لاہور(انور حسین سمرا)پنجاب کوآپریٹوبورڈ فار لیکوڈیشن نے مختلف شہروں میں اربوں روپے مالیت کی90 کنال کمرشل ورہائشی زمین واگزار کرانے اور ذمہ دار اہلکاروں و قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کے لئے ریفرنس نیب کو بھیج دیئے ۔زمین پر قبضہ مافیا نے بورڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے اور جعلی کاغذات کے ذریعے قبضہ کیا تھا جس سے محکمے کو اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا اور کوآپریٹو بنک سکینڈل کے متاثرین کو ادائیگیاں بھی متاثر ہوئیں۔ 16کنال اراضی لاہور کینٹ میں بند ہونے والی کارپوریشن نے حکومتی تحویل میں اثاثہ جات آنے کے بعد فراڈ اور بوگس ڈیل کے تحت نجی افراد کو فروخت کی جس سے بورڈ کو کروڑوں کانقصان ہوا۔ موضع اجودھا پور میں 12کنال 5مرلے زمین پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے غیر قانونی قبضہ کرکے فروخت کردیا جبکہ 19کنال 4مرلہ زمین کو جعلی رجسٹری اور فراڈ کے ذریعے فروخت کیا گیا جس پر بورڈ نے ریفرنس نیب کو بھیجا۔ضلع گوجرانوالہ میں 14کنال بورڈ کی ملکیتی زمین جعلی این او سی تیار کرکے فروخت کی گئی، زمین پر گزشتہ 15سال سے غیر قانونی قبضہ ہے جس پر ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کو حکم دیا گیا کہ وہ زمین واگزار کرائیں۔ گلبرگ لاہور میں واقع 4کنال 3مرلے کا بنگلہ بند ہونے والی کارپوریشن کے سابق سیکرٹر ی نے جعلی کاغذات کی مدد سے فروخت کیا جس پر بورڈ نے ریفرنس نیب کو تحقیقات کے لئے بھیجا ۔ راولپنڈی میں 5کنال 8مرلہ زمین پر غیر قانونی قبضہ کے بارے میں بورڈ نے پہلے ہی نیب کو 2007میں ریفرنس دائر کیا تھا لیکن پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ ضمنی ریفرنس بھیجا گیا ۔ حافظ آباد میں بورڈ کی 13کنال 8مرلے زمین پر مافیا نے قبضہ کررکھا ہے ۔موضع مراکہ میں 14کنال 18مرلے زمین پر معروف نجی ہاؤسنگ کالونی نے قبضہ کرکے نجی افراد کو فروخت کردی جس کا ریفرنس نیب میں دائر کیا جاچکا ہے ،نیب نے مزید تفصیلات طلب کرلیں جن کو جلد بھیجا جارہا ہے ۔ملتان میں 13 کنال زمین پر بھی غیر قانونی قابضین ہیں۔