کو ملکی معاشی معاملات پر ایک ہونا پڑ یگا۔خسرو بختیار کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے آٹا آٹا کے نعرے لگائے ۔پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سابق صدر کے حوالے سے متنازعہ ریمارکس پر معذرت نہیں کی گئی،جب وزرا گالیاں دیتے ہیں تو جواب میں گالیاں عمران خان کو پڑتی ہیں جس کا وزیر اعظم کو نوٹس لینا چاہیے ۔ اسمبلی نے متفقہ طورپر کرونا وائرس سے نمٹنے کی چینی کوششوں کی حمایت میں قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر طرح سے چینی عوام کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ جمعہ کو قرارداد مسلم لیگ (ن )کے رکن خواجہ آصف نے پیش کی تھی۔ ادھراجلاس میں شہریار آفریدی نے کہاکہ نوجوانوں اور خاص طور پر ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات پھیل چکی ہیں۔ ایک مدرسے کے معلم نے کہا کہ منشیات استعمال کریں آپ کا حافظہ درست ہو جا ئیگا۔شہریار آفریدی کے اس بیان پر مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے کہا آپ نے جھوٹ بولا، ایک مدرسے کے نام پر تمام مدارس کو بدنام نہیں کرنے دینگے ۔مدرسے کا نام لینے پر ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا جس پر شہریار آفریدی نے کہا میں نے کسی مدرسے کا نام نہیں لیا۔اسعد محمود نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمن کیخلاف بیانات دینے والے وزرائاپنی پوزیشنواضح کریں وہ کس کی ہدایات پر یہ بیانات دے رہے ہیں۔ سپیکر اسد قیصر نے گزشتہ روز ارکان کی جانب سے ایک دوسرے پر ذاتی حملوں پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے رولنگ دی کہ مہنگائی پر بحث کے دوران جو باتیں ہوئیں وہ پارلیمنٹ کے وقار کے خلاف ہیں،اب آئندہ کسی بھی رکن،چاہے وہ حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے نے ذاتی حملہ کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پی آئی اے کی خسارے میں چلنے والی فلائٹس کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ایوی ایشن ڈویژن کے تحریری جواب کے مطابق قومی ایئر لائن کو 18 بین الاقوامی روٹس پر 454 کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے ۔گزشتہ 10 سال میں پی آئی اے کو ہونے والے نقصانات اور بھرتیوں کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی گئیں۔ وزیر تعلیم نے تحریری جواب میں انکشاف کیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا عمل مارچ کے پہلے ہفتے میں شروع کردیا جائیگا۔ صدر مملکت کے بیرونی دوروں،روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے اخراجات،یونیورسٹیوں میں منشیات کے تدارک کیلئے اقدامات، سرکاری ٹی وی پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کو دیئے گئے وقت کی تفصیلات اور فیڈرل ایجوکیشن بورڈ کی جانب سے مختلف بینکوں میں کی گئی سرمایہ کاری کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ بعدازاں اجلاس آج تک ملتوی کردیا گیا۔