لاہور(رپورٹ :بابر علی /تصاویر : رانا عرفان) اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہ میں غیر معمولی اضافہ کے اقدام کو شہریوں نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی منسوخی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی اپنے ساتھ غریب عوام کی دادرسی کے لئے بھی کوئی ایسی ہی قرار داد مل کر منظور کریں نہیں تو یہ اضافہ بھی واپس ہو نا چاہیے ، سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے ۔’روزنامہ 92نیوز ‘ سروے میں گفتگو کر تے ہوئے شہری محمد سلیم نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو شرم آنی چاہیے ، انہیں ہم عوام کے مسائل حل کر نے کے لئے منتخب کر تے ہیں اور وہ صرف اپنے لئے سوچ رہے ہیں ۔ ہارون اعجاز نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنی تنخواہ دگنی سے بھی زیا دہ کر لی ہے ، یہی اصول سرکاری اور نجی اداروں میں کام کر نے والے افراد پر بھی لاگو ہونا چاہیے ۔ شہزادہ خرم نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان ویسے تو ہر معاملے میں ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں لیکن جہاں مشترکہ مفاد کی بات آئے وہاں اکٹھے ہو جا تے ہیں ۔ عباداﷲ نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے ثابت ہو گیا کہ ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہی روایتی سیا ستدان ہی پرانے انداز میں ملکی نظام چلا رہے ہیں ۔ محمد نواز نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ فوری طور پر واپس ہونا چاہیے نہیں تو اگلی بار پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دوں گا۔ بلال نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو کبھی دس فیصد سے زیا دہ اضافہ نہیں کر تے اور اپنی تنخواہ میں اپنی مرضی سے سو فیصد سے بھی زیا دہ اضافہ کر لیتے ہیں ، سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے ۔ مقصود نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ غریب عوام کے ساتھ زیا دتی ہے ۔ وقار نے کہا کہ ارکان اسمبلی ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہیں ، انہیں ملک کا اتنا خیال ہو تا تو یہ اپنی تنخواہ پہلے سے بھی آدھی کر تے ۔ سہیل، کامران اور ایوب نے کہا کہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ تبدیلی نعرہ لگانے والے حکومت میں آکر خود تبدیل ہو گئے ہیں ، عوام کا کوئی نہیں سوچتا ، ہر کسی کو بس اپنا پیٹ پالنا ہے ۔ عوام کو ایسے لوگوں کو آئندہ منتخب نہیں کرنا چاہیے ۔