مکرمی ! برٹش انڈیا کی دو ملکوں میں تقسیم کے وقت سے بھارت میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام سے شروع ہونے والی مذہبی عدم برداشت کی کیفیت سات عشروں سے زائد عرصے کے دوران ہزاروں مسلم کش فسادات، بابری مسجد کے انہدام اور سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی سمیت دل ہلا دینے والے واقعات سے عبارت ہے۔ کشمیر کے ایک حصے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف غاصبانہ و جابرانہ قبضہ جاری رکھنے اور 5اگست کے یکطرفہ اقدام کے بعد مسلسل کرفیو اور لاک ڈائون میں وہاں کی مسلم آبادی کے لئے زندگی کتنی دشوار ہوچکی ہے،اس کا آزاد ملکوں کے آزاد باسیوں کو کورونا وائرس سے بچائو کے لئے عوامی اعتمادیافتہ حکومتوں کے خود اختیار کردہ احتیاطی لاک ڈائون سے ہوچکا ہے جبکہ بھارت میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کو نام نہاد شہریت بل کے ذریعے بے وطن قرار دینے کے مووی حکومت کے فیصلے سے وہ گھنائونا چہرہ کھل کر سامنے آگیا جو کئی عشروں تک سیکولر ازم کی نقاب تلے چھپا رہا ہے۔ اس وقت لاکھوں بھارتی ہندوئوں اور دہشت گرد تنظیم آرایس ایس کے غنڈوں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل دے کر جس انداز میں وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنیکی کوشش کی جارہی ہے وہ اقوام متحدہ کی فوری توجہ کی اس بنا پر متقاضی ہے کہ عالمی ادارے کی قراردادوں کو کھلے بندوں روندا جارہا ہے۔رمضان المبارک کے مقدس ماہ کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔یہ صورتحال عالمی امن کے لیے تباہ کن ہے۔ (ڈاکٹر ایم عبداللہ تبسم)